398

منکی پاکس

تحریر شئیر کریں

منکی پاس کیسے پھیلا اور اس سے کیسے بچا جا سکتا؟

لو جی اب منکی پاکس آ گیا؟ابھی تو کرونا سے کمر سیدھی نا ہو ئی تھی کہ ایک اور بلا آن چمٹی۔۔۔شمساں کی ماں نے خبرنامہ سنتے ہوئے تبصرہ کیا،کیا ہی ٹھیک کہا تم نے شمسہ کے باپ نے لقمہ دیا ۔۔۔۔جبکہ چائے بناتی شمسہ کا دماغ میم نگہت ہاشمی کی حدیث کلاس پہ اٹک گیا جس میں وہ بتا رہی تھیں کہ قرب قیامت کے نزدیک فتنے بارش کے قطروں کی طرح آسمان سے نازل ہوں گے اور ایسی وبائیں پھوٹ پڑیے گیں جس کا نام تک نا سنا ہوگا اور ایسا تب ہوگا جب زنا عام ہو جائے گا اور منکی پاکس وائرس بھی ہم جنس پرستوں سے پھیل رہا ہے ۔۔۔چائے کو کپوں میں انڈیلتی شمسہ نے ایک نظر کچن پہ ڈالی اور ٹی وی اینکر کی بات کہ صفائی کا خاص خیال رکھیں ،صبح کیبنٹ وغیرہ کی تفصیلی صفائء کی مہم شروع کرتے ہیں۔توکل یہی ہے کہ گھر بھی صاف رکھیں اور اللہ پہ توکل بھی ۔۔۔۔۔
توکل کے یہ معنی ہیں کہ خنجر رکھ تیز اپنا
آنجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر۔۔

شمسہ کے دن کا آغاز ستے سویلے ہی ہو جایا کرتا تھا سو اس نے سب سے پہلے واشنگ مشین لگائی پھر کچن کی کیبنیٹس سے تمام اشیاء باہر رکھیں برتنے دھونے کے لیے رکھے اور ساتھ کیبنٹس صاف کیں اور نئے اخبار بچھائے۔ . مرچ مصالحے والے ڈبوں کو دھوپ میں رکھا۔۔۔۔غرض شام ڈھلے کچن دھل کر صاف ستھرا ہو چکا تھا ،شمسہ نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔کہ بکھیڑا سمٹ گیا۔شمسہ کا خیال تھا کہ بیماری اور گندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے گندگی ختم کر دو تو بیماری۔خود۔بخود بھاگ جائے گی۔

شام میں سیپارے والے بچے آئے تو انھیں اس نئ بیماری کے بارے میں آگاہی دی اور صفائی کی اہمیت بتائی اورحفاظت کی دعا بھی پڑھائی اور دعا کی اہمیت پہ روشنی بھی ڈالی۔۔۔شمسہ اپنے قصبے کی واحد استانی نہہں تھی مگر جس جذبے اور لگن سے وہ پڑھاتی تھی لگتا تھا سارا قصبہ آن پینچے گا۔۔۔اس کا جذبہ اور مشن دیدنی تھا پورا پاکستان نا سہی کم ازکم اپنے گاوں سے جہالت کو دیس نکالا دینا ہے اور جس عزم اور جذبے سے وہ کوشاں تھیں لگتا تھا کہ انشاء اللہ ایسا ہو کر رہنا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں