*تحریر: روبینہ شاہین*
سرد ہوائیں موسم گرم کو الوداع کہہ ر ہی تھیں، اوردوسری طرف مفلسی گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔ بچوں کے قہقہے ہر سو گونج رہے تھے۔ یہ رات کا پہلا پہر تھا، جب اکرم میاں اپنے چھوٹے سے گھر کے دروازے پر چپ چاپ کھڑے، پیسے گن رہے تھے۔ آدھی رات ہو چکی تھی، اور ان کی جیب میں بس چند سکے باقی رہ گئے تھے۔
اکرم میاں ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ سکون سے گزرا تھا، لیکن اب مہنگائی کے طوفان نے ان کی زندگی کو چیلنج بنا دیا تھا۔ گزر بسر کے لیے وہ مہینے کے پہلے دن ہی حساب کتاب کرنے بیٹھتے، تاکہ آخر تک گزارا ہو سکے۔ ان کے پاس اب محض ایک ہی امید رہ گئی تھی—احتیاط اور کفایت شعاری۔
کچھ دن پہلے، ان کے پوتے، علی نے ضد کی تھی کہ اسے ایک نیا کھلونا چاہیے۔ اکرم میاں نے اسے وعدہ کیا کہ جب اگلے مہینے کی تنخواہ آئے گی تو اسے کھلونا دلوا دیں گے۔ علی نے مسکرا کر ان کی گود میں سر رکھ دیا، مگر اکرم میاں جانتے تھے کہ حقیقت میں ان کے پاس کچھ زیادہ پیسہ بچنے والا نہیں۔
ایک دن ان کی بیٹی نسرین آئی اور کہنے لگی، “ابا، چیزوں کی قیمتیں دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں، ہم کیسے گزارا کریں گے؟” اکرم میاں نے مسکراتے ہوئے کہا، “بیٹی، یاد رکھو! ما عال من اقتصد—جو کفایت شعاری کرے، وہ کبھی تنگدستی میں نہیں آتا۔ ہم اپنی زندگی میں تھوڑی سی تبدیلیاں کریں گے۔”
اس کے بعد اکرم میاں نے فیصلہ کیا کہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بچت کریں گے۔ انہوں نے چائے کے وقت میں کمی کر دی، بجلی اور گیس کے استعمال پر احتیاط کرنے لگے، اور بازار جانے سے پہلے سوچ بچار کرتے۔ ان کا معمول بدل گیا، لیکن دل میں اطمینان اور سکون کا ایک نیا جذبہ پیدا ہوا۔
محلے والوں نے دیکھا کہ اکرم میاں کے چہرے پر ایک نئی چمک تھی۔ ان کے پاس فالتو پیسہ تو نہیں تھا، لیکن ان کی مسکراہٹ کسی قیمتی خزانے سے کم نہ تھی۔ وہ مہنگائی کے طوفان سے مقابلہ کرنے کے بجائے، اسے اپنا دوست بنا چکے تھے۔ احتیاط اور کفایت شعاری نے ان کے دل کو خوش کر دیا تھا۔
ایک دن، جمعہ کے خطبے کے دوران، اکرم میاں نے اپنے خطبے میں ایک حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: *”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ‘لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ’—اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔”* یہ الفاظ سن کر لوگ گہری سوچ میں پڑ گئے۔ اکرم میاں نے وضاحت کی کہ مہنگائی کی اس دور میں اگر ہم شکر گزار رہیں، تو اللہ کی رحمتیں بڑھیں گی۔ کفایت شعاری کے ساتھ شکر گزاری کو اپنانا ہمیں نہ صرف مالی طور پر مستحکم کرے گا بلکہ روحانی سکون بھی عطا کرے گا۔
ایک شام، جب علی نے اپنے دادا کے پاس آ کر کھلونے کی بات کی، تو اکرم میاں نے اسے پیار سے سمجھایا، “بیٹا، کھلونے زندگی کا حصہ ہیں، مگر ہم ان سے زیادہ قیمتی ہیں۔ ہم خوشی کو چھوٹے چھوٹے لمحوں میں ڈھونڈ سکتے ہیں۔”
وقت گزرنے کے ساتھ، اکرم میاں کی باتیں پورے محلے کے لوگوں کے لیے ایک سبق بن گئیں۔ ان کی کفایت شعاری کی مثال سب نے لی، اور محلے کے لوگ اب مہنگائی کے شکوے کے بجائے اپنی زندگیوں میں سکون کی نعمت کو تلاش کرنے لگے۔
اکرم میاں کی کہانی بس یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ ان کا پیغام گلیوں میں پھیلتا گیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ “ما عال من اقتصد”،میانہ رو کبھی مفلس نہیں ہوتا”اس میں زندگی گزارنے کا ایک سچا راز پوشیدہ ہے۔ اگر ہم شکر گزار رہیں اور اپنی ضروریات میں اعتدال برتیں، تو اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہوں گی، اور ہم کبھی بھی مشکلات نہیں ہوں گے۔