قسط وار کہانی از قلم ساجدہ بتول مری ذات ذرہ بے نشاں قسط
1 وہ بالکل مایوس ہو چکا تھا ۔ غصے کے مارے اس کا جی چاہ رہا تھا خود کشی کر لے ۔ اگرچہ اسے اور اس کی قوم کو خود کشی سے پیار تھا مگر وہ چاہت کے باوجود اس ملک میں خود کشی کو فروغ نہ دے پایا تھا ۔اس کا داٶ مسلمانوں کے دماغ پہ ان کی سوچ کی حد تک ہی چل پاتا تھا ۔ اور مسلمان خود کشی کے نام پہ تو توبہ کرتے ہی تھے ۔ حرام کھانے کے نام پہ بھی کان پکڑتے تھے ۔ اور وہ جانتا تھا ۔ جب تک اس قوم کو بچھو نہ کھلاٸے گٸے یہ قوم خود کشی کی طرف راغب ہونے کی نہیں ۔ کیونکہ خود کشی کا رجحان بچھو میں ہی پایا جاتا ہے ۔ لہٰذہ وہ اور اس کے کروڑوں ساتھی آج کل اسی منصوبے پہ محنت کر رہے تھے کہ مسلمانوں کو اسلامی احکامات سے متنفر کر دیا جاٸے ۔ اس مقصد کے لیے کفار کو ساری پلاننگ سمجھا دی گٸی تھی اور اب وہ کچھ ایسے مسلمانوں سے ہی یہ کام لے رہے تھے جو اپنا ایمان بیچنے پہ راضی تھے ۔ یہ سارا کام کامیابی سے ہوتے ہوتے نجانے اس شہر ”میانوالی“ کے چیف کو کیا سوجھی کہ اس نے ایک مقابلے کا اعلان کر دیا
”جو چیلا زمانہ جاہلیت جیسا کوٸی کام کروا لے گا اس کی پروموشن کر دی جاٸے گی اور اسے نقد انعام سے بھی نوازا جاٸے گا ۔“ ”اف ۔۔۔۔۔ اب ایک نیا ٹارگٹ!“ اس نے سوچا ۔ ”لیکن نقد انعام بھی تو ہے ۔ اور پروموشن بھی! واہ واہ!! چلو میں بھی کوشش کرتا ہوں ۔ “
وہ سوچوں کے سیلاب سے نکل آیا ۔ یہ ارادہ اس نے کل کیا تھا۔ اور پھر کل وہ کٸی بار کی کوشش کے بعد بھی ناکام رہا تھا ۔ اس وقت بھی وہ ایک میدان سے گزر رہا تھا۔ ہجوم والی جگہوں پہ چلتے ہوٸےاسے تکلیف ہوتی تھی ۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ویران جگہیں پسند تھیں مگر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے انہیں ہجوم والی جگہوں پہ جانا ہی پڑتا تھا ۔ مردود چلتے چلتے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پہ مکے مار رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ چیف اور باس کو گالیاں بھی دے رہا تھا ۔ کل والے مناظر سوچتے ہوٸے اس کا سر آگ کا بن گیا ۔ ”ہونہہ! غلیظ چھپکلیاں ۔ سارا کام عورتیں خراب کرتی ہیں ۔“ کل شہر کے سب سے بڑے گندے نالے میں چیف نے سب شیاطین کی ضیافت کی تھی۔ ضیافت میں چوہے اور مینڈک کھانے کو پیش کیے گٸے تھے
۔ موسم گرما کی آمد آمد تھی ۔مینڈک زیر زمین تھے ۔ چیف کے چیلوں نے بہت سے مینڈک مارے اور گندے نالے کے وسط میں جمع کر دیے ۔شیاطین کی دوسری ٹیم چوہے پکڑ کر لے آٸی ۔ چوہوں اور مینڈکوں کے لالچ میں بہت سے شیاطین چلے آٸے تھے اور کھانے کے بعد چیف نے اعلان کر دیا ۔
(جاری ہےمیری ذات زرہ بے نشاں )