458

عید کی نماز اور خواتین

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

اگر ہم دنیا کی مختلف قوموں کے کلچر کا مطالعہ کریں تو ہر قوم کوئی نہ کوئی دن اپنی خوشیاں منانے کے لیے مختص کرتی ہے جس تہوار کا نام دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا بھی ایک خاص تہوار ”عید الفطر“ ہے جو رمضان کے روزوں کے فوراََ بعد شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے۔

حدیث مبارکہ ہے “إِنَّ لِكُلِّ قَوْم عِيدًا (صحيح البخاری:2/ 21)​
بیشک ہر قوم کے لئے ایک عید اور تہوار ہے ۔​

عید کا تہوار نماز عید کی ادائیگی کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے ۔ عید کی نماز باجماعت عید گاہوں میں اداکی جاتی ہے ۔۔ مردوں کے علاوہ خواتین کی ایک بڑی تعداد عید کی نماز ادا کرتی ہے آج ہم احادیث کے روشنی میں خواتین پر عیدکی نماز کی فرضیت کے حوالے سے جائزہ لیں گے۔

خواتین کا عید گاہ اور حائضہ عورت کے لیے دعا کا حکم

حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں۔

“أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ عَنْ مُصَلاَّهُنَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا”

ہمیں عیدین میں جوان اور حائضہ عورتوں کو عید گاہ لے جانے کا حکم دیا گیا، وہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعا میں شریک ہونگی اور حائضہ عورتیں مصلیٰ (نماز کی جگہ ) سے الگ رہیں گی ایک عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہوتو ؟ آپ نے فرمایا : چاہئے کہ اسے اس کی کوئی ساتھی اپنی زائد چادر دیدے ۔

(صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري 1/ 99)​

اور ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ‎ نے فرمایا :

پردہ دار خواتین اور حائضہ عورتوں کو بھی جانا چاہئے ، حائضہ عورتیں مصلیٰ سے الگ رہیں گی اور خیر اور مسلمانوں کی دعامیں شریک ہوں گی، میں نے ان سے کہا : کیا حائضہ عورتیں بھی جائیں گی ؟ انھوں نے کہا: ہاں ، کیا حائضہ عورت عرفات اور فلان فلاں (مقامات مقدسہ) نہیں جاتیں ہیں؟

(بخاری :۲/٤٦٩)​

ان احادیث سے ذہن میں جو عورتوں کے عیدگاہ جانےکا شبہ پیدا ہوتا تھا اس کی گنجائش نہیں رہی ۔ کچھ لوگوں کے خیال میں عورتوں کو عید گاہ نماز پڑھنے کے لئے نہیں جانا چاہئے بلکہ انہیں محلہ کی مسجد میں نماز عید پڑھ لینا چاہئے حالانکہ حضرت ام عطیہ کی احادیث کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ‎ کے عہد مبارک میں عورتیں بھی عید گاہ جایا کرتی تھیں ، اور وہیں آپ ﷺ‎ کے پیچھے نماز ادا کرتی تھیں اور آپ انھیں بعد میں خطبہ دیتے اور نصیحت فرماتے تھے، ایسا بالکل نہیں تھا کہ عورتیں مسجد میں نماز عید پڑھیں اوررسول اللہ ﷺ‎ مردوں کے سا تھ میدان میں ادا کریں۔

نماز عید باجماعت واجب ہے مگر عورت کی امامت جائز نہیں

نبی پاکﷺ‎ نے عورتوں کی امامت کو ناپسندیدہ فرمایا ہے ہاں مگر عورت مرد کی امامت کے پیچھے نماز پڑھ سکتی ہیں۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے نماز ادا کی۔ (احمد، نسائی)

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کی ماں یا خالہ کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور عورت کو ہمارے پیچھے کھرا کر دیا۔ (احمد، مسلم، ابوداؤد)

قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ دونوں احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ جب جماعت کے امام کے ساتھ ایک آدمی اور ایک عورت ہو تو آدمی دائیں جانب اور عورت ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گی۔ وہ مردوں کے ساتھ صف میں شامل نہیں ہو گی اور اس کا سبب فتنے سے ڈرنا ہے۔ (نیل الاوطار 3/204)

اسی طرح خواتین گھر میں عید کی نماز ادا کر سکتی ہیں نہ مسجد میں عید کی امامت کروا کر الگ نماز ادا کر سکتی ہے نہ ہی مردوں کے برابر کھڑے ہو کر پڑھنے کا حکم ہے بلکہ پردہ میں رہتے ہوۓ امام کے پیچھے نماز عید ادا کر سکتی ہیں۔

نماز عید کی فضیلت

عید کی نماز کی فضیلت مرد اور عورت دونوں کے لیے برابر ہے۔ عید کی نماز دو رکعت واجب اور نماز عید کے بعد خطبہ سننا مرد و خواتین دونوں کے لیے لازم ہے۔

عید کی نماز کے بعد ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دینے کی فضیلت کا بھی بیان ہے۔

جبير بن نفير نے فرمایا عيد كے دن نبى كريم ﷺ‎ اور صحابہ كرام ايک دوسرے كو ملتے تو وہ ايک دوسرے كو يہ الفاظ كہا كرتے تھے۔
” تقبل منا و منك ” آپ اور ہم سے قبول ہو.
ابن حجر رحمہ كہتے ہيں, اس كى سند حسن ہے.
فتح البارى ( 2 / 446 ).

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں