217

لومڑی الو اور شاہی دعوت

تحریر شئیر کریں

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے، جنگل میں ایک لومڑی رہتی تھی جو سیاست کے ہنر میں طاق تھی، زبان میں چاشنی، دماغ میں چالاکی۔ دن بھر درباروں اور جھاڑیوں کے بیچ پھرتی، حالات کا اندازہ لگاتی اور نئی چالیں سوچتی۔

ایک روز خبر اڑتی آئی کہ دور دیس کے مشہور الو — ڈونلڈ اُلوپیا — نے پیغام بھیجا ہے:
“اے پاکستان نگر کے جنگل والو! آئی لو یو!”

یہ سن کر پورا جنگل ششدر رہ گیا۔ ہاتھی، بھیڑیے، ہرن سب سوچ میں پڑ گئے: “یہ کیسی یاری ہے؟ کس مصلحت کا پیغام ہے؟”

بوڑھا کوا جو برسوں سفارت کاری میں گھسا رہا تھا، بولا:
“بھائیو! مجھے یاد آ رہا ہے بزرگ ہنری اُلوگر کا فرمان:
جو امریکہ نگر سے دشمنی کرے، دشمن ٹھہرے
جو دوستی کرے… مارا جائے!”

اب جنگل کے بادشاہ، شیر سنگھ جی، نے دربار بلایا۔ دربار میں لومڑی بھی پہنچی۔
بادشاہ نے پوچھا:
“اے چالاکی کی رانی! بتا، یہ ‘آئی لو یو’ کا مطلب کیا ہوا؟”

لومڑی نے مسکرا کر کہا:
“جہاں پناہ! اِس محبت نامے کا جواب یوں نہ ہو کہ کل ہمیں کہہ دیا جائے ‘آئی لو یو آل’… اور یوں پوری قوم محبت میں ڈوب جائے۔ احتیاط کا تقاضا ہے کہ پہلے اپنا ‘کچن’ سنبھالیں، تاکہ باہر کی آگ اندر نہ پھیل جائے۔”

سب درباری سر ہلانے لگے۔
بوڑھا کوا بولا:
“درست فرمایا! جب باہری دھواں اٹھ رہا ہو، تو چولہا بچا کر رکھنا ہی عقلمندی ہے۔”

تب شیر سنگھ نے اعلان کیا:
“خبردار! جو بھی اس ‘آئی لو یو’ پر جلد بازی کرے۔ جب تک ہم خود کو مضبوط نہ کر لیں، باہر کی چمک دمک کے پیچھے نہ بھاگیں!”

یوں پوری رعایا سمجھ گئی کہ ہوشیاری، حکمت اور قومی وقار ہی بہترین جواب ہے۔
رات کو سب نے دعا کی:
“خیر ہو اس امت کی، کہ ہوش کے چراغ جلتے رہیں۔”

۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں