305

ناپاکی کے غسل میں وہ غلطی جو 95 فیصد مسلمان کرتے ہیں

تحریر شئیر کریں

ناپاکی کے غسل میں وہ غلطی جو 95 فیصد مسلمان کرتے ہیں — رزق کی بندش اور غربت کی بڑی وجہ

اسلام میں طہارت (پاکی) کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کہ آج 95 فیصد مسلمان ایک ایسی بنیادی غلطی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ غسل کے باوجود بھی ناپاک ہی رہتے ہیں۔ اور یہی ناپاکی ان کے رزق کی بندش، دعاؤں کی عدم قبولیت، اور مستقل بے سکونی کا سبب بن جاتی ہے۔

وہ غلطی کیا ہے؟

غسلِ جنابت یا حیض و نفاس کے بعد غسل کرتے وقت اکثر لوگ وضو نہیں کرتے۔

حالانکہ غسل کی ابتدائی شرط وضو ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ جب آپ ﷺ جنابت سے غسل فرماتے تو سب سے پہلے وضو کرتے، پھر غسل کرتے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“نبی کریم ﷺ جب جنابت سے غسل فرماتے تو پہلے ہاتھ دھوتے، پھر وضو کرتے جیسا کہ نماز کے لیے کیا جاتا ہے، پھر غسل کرتے۔”
(صحیح بخاری: حدیث 248)

اگر وضو کیا، لیکن ہاتھ شرم گاہ سے لگ جائے تو؟

یہ بہت اہم مسئلہ ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کرتے ہیں۔ اگر کسی نے غسل سے پہلے وضو کر بھی لیا، لیکن غسل کے دوران ہاتھ ناپاک جگہ یا شرم گاہ سے ٹچ ہو جائے، تو وضو باطل ہو جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص اپنی شرمگاہ کو بغیر حائل کے ہاتھ لگائے، اسے نیا وضو کرنا چاہیے۔”
(سنن ابن ماجہ: حدیث 481، صحیح)

بسم اللہ نہ پڑھنے کا مسئلہ

وضو اور غسل کی ابتداء میں “بسم اللہ” پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اگر کوئی جان بوجھ کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا وضو ناقص ہوتا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:
“کسی کا وضو نہیں ہوتا جب تک وہ بسم اللہ نہ پڑھے۔”
(سنن ابن ماجہ: حدیث 397، حسن)

غسل کا صحیح طریقہ (سنت کے مطابق)

نیت کریں (دل میں، زبان سے کہنا ضروری نہیں)
بسم اللہ پڑھیں
دونوں ہاتھ دھوئیں
استنجا کریں (ناپاکی کو دھوئیں)
وضو کریں (مکمل وضو، جیسے نماز کے لیے)
پورے جسم پر پانی بہائیں
دائیں جانب، پھر بائیں جانب، پھر پورے جسم پر پانی بہائیں
پاؤں آخر میں دھونا بہتر ہے (اگر وہ گندا ہونے کا اندیشہ ہو)

ناپاکی = روحانی رکاوٹ + رزق کی بندش

جو شخص پاکی کا صحیح اہتمام نہیں کرتا، اس کی عبادات بھی متاثر ہوتی ہیں۔
اس کی نماز نہیں ہوتی
قرآن نہیں چھو سکتا
دعائیں قبول نہیں ہوتیں
دل بے سکون رہتا ہے
اور سب سے بڑھ کر رزق میں رکاوٹ آتی ہے

قرآن میں ہے:
“بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے”
(سورۃ البقرہ: 222)

خلاصہ

غسل سے پہلے وضو کرنا فرض کے درجہ میں سنت ہے
بسم اللہ پڑھے بغیر وضو کرنا ناقص ہو سکتا ہے
غسل کے دوران شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے
ناپاکی کا رہ جانا رزق اور روحانیت کی بندش کا سبب بن سکتا ہے

اپنی اصلاح کیجیے اور دوسروں تک یہ پیغام پہنچائیں۔
یہ سیکھا ہوا علم کسی کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتا ہے۔

ناپاکی کے غسل میں وہ غلطی جو 95 فیصد مسلمان کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں