323

غیبت کہانی

تحریر شئیر کریں

امن کی دشمن غیبت کہانی

امن پور کی خوشحال وادی ،پرسکون ماحول ،محبت کرنے والے لوگ ،سچے جذبات سے لیس عوام اور زندگی سے مطمئن لوگ۔
ہر شر اس وادی سے حسد کرتا ۔
کسی غلط کام کی گنجائش نہ رہتی ۔
عاجزی ،انكساری ، مخلصی ،ہمدردی اور انسانیت میں گندھے لوگ ،ہر بستی والے ان کے امن واتحاد کی مثال دیتے ۔
جھوٹ ،حسد ،چالاکی اور مکار ی جیسے لوگ دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ۔اپنے اندر زہر سموےّ ہوئے وہ راکھ ہوتے رہتے ۔
اک دن حسد کے گھر بیٹی نے جنم لیا جسکا نام “غیبت “رکھا گیا ۔
وقت گزرتا گیا امن وادی کا اتحاد بڑھتا گیا ۔
غیبت نے بھی شیطانی روپ دکھانا شرو ع کر دیا ۔آج غیبت نے ضد کی کہ مجھے کسی خوب صورت مقام کی سیر کروائی جائے ۔


جھوٹ اور حسد اچھی طرح سی اپنی اوچھی حرکات سے واقف تھے ۔جس بنا پر ہر وادی نے ان کے خاندان سے قطع تعلقی کر رکھی تھی ۔لیکن بچی کی ضد پوری کرنا تھی جس کے لئے حسد کو امن پور کے دیے سے روشنی کی چمک نظر آئی ۔”جھوٹ میا ں ! امن پور کے لوگ رحم دل اور شفیق ھیں وہ ہمیں ضرور اجازت دے گے ۔”


اگلے روز غیبت زہر یلی زبان اور کھوٹی نیت کا ٹوکرا اٹھائے والدین کے ہمراہ چل دئ۔
پھلے دن ہی غیبت کے زہر نے رنگ دکھانا شرو ع کر دیا ۔چند لوگ الگ الگ ٹولیوں میں بٹنا شرو ع ہو گے ۔
گِلے شکوے شرو ع ہو گئے ۔


غیبت کا زہر امن پور کی ایمان دار مٹی میں گھل چکا تھا ۔
آج امن پور کی زر خیز زمین کی جگہ اک بنجر ،خزا ں رسیدہ ،جہاں غیبت کا دوردورہ ہے۔
ازقلم: اقرا ء ملک ۔

غیبت کہانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں