329

مِری ذات ذرّہِ بے نِشاں

تحریر شئیر کریں

قسط وار کہانی

از قلم ساجدہ بتول

مِری ذات ذرّہِ بے نِشاں

*قسط 7

اِس کے کرتُوت بھی تو دیکھو ۔ گھر میں ہی چوری کی ہے اور بیاہ کر آتے ہی محلّے کے ایک لڑکے کے ساتھ چکّر بھی چلا لیا ۔ “ ساس نے ایک اور جھوٹ لگایا کیونکہ اب مردود اس پہ حاوی ہو چکا تھا ۔
”مشکل سے تو یہ رشتہ ہوا تھا ۔ اب یہ مصیبت!“ آنے والی عورت نے دل میں سوچا ، مردود سب سن رہا تھا ۔
”ہاہ اب یہ معاملہ رفع دفع کر دے گی ۔“ مردود پریشان ہو گیا ۔
اِدھر وہ عورت اب بے ہوش لڑکی پہ جھک کر اسے چوم رہی تھی ۔ ”آنکھیں کھول میری بچی “
مردود فورًا پہلی کو چھوڑ کر اُس کے دماغ میں داخل ہوا ۔“ بھٸی سیدھا سیدھا مار پیٹ کا کیس ہے ۔ عدالت میں جانا چاہیے ۔“
”ناں بابا! “ عورت نے دل میں جواب دیا ۔ ”ابھی میری تین اور بھی ہیں ۔ بات پھیل گٸی تو اُن کا کوٸی رشتہ ہی نہیں آٸے گا ۔ میں تو یہ جھگڑا ختم کروا کے ہی جاٶں گی ۔ “
مردود مُنہ بسورتا ہوا واپس نکلا ۔ اچانک اسے خیال آیا کہ جو کُچھ کر سکتا ہے اس لڑکی کا شوہر ہی کر سکتا ہے ۔
وہ فورًا اُس لڑکے کے دماغ میں گھس گیا ۔ ”تم اِس لڑکی کو طلاق دے دو ۔“
”توبہ “ وہ فورًا بولا ”پہلے ہی اِس کی ماں جلّاد بنی کھڑی ہے ۔ “
”تمہاری ماں بھی تو جلّاد بنی کھڑی ہے ۔“
”اندر سے وہ بھی کانپ رہی ہے ۔ میں اسے جانتا ہوں ۔ طلاق کے بعد جو جھگڑے کھڑے ہوں گے اُن کو سہنا اس کے لیے آسان نہیں ہے ۔ اس لیے طلاق دلوانے پہ کبھی راضی نہیں ہو گی ۔“ لڑکے نے جواب دیا ۔
”تو ابّا کو ساتھ ملاٶ ناں!“ مردُود یہ سنہری موقع کھونا نہیں چاہتا تھا ۔ طلاق جیسا گھٹیا ترین کام کروا کے ہی جانا چاہتا تھا ۔ مُشکل سے ہی تو مناسب جگہ ملی تھی ۔
”ابا اپنی بہن سے ڈرتے ہیں ۔ یہ ان کی بہن کی ہی تو بیٹی ہے ۔ “
اِس سوال و جواب میں مردُود کو پتہ ہی نہ چلا کہ ساس سُسر اُس عورت سے معافی بھی مانگ چکے تھے ۔ لڑکی ہوش میں آ گٸی تھی ۔
”آٸیندہ اِس کو مت ستانا ورنہ یاد رکھو ہر جگہ تمہاری بیٹی کو بدنام کر دوں گی ۔“ لڑکی کی ماں بولی ۔ ”اور ہاں! جس لڑکے سے چکّر کا کہہ رہے ہو ، ذرا اس کو سامنے تو لاٶ!“
”وہ ۔۔۔۔ وہ دراصل ۔۔۔۔ “
ساس کی زبان لڑکھڑا گٸی ۔ اُسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی ۔ خوف کے مارے اُس کا چہرہ سفید ہو گیا ۔

(جاری ہے )مِری ذات ذرّہِ بے نِشاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں