438

مومن کی معراج

تحریر شئیر کریں

مومن کی معراج
تحریر :روبینہ شاہین

معراج کی رات تھی اس نے سارا دن گھر صاف کرنے اور میٹھا پکانے میں لگا دیا تھا۔محلے میں بانٹنا جو تھا۔کام زیادہ تھا سو وقت بھی زیادہ لگا۔شب معراج سلیبریٹ کرنے کے چکروں میں آج نمازیں بھی گول کرگئ۔۔

رات گۓ بیڈ روم میں آئی تو تھکن سے برا حا ل تھا۔سامنےپڑی جاۓ نماز بلا رہی تھی عشاء پڑھنے کو ۔تھکن اتنی تھی کہ بیڈ پہ بیٹھتے ہی نیند غالب آ گی۔شب معراج تو منا لی مگر مومن کی معراج کی فکر کسے تھی کونے میں پڑی جاۓ نماز آج ترستی رہ گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر چیز اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔شاید دنیا اپنے آخری راونڈ میں داخل ہو رہی تھی۔علوم بھی اپنی انتہا کو پہنچ کر اب سمٹ رہے تھےحلیمہ نے ایک ریسرچ پڑھی عنوان تھا انسان مریخ تک جا پہنچا ۔۔۔۔ اور وہ سوچ رہی تھی جس امت کے نبی ﷺ چودہ سو سال پہلے شب معراج عرش تک ہو آۓ وہ امت آج مریخ پہ کمندیں ڈال رہی ہے۔یہ سب تو بنتا نا!

۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔دیکھنے والے کے ماتھے کی لکیریں گہریں ہوئیں کچھ لمحے گزرے گۓ۔لب ہلے مگر صرف اتنا کہا آپ کا سٹار کیا ہے؟وہ بھی عنایہ تھی۔سٹار پوچھنے ہی تو آپ کے پاس آئی۔سامنے والے کی نظریں حیرانگی سے اٹھی مدمقابل ایک جوان اور پڑھی لکھی لڑکی تھی۔بحث کی تو ہار جاؤ گے بابا نجومی۔نجومی بابا نے خود کو سرزش کی اور مسکرا دیا اور بولا امتحان لے رہی ہو بابے کا۔وہ۔سب جانتی تھی بس اپنی سہیلی کو راہ راست پہ لانے کے لیے یہاں تک چلی آئی تھی جو اس بابے کی بڑی عقیدت مند تھی۔۔بابے کی مسکراہٹ اور نظریں بتا رہی تھی۔بابا لاجواب ہو چکا تھا۔اور ہما کی نظریں جھک چکی تھی۔جو آج بڑے فخر ۔سےعنایہ کو بابے سے ملانے لائی تھی کہ بقول یما کے بابے کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔
ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا
وہ تو خود فراخی افلاک میں ہے گردوزبوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں