132

مونگ پھلی بارش اور تم

تحریر شئیر کریں

یادوں کی حدت اور مونگ پھلی
کڑکتی سردی، برستی بارش
اور تمہارا ساتھ۔۔۔
میں جب تمہاری زندگی کی دہلیز پر آئی تھی
تو اپنے ساتھ یہ “مونگ پھلی” بھی لائی تھی
تب کھلا تھا مجھ پر یہ بھید
کہ تمہیں یہ کس قدر عزیز ہے!
مجھے یاد ہے تمہارا وہ والہانہ انداز
اپنے مضبوط ہاتھوں کی پُھرتی سے
وہ چھلکے اتارنا، دانوں کو چننا
کبھی خود کھانا، کبھی مجھے کھلانا
وہ سرد راتوں کے طویل قصے
اور مونگ پھلی کے وہ ان گنت حصے!
تمہاری رفاقت کی وہ انوکھی تپش
جو روح میں اتر جایا کرتی تھی
آج بھی جب باہر بارش برستی ہے
اور سرد ہوا دستک دیتی ہے
تو مونگ پھلی کی وہی خوشبو
تمہارے لمس کی یاد دلاتی ہے
تم نہیں ہو، پر یہ موسم گواہ ہے
کہ تمہاری محبت کی حرارت
آج بھی میرے وجود کو گرم رکھتی ہے
وہ ہاتھ جو میرے لیے چھلکے اتارا کرتے تھے
وہ اب دعاؤں کے سائے بن کر میرے ساتھ ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں