374

میں نے کلاس نہیں لینی

تحریر شئیر کریں

میں نے کلاس نہیں لینی

ایک ایسی کہانی جو بتائے گی کہ بچوں کو ٹریک پہ۔کیسے لایا جا سکتا ہے؟

: ام محمد عبداللہ

”میں نے کلاس نہیں لینی۔“
روٹھے روٹھے سے انداز میں دھیمی سی آواز تھی۔
آن لائن کلاس ہو اور بچہ پڑھنا نہ چاہے تو کافی مشکل صورتحال ہو جاتی ہے۔

”اچھا تو نہ لیں کلاس، میرا  بھی پڑھانے کا دل نہیں چاہ رہا آج۔“
میں نے ایسے لاپروائی سے کہا جیسے کلاس لینے کو دل نہ چاہنا کوئی بڑی بات نہ ہو۔
اسے ذرا حوصلہ ہوا۔

”میرا آج کہانی سننے کو دل چاہ رہا ہے۔ کیا آپ مجھے کہانی سنائیں گے۔“

”جی جی۔“ وہ ایک دم چہک اٹھا۔

”اچھا مجھے کہانی سنائیں۔“
وہ کہانی سنانے لگا۔

میں دلچسپی سے اس کی آواز کے تاثرات نوٹ کر رہی تھی۔ اس کی کہانی میں سپر مین، ڈیول (devil) مین، چاند ستارے آسمان، کہکشائیں بہت کچھ تھا۔ وہ کبھی رک جاتا، کبھی ہنستا کبھی کہانی کوئی موڑ اختیار کرتی اور کبھی کوئی اور۔

بہت کچھ مافوق الفطرت بھی تھا۔ مجھے معصوم سے بھولے بھالے انداز پر ہنسی بھی آ رہی تھی اور پیار بھی۔

” یا اللہ! اس سب کو میرے لیے صدقۂ جاریہ بنانا۔” میں نے دعا مانگی۔

”اچھا اب کہانی سنانے کی میری باری ہے۔“

”میں سناؤں؟“
”جی“
وہ خوش ہوا۔

” اچھا پاکستان کب بنا تھا؟”  میں نے پوچھا۔

”1947 میں۔“ فورا جواب آیا۔

” اچھا جی یہ 1947 سے پہلے کی بات ہے۔ ابھی پاکستان نہیں بنا تھا اور برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں کی حکومت تھی۔”
وہ سنجیدگی سے سننے لگا۔

“ہندو مسلمان اکھٹے رہ رہے تھے۔
پھر ان میں سے ایک ڈیول مین اٹھا اور اس نے بہت بہت گندہ کام کیا۔”
“ڈیول مین؟؟”
“جی ڈیول مین
اور اس ڈیول مین کا نام تھا راجپال۔”

گرمی والاکوٹ

وہ ایک پبلشر تھا۔
پبلشر کون ہوتا ہے؟
جو کتابیں چھاپتا ہے۔
تو اس نے ایک کتاب چھاپی جس میں ہمارے پیارے رسول ﷺ کی شان میں غلط باتیں لکھی ہوئی تھیں۔
اس بات پر مسلمان بہت ناراض ہوئے اور انہیں بہت غصہ آیا۔

“لیکن ٹیچر جی! غصہ تو نہیں کرتے۔ غصہ کرنا تو بری بات ہے ناں؟”
وہ الجھا۔
“نہیں بیٹا! کوئی عام سی بات ہو تو غصہ نہیں کرتے،،،
لیکن کوئی ہمارے پیارے رسولﷺ کے بارے میں غلط بات کرے تو اللہ پاک بھی ناراض ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی بہت دکھ ہوتا ہے اور غصہ بھی آتا ہے۔
اور آنا بھی چاہیے۔”
اچھا
تو میں آپ کو بتا رہی تھی کہ وہ جو ڈیول مین راجپال تھا، مسلمانوں کو اس پر بہت غصہ تھا۔
مسلمانوں نے اس کے خلاف انگریز عدالت میں بات کی اور بتایا کہ یہ ڈیول مین غلط کام کر رہا ہے۔ اس کو یہ گندی کتاب چھاپنے سے منع کیا جائے
لیکن انگریز عدالت نے مسلمانوں کی بات نہیں سنی،
بلکہ راجپال کو دو سپاہی دے دئیے کہ ہر وقت اس کی حفاظت کریں۔
اب تو مسلمانوں کو اور بھی غصہ آیا۔

“اچھا ایک بات تو بتائیں ۔”
میں نے کہانی روک کر پوچھا۔
جی!!!

“غلط کام کریں تو کیا ہوتا ہے؟”
“سزا ملتی ہے۔” اس نے بتایا۔

جی اور ہمارے پیارے رسولﷺ سے متعلق بری بات کہنا اور لکھنا بہت غلط کام ہے۔
اور اس کی سزا قتل ہے۔
لیکن عدالت تو اسے سزا نہیں دے رہی تھی،،
الٹا اسی کا ساتھ دے رہی تھی۔

اسے بات سمجھ آ رہی تھی۔
جی جب ہی اللہ تعالی نے ان مسلمانوں کے درمیان ایک سپر مین بھیج دٸیے۔

“سپر مین!!! گڈ”
وہ خوش ہوا۔
وہ جو سپر مین تھے ناں۔
ان کا نام علم الدین تھا۔
وہ بہت پیارے اور اچھے تھے۔
وہ درود شریف پڑھتے تھے۔
اور وہ لکڑی کا فرنیچر بناتے تھے۔
انہیں جب ساری بات پتا چلی تو انہوں نے راجپال کو سزا دینے کا پکا ارادہ کر لیا۔
پھر ایک دن راجپال اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ وہ وہاں پہنچ گئے۔

“اچھا پھر کیا ہوا؟”

پھر آپ نے راجپال پر چھری سے حملہ کیا اور ایک ہی وار  میں اس کا کام تمام کر دیا۔

“بہت اچھا کیا۔ ہمارے رسولﷺ کی شان میں کسی کو بدتمیزی نہیں کرنا چاہیے۔” ننھے سے مسلمان میں محب الرسولﷺ جاگ رہا تھا۔

“کیا نام بتایا آپ نے سپر مین کا؟”
وہ نام اپنے حافظے میں محفوظ کرنا چاہتا تھا۔
غازی علم الدین شہیدؒ

“شہید کیوں؟”
مجھے اس کا ایسے سوال پوچھنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔
شہید اس لیے کہ راجپال کے قتل کی وجہ سے انگریز حکومت نے آپ کو شہید کر دیا۔

“اچھا!!” اس نے گہری سانس لی۔
آپ بھی اپنے رسولﷺ سے پیار کرتے ہیں ناں؟
“جی!!!”
تو پھر درود شریف تو سنائیں ۔
ماشاءاللہ اس نے مجھے درود ابراہیمی پڑھ کر سنا دیا۔

“اچھا!! اب میرا دل چاہ رہا ہے پڑھانے کا۔”
میں نے کہا،،

“اور میرا پڑھنے کا”
وہ ہنسا۔
پھر یہ صفحہ پڑھ کر سنائیں ۔
میں نے ریڈنگ پیج سکرین پر شٸیر کیا۔
وہ پڑھنے لگا۔

اب اس میں سے اپنی پسند کے تین جملے لکھ کر دکھائیں۔ وہ خوشی خوشی لکھنے لگا۔
منہ بسورتا بچہ ہنسی خوشی اپنا کام چکا تھا۔

بچے نازک پھول ہوتے ہیں۔ جنت کے پھول۔
کہانیوں، نظموں اور پہیلیوں سے خوب اور اچھا سیکھتے ہیں۔ مشکل چیزیں بھی سمجھ لیتے ہیں۔ سیکھ جاتے ہیں اور ان کی دلچسپی کی باتیں سن اور کہہ کر آپ ان سے مطوبہ کام کروا سکتے ہیں۔

میں نے کلاس نہیں لینی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں