304

مری ذات ذرہ بے نشاں

تحریر شئیر کریں

مری ذات ذرہ بے نشاں قسط 10

”کیا ہوا؟“ مردود حیران ہوا ”ایک واقعہ یاد آیا ہے۔ “ بوڑھے نے دوبارہ کہنا شروع کیا ۔ ” خیر میں پہلے اپنی بات پوری کر لوں۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا ۔ عورت بہت مجبور ہے۔۔ اور یہاں اس پر کمانے کی ذمہ داری بھی ڈال دی گٸی ہے ۔ یہ مسلمان چونکہ آدھے تیتر آدھے بٹیر ہو چکے ہیں ۔ مغرب کی تقلید میں عورت پہ گھر کی ذمہ داریاں بھی ڈال چکے ہیں اور مشرقی ہونے کی دھن میں خاندانی نظام بھی بچانا چاہتے ہیں تو اس میں کمزور اور معصوم عورتوں پہ ذمہ داریاں بڑھ گٸی ہیں ۔

وہ بیچاری اندر اور باہر دونوں طرف گھن چکر بنی ہیں اور ایک ایک فرد کو راضی کرنے کی فکر بلکہ خوف میں اپنا آپ بھول چکی ہیں ۔ ایسی عورت یا تو باغی ہو جاتی ہے یا بہت محتاط اور سمجھدار ۔ تمہاری بد قسمتی ہے کہ تمہیں کوٸی باغی عورت نہ ملی جسے ورغلا سکتے ۔۔ اور ایسی عورتیں تعداد میں بہت کم ہیں ۔ مجموعی طور پہ پاکستان کی عورت انتہاٸی سمجھدار تجربہ کار اور سلجھی ہوٸی ہے ۔ وجہ اس کا بہت سے مساٸل سے گزرنا اور بہت سی ذمہ داریوں سے نبٹنا ہے ۔

لہذہ کسی عورت سے تو زمانہ جاہلیت کا کوٸی کام کروانے کا خیال ہی چھوڑ دو ۔ عورت اگر عورت کی دشمن ہے بھی تو اس دشمنی کو انتہا پہ کبھی کبھار ہی لے کر جاتی ہے ۔ ورنہ بس تمام عمر ڈھیلی ڈھالی لڑاٸیاں ہی لڑتی رہتی ہے ۔ کیونکہ اس کی نظر چاروں طرف ہے ۔ اسے سانپ بھی مارنا ہوتا ہے اور اپنی لاٹھی بھی بچانا ہوتی ہے ۔۔۔ اب میں بتاتا ہوں کہ میں چونکا کیوں تھا! بوڑھا شیطان اتنا کہہ کر کھنکھارا ”ہاں بتاٶ!“ مردود ہمہ تن گوش ہو گیا ۔ ”مجھے اس وقت آج سے چودہ سو سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آیا تھا جس میں بیٹی کو بیٹی ہونے کے جرم میں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ۔ تم نے سنا ہوا ہی ہو گا ۔ “

”میں کہاں سے سنتا!“ مردود نے ناک پہ انگلی رکھی “ ””اوہ ہاں ہم شیاطین تو جاہل اور گنوار ہوتے ہیں ۔ “ بوڑھے نے ماتھے پہ ہاتھ مارا ”میں بھول ہی گیا تھا۔ اور یہ بیوقوف مسلمان انسان اتنا بھی نہیں جانتے ان کو علم عقل فہم ہر لحاظ سے مالامال کیا گیا ہے حتی کہ اگر یہ قرآن کی ایک ہی آیت آیت الکرسی دن میں دس بارہ بار پڑھ لیں تو کوٸی نظر بد اور کوٸی شیطان ان پہ حملہ آور نہیں ہو سکتا ۔ یہ تو علم و شرف سے مالا مال ہیں ۔

جاہل اور بے عزت تو ہم ہیں ۔ اور اسی لیے ہم ان سے حسد کرتے ہیں “ ””اب بکواس ہی کیے جاٶ گے یا کچھ بتاٶ گے بھی !“ مردود خاصا بور ہو چکا تھا اپنی ازلی خباثت پہ اتر آیا ””” بتاتا ہوں کھوں کھوں کھاں کھاں ۔“ بڈھا ایکدم کھانسنے لگا ”ہونہہ نیا ڈرامہ “ مردود نے سر جھٹکا ”جا پہلے ۔۔ کھاں کھاں ۔ جا ۔۔۔ کھیں کھیں ۔۔۔ جا کر ان مسلمانوں سے کہہ نماز اور قرآن سے دور رہیں ۔

ہمارے سب سے بڑے دو دشمن یہی ہیں ۔ پھر ہمارے لیے کسی کی بیٹی کو طلاق دلوانا اور کسی کے پے در پے مالی نقصانات کروانا مشکل نہ ہو گا “ بڈھے نے آخر یہ بات کھانستے کانپتے پوری کر ہی لی ”وہ پہلے ہی ان چیزوں سے دور ہیں ۔ ہاہاہاہا ہو ہو ہوہو ہی ہی ہی ہی “ مردود گندگی پہ لوٹنیاں لگاتے ہوٸے مکروہ آواز میں قہقہے لگانے لگا ”او یہ اتنے خوبصورت خوب سیرت عقلمند انسان اور ڈرتے ہم سے ہیں ۔

ہم بدھٶوں سے ہم جن کے پاس عقل نام کی نہیں اور ان کے ایک سجدے پہ سارا رعب پھینک کے خود ڈر کر بیٹھ جاتے ہیں ہاہاہاہا “ ”ہاٶ ہاٶ ہاٶ ہاٶ ہاٶ ۔ “ گٹر میں اب اس کے ساتھ بڈھے کے قہقہے بھی گونجنے لگے (جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں