257

غریب صحابہ (جن کی ایک بیوی ہو)

تحریر شئیر کریں

عربوں میں غریب اس شخص کو کہتے ہیں جس کی ایک بیوی ہو، یعنی فلاں اتنا غریب ہے کہ اس کی ایک بیوی ہے۔ اس حوالے سے اس آرٹیکل کا عنوان ہے: “غریب صحابہ (جن کی ایک بیوی ہو)”۔

ایک ہی شادی کرنے والے صحابہؓ

کسی نے پوچھا کہ ایسے کسی صحابی کا نام بتائیں جنہوں نے زندگی میں صرف ایک شادی کی ہو؟ تلاش کے باوجود کوئی نام ذہن میں نہیں آیا۔ مجبوراً کتبِ سیرت صحابہ کی طرف رجوع کرنا پڑا۔

کتب کے مطالعہ میں بھی کوئی ایسا صحابی سامنے نہ آیا جنہوں نے طویل عمر پائی ہو اور ایک ہی شادی کی ہو۔ البتہ کچھ اصحابِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نظر آئے جنہوں نے پہلی شادی کی اور جلدی ہی شہید ہوگئے یا شادی سے پہلے ہی شہادت پا گئے۔

کافی جستجو کے بعد ایک ہستی ملی جنہوں نے طویل عمر پائی اور صرف ایک بیوی سے نکاح کیا۔ وہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کی وفات تک حضرت ام ذر رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی بیوی نہیں تھی۔ ان کا مسلک درویشانہ تھا اور ترکِ دنیا پر مبنی تھا۔ بعض مورخین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی خاتون سے شادی نہیں کی تھی۔

اگر آپ کو ایسے کسی اور صحابی کا نام معلوم ہو تو مطلع فرمایئے گا۔ جزاکم اللہ۔

تعدد ازواج اور عرب معاشرہ

آج بھی عرب ممالک میں ایک بیوی پر اکتفا کرنے کو تعجب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہاں دو یا تین شادیاں معمول کا حصہ ہیں۔ غالباً برصغیر کے مسلمانوں میں ایک سے زائد بیوی کو معیوب سمجھنے کی سوچ ہندوؤں کے کلچر سے ملی ہے۔

تاریخی تبصرے

ابن عباد کہتے ہیں کہ میں کئی ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو لوگوں کے حالات زندگی مرتب کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تو وہ یوں لکھتے کہ فلاں شخص فوت ہوگیا اور اس کے نیچے فلاں فلاں تھیں یعنی اس کی بیویاں۔ لیکن جب کسی ایسے شخص کے حالات لکھتے جس کی ایک ہی بیوی ہوتی تھی تو یوں لکھتے کہ فلاں شخص فوت ہوگیا اور اس کے اوپر فلاں تھی یعنی بیوی۔

ابن سینا کہتے ہیں کہ جس کی ایک ہی بیوی ہو، وہ جوانی میں بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اسے ہڈیوں، کمر، گردن اور جوڑوں کے درد کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی مایوسی بڑھ جاتی ہے، محنت کم ہو جاتی ہے، ہنسی اڑ جاتی ہے اور وہ ہر وقت شکوے شکایات کرتا رہتا ہے۔

قاضی ابو مسعود کہتے ہیں کہ جس کی ایک بیوی ہو، اس کے لیے لوگوں کے مابین فیصلے کرنا جائز نہیں یعنی اس کا قاضی بننا درست نہیں کیونکہ وہ ہر وقت غصے کی حالت میں ہوگا اور غصے میں فیصلہ جائز نہیں۔

ابن خلدون کہتے ہیں کہ میں نے پچھلی قوموں کی ہلاکت پر غور و فکر کیا تو میں نے دیکھا کہ وہ ایک ہی بیوی پر قناعت کرنے والے تھے۔

ابن میسار کہتے ہیں کہ اس شخص کی عبادت اچھی نہیں ہو سکتی جس کی بیوی ایک ہو۔

تاریخی تبصرے

عباسی خلیفہ مامون الرشید سے کہا گیا کہ بصرہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی ایک ہی بیوی ہے۔ مامون الرشید نے کہا کہ وہ مرد نہیں ہیں۔ مرد تو وہ ہیں جن کی بیویاں ہوں۔ اور یہ فطرت اور سنت دونوں کے خلاف چل رہے ہیں۔

ابن یونس سے کہا گیا کہ یہود و نصاری نے تعدد ازواج کیوں چھوڑ دی۔ انہوں نے جواب دیا، اس لیے کہ اللہ عزوجل ذلت اور مسکنت کو ان کا مقدر بنانا چاہتے تھے۔

ابو معروف کرخی سے سوال ہوا کہ آپ کی ان کے بارے کیا رائے ہے جو اپنے آپ کو زاہد سمجھتے ہیں لیکن ایک بیوی رکھنے کے قائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زاہد نہیں بلکہ مجنون ہیں۔ یہ ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے زہد کو نہیں پہنچ سکے۔

اگر آپ کو ایسے کسی اور صحابی کا نام معلوم ہو جو طویل زندگی پانے کے باوجود ایک ہی بیوی پر اکتفا کیے رہے، تو براہ کرم مطلع فرمایئے گا۔ اس آرٹیکل کا مقصد تاریخ کے ان گوشوں کو اجاگر کرنا ہے جو تعدد ازواج کے حوالے سے ہمارے معاشرتی روایات اور اسلامی تعلیمات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں۔

غریب صحابہ (جن کی ایک بیوی ہو)

–

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں