محرم الحرام کی رسومات و بدعات
تحریر: بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد
نازلی کی شادی اپنی ہی برادری میں ہوئی تھی۔ حنفی سنی خاندانی سادات تھے یہ لوگ۔ مگر پردہ نام کا تھا۔ مشہور تھا کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے اور ہمارے دلوں میں کوئی کھوٹ نہیں۔ اس نام نہاد سنی گھرانے میں ہر فرسودہ رسم رائج تھی۔ جس پر پابندی سے عملدرآمد کیا جاتا۔ ان رسومات باطلہ کو نہ ماننے والوں پر سختی کی جاتی اور جبراً و قہراً عمل کروایا جاتا۔ کہا جاتا کہ ہمارے باپ دادا کے زمانے سے یہ ریت چلی آ رہی ہے۔ ہم برسوں سے ان رسموں کی پیروی کرتے چلے آرہے ہیں ایسے کیسے چھوڑ دیں؟ خاندان کی کرتا دھرتا دادی اماں تھیں جن کے صادر کردہ احکامات کے آگے کسی بہو بیٹے کو چوں کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ عبادات سے زیادہ کھانا پکانے پر زور دیا جاتا سال کی ابتداء یعنی محرم الحرام میں شربت ، حلیم ، کھچڑا ، روٹ، ملیدہ، وغیرہ وغیرہ وافر مقدار میں بنا کر پڑوسیوں ، رشتے داروں اور بیٹیوں کے سسرالوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ بھیجا جاتا۔ یہی نہیں اصرار کر کے بدعتی پکوان پکوائے جاتے۔ اور جو ان بدعاتِ مروجہ سے برات کا اعلان کرتا اسے کینہ توز نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کے ایمان و عقیدے کو اپنی کسوٹی پر پرکھ کر خوب رگڑا جاتا۔ ایسے ایسے القابات سے نوازا جاتا کہ الامان الحفیظ۔ دادی اماں تو داعئ اجل کو لبیک کہہ کر منوں مٹی تلے جا سوئیں پیچھے چھوڑ گئیں اپنی رسوم و رواج جسے چاہتے نا چاہتے ہوئے بھی ان کے لواحقین فرض سمجھ کر نبھائے چلے جا رہے ہیں سارا سال پڑوسیوں کے حقوق سے بے خبر و انجان رہنے والے لوگ سبیلیں لگا کر ہر راہ چلتے کو پانی اور شربت زبردستی پلا رہے ہیں۔ نماز روزے کو پس پشت ڈال کر غیر ضروری کاموں میں دن رات کے قیمتی لمحات ضائع کیے جاتے ہیں۔ رت جگے کر کے حلیم کی دیگیں چڑھائی جاتی ہیں۔
مذہب اور ریت رواج دونوں کا تعلق انسانی زندگی سے ہے۔ مذہب ایک ایسے خاص رنگ میں رنگا ہوا ہے جو حیاتِ انسانی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اسی لیے مذہب اور رسومات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے بلکہ بہت سے رسوم مذہب پر مشتمل ہوتے ہیں۔ عرفِ عام میں محقیقین کی رائے کے مطابق وہ تمام عقلی و رواجی، اچھی باتیں رسومات میں شامل ہیں جو دینِ اسلام کے بنیادی اصول کے خلاف نہ ہوں اگر دین اسلام کے خلاف ہوں گی تو ان کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
دینِ اسلام سرزمینِ عرب میں نمودار ہوا، جب تک وہاں کی حدود میں رہا تب تک محدود رہا ، اس وقت تک مسلم سماج و معاشرہ اور ان کی طرز زندگی بالکل سیدھی سادی، ہر قسم کی رسومات و خرافات سے محفوظ رہی۔ جوں ہی اسلام عرب سے باہر نکل کر دوسرے ممالک میں پہنچا تو وہاں کی تہذیب و ثقافت کا اثر اسلام میں پھیلنا شروع ہوگیا۔ خصوصاً سرزمین ہند پر ان رسومات و خرافات کا اثر زیادہ ہوا کیوں کے برصغیر پاک وہند میں بے شمار قوموں کے اختلاف اور تہذیبوں کے ملاپ سے مختلف رسومات نے جنم لیا تھا۔ چونکہ برصغیر پاک وہند میں آنے والے مسلمان مختلف ممالک اور تہذیب و ثقافت سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا ان کے تہوار، رسومات و بدعات بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ کسی کا یومیہ ، کسی کا ماہانہ تو کسی کا سالانہ۔ الغرض یہ معاملات ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکے اور نہ جز مگر یہ پھر بھی تندہی کے ساتھ بڑے ہی اہتمام سے ان رسومات کو ادا کرتے رہے۔ مذہب اور ریت رواج دونوں کا تعلق انسانی زندگی سے ہے۔ مذہب ایک ایسے خاص رنگ میں رنگا ہوا ہے جو حیاتِ انسانی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اسی لیے مذہب اور رسومات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے بلکہ بہت سے رسوم مذہب پر مشتمل ہوتے ہیں۔ عرفِ عام میں محقیقین کی رائے کے مطابق وہ تمام عقلی و رواجی، اچھی باتیں رسومات میں شامل ہیں جو دینِ اسلام کے بنیادی اصول کے خلاف نہ ہوں اگر دین اسلام کے خلاف ہوں گی تو ان کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
دینِ اسلام سرزمینِ عرب میں نمودار ہوا، جب تک وہاں کی حدود میں رہا تب تک محدود رہا ، اس وقت تک مسلم سماج و معاشرہ اور ان کی طرزِ زندگی بالکل سیدھی سادی، ہر قسم کی رسومات و خرافات سے محفوظ رہی۔ جوں ہی اسلام عرب سے باہر نکل کر دوسرے ممالک میں پہنچا تو وہاں کی تہذیب و ثقافت کا اثر اسلام میں پھیلنا شروع ہوگیا۔ خصوصاً سرزمین ہند پر ان رسومات و خرافات کا اثر زیادہ ہوا کیوں کے برصغیر پاک وہند میں بے شمار قوموں کے اختلاف اور تہذیبوں کے ملاپ سے مختلف رسومات نے جنم لیا تھا۔ چونکہ برصغیر پاک وہند میں آنے والے مسلمان مختلف ممالک اور تہذیب و ثقافت سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا ان کے تہوار، رسومات و بدعات بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ کسی کا یومیہ ، کسی کا ماہانہ تو کسی کا سالانہ۔ الغرض یہ معاملات ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکے اور نہ جز مگر یہ پھر بھی تندہی کے ساتھ بڑے ہی اہتمام سے ان رسومات کو ادا کرتے رہے۔
محرم الحرام جس سے مسلمانوں کے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ بہت بابرکت و حرمت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک کے اندر پائی جانے والی غلط رسومات و خرافات اور بدعات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جن کے سبب اس ماہ مقدس کی نہ صرف بےحرمتی ہوتی ہے بلکہ اسلامی اقدار کا کھل کر مذاق بھی اڑایا جاتا ہے نیز شہدائے کربلا کی یاد منانے کے بہانے ایسے غیر شرعی کام سر انجام دیے جاتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔
چنانچہ لوگ محرم کا چاند دیکھتے ہی ہر خوشی والے کام خود پر حرام کرلیتے ہیں۔ بالخصوص نو دس محرم کو سیاہ لباس زیب تن کرتے ہیں، سیاہ جھنڈا بلند کرتے ہیں۔ تعزیے بنا کر جگہ جگہ نوحہ و ماتم کرتے پھرتے ہیں، بچوں کو محرم کا فقیر بنا کر بھیک منگواتے ہیں، فضول خرچ کرتے ہیں، ماتم کرتے ہوئے اپنے کپڑے پھاڑتے ہیں ،نوحہ کرتے ہوئے سینہ و چھاتی پیٹتے ہیں، ناچتے کودتے رقص کرتے ہیں، مردو زن ایک ساتھ مجلس ومحافل میں بیٹھتے ہیں، جھوٹے واقعات بیان کرتے ہیں، امام قاسم کی مہندی رچاتے ہیں، حضرت علی، حسنین کریمین یا دیگر بزرگوں کی تصاویر بنا کر ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں، ذوالجناح سجا کر اس کا احترام کرکے ان کو حقیقت کا رنگ دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ تو اہل تشیع کرتے ہیں۔ مگر مقام افسوس و المیہ یہ ہے کہ ان مروجہ رسومات و بدعات میں کئی سنی گھرانے بھی ملوث ہیں جو اس ماہ مبارک میں شادی بیاہ اور دیگر جائز تقریبات کو ممنوع سمجھتے ہیں۔ شام غریباں بصد شوق و احترام کے ساتھ دیکھتے اور سنتے ہوئے باقاعدہ گریہ زاری کرتے ہیں۔ سبیلیں لگاتے ہیں۔ حلیم کھچڑا اور ملیدہ بناتے ہیں۔ مجالس عزا و ماتمی محافل میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ تعزیوں کی قدم بوسی کرتے ہیں اور ان سے منتیں مانگتے ہیں۔ مرثیے بآواز بلند میں ڈیک پر لگاتے ہیں۔ اس طرح کی دیگر خرافات کا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں منایا جانا ، اہل فکر و نظر کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ یہ تمام من گھڑت ریت رواج ، بدعات و خرافات پر مبنی افعال ہیں جو کہ تعلیمی میدان سے دوری ، مذہبی شعار سے لاعلمی کے سبب ہیں۔ ان کا سد باب کرنے کے لیے امت مسلمہ کا اجماع ہونا اشد ضروری ہے۔
محرم الحرام کی رسومات و بدعات