=====🌻=====
عظیم نفع
ام محمد سلمان
”ہمیں نہیں جانا ان کے گھر۔ جب وہ ہم سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تو ہم کیوں رکھیں! گھر سے فالتو ہیں کیا؟“
”فائزہ… فائزہ…!! بات کو سمجھا کرو! یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔ حسیب بھائی کوئی دور پرے کے رشتے دار نہیں وہ میرے بڑے بھائی ہیں اور اس وقت ان کا بیٹا بہت سخت بیمار ہے۔ آئے دن ڈاکٹروں کے چکر لگ رہے ہیں. ان کا پورا گھر پریشان ہے۔ عاتکہ بھابھی کی حالت تو بہت ہی خراب ہے۔ وہ دانیال کی وجہ سے بہت فکر مند ہیں۔“ بلال نے پوری تفصیل بیان کی۔
”ہوتی رہیں فکر مند!! جب ہمارے بچے بیمار ہوتے ہیں تو وہ آتی ہیں ہمارے گھر؟ انھیں تو کبھی توفیق نہ ہوئی۔ ارے بھئی وہ امیر ہوں گے تو اپنے لیے! اور میں پوچھتی ہوں یہ امیر دولت مند لوگ رہتے کس زعم میں ہیں!! ان کی دولت سے دوسروں کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے جو گردن اکڑائے پھرتے ہیں لوگوں کے سامنے!!“
”اوہو… فائزہ! اب یہ تم نے کون سی باتیں شروع کر دی ہیں۔ چھوڑو ان سب باتوں کو اور چلنے کی تیاری کرو پلیز۔“
”میں نے کہہ دیا ناں میں نہیں جاؤں گی۔“ فائزہ قطعیت سے بولی اور اپنی چھوٹی بیٹی کی طرف متوجہ ہو گئی جو ہاتھ میں کوئی کھلونا لیے ماں کی طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔
”اگر تمہارا فائدہ ہو رہا ہو…. تو پھر بھی نہیں جاؤ گی؟“ فائزہ کے شوہر بلال نے ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا.
”فائدہ… کیسا فائدہ…؟“ فائزہ نے چونک کر پوچھا.
”ارے تم چلنے کی تیاری تو کرو! میں گاڑی نکالتا ہوں باقی باتیں راستے میں کریں گے۔“
اور فائزہ بادل نخواستہ تیار ہونے چل دی۔
”جی اب بتائیے.. کیا فائدہ ہو رہا ہے ہمارا اس میں؟“ فائزہ گاڑی میں بیٹھتے ہی بولی.
”ارے فائزہ بیگم!! گاڑی تو اسٹارٹ کر لینے دو۔ راستے میں بتاتا ہوں نا!!“ بلال مسکراتے ہوئے بولا۔
”ہمممم!! ویسے مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہی ہے۔ آپ مجھے عاتکہ بھابھی کی طرف لے کر جارہے ہیں تاکہ ہمارے تعلقات ان سے بہتر ہو جائیں اور پھر واپسی میں مجھے شاپنگ کرواتے ہوئے لے کر جائیں گے.. ہے نا!! یہی بات ہے نا؟؟؟“ فائزہ خوش ہوتے ہوئے بولی.
ہاہاہاہا.. بلال کو زور سے ہنسی آئی…
”ارے فائزہ بیگم! کبھی شاپنگ سے ہٹ کے بھی کچھ سوچ لیا کرو اور بھی کام ہیں دنیا میں شاپنگ کے سوا….“
”اچھا……!!!! فائزہ کچھ سوچتے ہوئے بولی… پھر ایسا ہے کہ آپ مجھے واپسی میں امی کے طرف لے کر جائیں گے۔ ہے ناں؟“
”لو بھلا… امی کی طرف جانا بھی کوئی بڑا فائدہ ہے، وہ تو تم جب کہو میں تمہیں لے جاتا ہوں. ہفتے میں ایک چکر تو لگا ہی لیتی ہو امی کی طرف۔“
”ارے تو پھر کیا بات ہے، کون سا فائدہ ہے میرا؟ بتائیے ناں!! پہیلیاں کیوں بجھوا رہے ہیں؟“
”دیکھو فائزہ! یہ شاپنگ اور ملنا ملانا تو بہت عام سے فائدے ہیں. میں تو تمہیں ایک بہت خاص اور بہت بڑے فائدے کے لیے لے کر جا رہا ہوں۔“ بلال نے سنجیدگی سے کہا۔
”اللہ!!!!!!! اب بتا بھی دیں بلال.. مجھے تو ہول اٹھنے لگے ہیں۔ گھبراہٹ سی ہو رہی ہے۔ پتا نہیں کس فائدے کی بات کررہے ہیں آپ!“عظیم نفع کہانی جاری ہے
”ارے بتاتا ہوں میری پیاری بیوی بتاتا ہوں۔“ بلال آہستہ رفتار سے ڈرائیونگ کررہا تھا تاکہ راستہ ختم ہونے سے پہلے ہی فائزہ کی اچھی طرح ذہن سازی کر سکے۔ اور یہ خاص بات بتانے کے لیے اس نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی جہاں آگے تک درختوں کی لمبی قطار جا رہی تھی۔
فائزہ منتظر سی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بلال نے بات شروع کی…
”دیکھو فائزہ! فائدہ ہمیشہ دنیا کا ہی نہیں ہوتا، آخرت کا فائدہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے بلکہ بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا تو صرف گزارے کی جگہ ہے، ہمارا اصل گھر تو آخرت ہے جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ اور ہمیشہ آخرت کے فائدے کو دنیا کی باتوں پر ترجیح دینی چاہیے۔ کیوں… کیا خیال ہے؟“
”جی یہ تو آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔“ فائزہ بھی آج کل قرآن کے درس میں شرکت کرنے جاتی تھی اور دین کو کافی حد تک سمجھنے لگی تھی۔ اس لیے بلال کی طرف ہمہ تن گوش ہو گئی۔
بلال بات جاری رکھتے ہوئے بولا… ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:
”جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو جاتا ہے تو واپس ہونے تک مسلسل جنت کے باغ میں رہتا ہے۔“ (مسلم)
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
”جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے لیے صبح کو جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور اس کو جنت کا ایک باغ عطا کیا جاتا ہے۔“ (ترمذی)
”ماشاء اللہ سبحان اللہ…!“ حدیث سنتے ہی فائزہ نے بے ساختہ کہا۔
”ذرا غور کرو فائزہ… بیمار کی عیادت کرنے پر رب العالمین نے کتنے عظیم ثواب سے نوازا ہے اپنے بندوں کو، کہ صبح جائے تو صبح سے شام تک اور شام کو جائے تو شام سے صبح تک، ایک دو نہیں پورے ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں کہ اے اللہ! اپنے اس بندے کو بخش دیجیے جو اپنے بیمار بھائی کی مزاج پرسی کو چلا ہے۔ اور پھر اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہے جو خاص طور پر مریض کی عیادت کرنے پر اسے دیا جائے گا۔ اور جب تک وہ بیمار کے پاس رہا تو گویا وہ جنت کے باغوں میں پھل چنتا رہا۔
ہیں نا عظیم الشان فائدے! اور بیمار کی عیادت کرنے کی تو اور بھی فضیلتیں ہیں لیکن ہم اس ایک فضیلت کو ہی یاد رکھ لیں تو کتنا بڑا فائدہ حاصل ہو جائے ہمیں۔
ہے ناں!!“ بلال نے فائزہ سے تائید چاہی.
”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بلال…“ فائزہ کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے۔ نرم دل فائزہ نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کا ذکر سنتے ہی اپنے دل کو جھکا لیا تھا اور بولی….عظیم۔نفع کہانی جاری ہے
”ہم انسان بھی کتنے نادان ہیں، ذرا ذرا سی بات کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی آخرت کا کتنا نقصان کر لیتے ہیں۔ اپنی ضد اور انا کو لے کر بیٹھے رہتے ہیں اور اللہ، رسول کی تعلیمات کو بھول جاتے ہیں جن میں سراسر ہمارا فائدہ ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ بلال کہ آپ نے اتنی خوب صورت حدیث مجھے سنائی اور میرے دل و دماغ کو ہلکا پھلکا کر دیا اور میرے اندر نیکی کے جذبے کو پروان چڑھا دیا۔ اب مجھے بے تحاشا خوشی ہو رہی ہے کہ میں ایک عظیم نیکی کی طرف جا رہی ہوں۔
میں اپنے دل کو تمام غصے اور شکایتوں سے پاک کرتی ہوں اور خالص اللہ کی رضا کے لیے مریضوں کی بیمار پرسی کا عہد کرتی ہوں. اب میں کبھی یہ نہیں سوچا کروں گی کہ جو دوست احباب اور رشتے دار ہمارے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں تو ہم بھی صرف انہی کے دکھ سکھ میں شریک ہوں گے بلکہ اس بیش بہا انعام کو حاصل کرنے کی نیت ہمیشہ دل میں رکھتے ہوئے بیماروں کی مزاج پرسی کیا کروں گی۔ ان شاء اللہ العزیز۔“
فائزہ نے ایک جذب سے کہا اور بلال نے مطمئن ہو کر گاڑی آگے بڑھا دی۔
عظیم نفع کہانی آپ نے پڑھی کیا سیکھا؟