======🌴======
صنف نازک کے حساس معاملات کے بارے میں رہنمائی
ایک تو بچیوں کے رشتے ملتے نہیں، اور جو ملتے ہیں وہ جھٹ پٹ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جاتے ہیں ـ
اس میں کوئی استثنیٰ نہیں، فرسٹ کزنز میں بھی طلاقیں ہو رہی ہیں جبکہ غیروں کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔ اسباب بھی بڑے پیچیدہ ہیں ، سوشل میڈیا نے لڑکیوں کو بولڈ اور منہ پھٹ بنا دیا ہے، تف تعلیم نے ان کو ٹف بنا دیا ہے جبکہ گھر بسانے کے لئے جو لچک اور برداشت درکار ہے وہ ان میں ناپید ہےـ
گھریلو زندگی میں ہمیشہ دو اور دو چار نہیں ہوتے کبھی پانچ اور کبھی تین بھی ہو جاتے ہیں ـ سوشل میڈیا پر Tit for Tat چلتا ہے مگر گھر میں نہیں چلتا ـ سسرال سے متعلق لوگوں کی گہری اسٹڈی کرنی پڑتی ہے ، ان کی عداوتوں کے بیک گراؤنڈ دیکھنا ہوتا ھے کہ ان کی کس کس کے ساتھ عداوت ہے ، وہ کس کا گھر میں آنا پسند کرتے ہیں۔ اس گھر کے دشمن اس گھر کی بربادی کے لئے دلہن کو نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دلہن کو یہ ہتھیار بننے سے بچنا چاہئے ،، ضروری نہیں جو محلے والی یا شوھر کی کوئی رشتے دار آپ سے محبت جتا رہی ہے وہ واقعی آپ سے محبت کرتی ہو ، وہ آپ سے محبت جتا کر بارودی سرنگ دبا رہی ہوتی ھے ـ
ایسے کسی بھی فرد سے آپ کا میل ملاپ جس سے سسرال والے چڑتے ہوں گھر اجاڑنے کی بنیاد بن جاتا ہے ، جب ساس اور بہو میں چپقلش شروع ہو تو ایسی عورتیں آپ کو بہت اچھی بلکہ ماں اور بہن کی طرح لگنا شروع ہو جاتی ہیں جو دلہن کی سائڈ لیتی ہیں اور ساس کی غیبت اور برائیاں کرتی ہیں ، جو اس کی نندوں کے اسیکنڈل اس کو بتا کر اسلحے سے لیس کرتی ہیں اور عورت اس جنگ میں کود پڑتی ہے جو ہر حال میں اسی کو ہارنی ہوتی ہے ـ میں ہمیشہ لکھتا ھوں کہ:
گھر قانونی پؤائنٹس سے نہیں بستے اور نہ روز جرگے لگانے سے بستے ہیں ،کوئی جج کوئی مولوی اور مفتی کسی کا گھر نہیں بسا سکتا اگر خود میاں بیوی وہ گھر بسانے پر راضی نہ ہوں ـ
آپ کو شاید تجربہ ھوا ہو کہ جب بس خراب ہو جاتی ہے تو جن کی جیب میں کرایہ ہوتا ھے وہ جھٹ اتر جاتے ہیں کہ دوسری بس پکڑ لیں ،، کچھ لوگ مل ملا کر بکنگ کر لیتے ہیں مگر جس کی جیب میں وہی کرایہ ہوتا ھے جو وہ کنڈکٹر کو دے چکا ہے ، وہ ڈرائیور سے بار بار اصرار کرتا ہے کہ یار ایک دفعہ پھر سیلف مار کر تو دیکھو ،، یار تم کوشش تو کرو ،، عورت وہی سواری ہے جو اپنا سب کچھ اس گھر پہ لٹا چکی ہوتی ہے لہذا اسی کو کوشش کرنا ہوتی ہے کہ یہ گھر سیلف سے نہیں تو دھکے سے ہی چل پڑے ،، اس لئے کہ ؎
تو نے تنکے سمجھ کے پھونک دیا ،
میری دنیا تھی آشیانے میں!!
کے مصداق مرد کو تین حرف نکالتے دیر نہیں لگتی ، اس کی جیب میں کرایہ ہوتا ھے وہ پھر سے گھر بسانے کی پوزیشن میں ہوتا ھے لہذا بےاحتیاطی پہ تیار رہتا ہے ، اگر ٹرک والا سامنے سے آ رہا ھے اور موٹر سائیکل کو دیکھ کر ٹرک کو سائڈ پہ نہیں کرتا تو موٹر سائیکل والا اس قانونی پؤائنٹ کو لے کر کہ میرا بھی سڑک پر حق ہے موٹر سائیکل کو سڑک سے نیچے اتارنے کی بجائے ٹرک سے ٹکرا نہیں دیتا بلکہ اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے ،،
خواتین اپنے رائٹس کے بارے میں بحث کرتی ہیں کہ ہمارے کوئی رائٹس نہیں ؟ رائٹس تو آپ کے ہیں مگر ایک بندہ دینے پہ تیار نہیں تو آپ کیا کریں گی ؟ نہ وہ خدا سے ڈرتا ہے نہ قانون سے ،، تو آپ رائٹس لیتے لیتے واپس ابا جی کے گھر چلی جائیں گی ؟ اس کی بجائے کچھ رائٹس کی قربانی دے کر اگر آپ گھر بچا لیں ،، اور بھائیوں بھاوج کے برتن دھو کر اور ان کے بچوں کی آیا بن کر جینے کی بجائے اپنے گھر کی غریب ملکہ بن کر رہیں تو بہتر نہیں ؟
سسرال میں تھوڑی مشکل بھی گزرے، والدین کے گھر پلٹ کر جانے سے بہتر ہی ہوتی ھے۔
لچک پیدا کرنا ، گنجائش نکالنا ، صبر کرنا اور اس لمحے کو نکل جانے دینا کہ جو گھر کو آگ لگا سکتا ہے عورت کا گھر بسانے کے لئے ضروری ہے ، اپنے رائٹس کے لئے آواز اٹھائیے مگر جب رائٹس ملنے کی بجائے اس گھر میں رہنے کا حق بھی ہاتھ سے نکلتا نظر آئے تو قدم پیچھے کر لیجئے ،، ہمیشہ آگے بڑھنا ہی جیت نہیں ہوتا۔
رسہ کشی میں وہی ٹیم جیتا کرتی ہے جو الٹے قدموں پیچھے ہٹنا جانتی ہے ـ
ساس کو مقابلے کی ٹیم سمجھ کر ٹکرا مت جایئے ، آپ کا اور ساس کا کوئی مقابلہ بنتا نہیں ،، اس کو ماں سمجھ کر اس کی ڈانٹ ڈپٹ کو تربیت کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیں اور اس کی مرضی کی بنتی چلی جائیں ، پہلے آپ اپنی ماں کی مرضی کی بنی تھیں اب اگر ساس آپ میں کچھ تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے تو یہ ایک فطری چیز ہے۔
گاڑی جب نئے مالک کے پاس جاتی ہے تو وہ اس کو اپنے مزاج اور ذوق کے مطابق سجاتا ہے ، نیا گھر لیا جائے تو بھی نئے مالک یا کرائے دار اپنے ذوق کے مطابق اس میں تبدیلیاں کرتے ہیں یہی کچھ بہو کے ساتھ سسرال میں ہوتا ہے۔
اب آخری بات جو سب سے اہم ہے اور وہ ہے سسرال کی رازداری،،، گھروں میں ڈھیر سارے معاملات ہوتے ہیں جو کوئی بھی پسند نہیں کرتا کہ باہر نکلیں، جس طرح بہو اپنے میکے کے پردے رکھتی ہے اسی طرح اس کو سسرال کے پردے رکھنے ہوں گے ، اپنے میکے جا کر اپنے سسرال کا تھیٹر لگانا خود اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھانے والی بات ہے۔ سسرال آپ کا اپنا گھر ہے، اپنی بادشاہی ہے اور آپ کی اولاد کا مستقبل ہے، لہذا کبھی بھی اپنے میکے والوں میں اپنے سسرال کی برائی مت کیجئے ـ گھوم پھر کر بات نکل جاتی ہے اور آپ سسرال کی نظروں سے گر جاتی ہیں ـ
اپنی اس حیثیت کو اگر عورت سامنے رکھے گی تو کبھی گھر نہیں اجڑے گا ،، بہت ساری قربانیوں اور ڈھیر سارے وقت کے بعد پھر وہ وقت آتا ہے جب بہو ساس بن جاتی ہے ،،
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ!!!
قاری حنیف ڈار
========================