477

ناکامی ایک رویہ جسے بدلنے کی ضرورت

تحریر شئیر کریں

ناکامی ایک رویہ ہے اور اس پر ردعمل ظاہر کرنا ایک دوسرا رویہ ہے۔ناکامی کا تصور ترقی یافتہ لوگوں کے لیے اور طرح سے ہوتا ہے جبکہ ترقی پزیر ممالک کے لوگوں کے لیے اور طرح سے ہوتا ہے۔ان دو رویوں کے علاوہ ایک رویہ وہ ہے جو معاشرے کی طرف سے دیکھنے میں آتا ہے۔ہم پاکستانی ناکامی کو کس طرح سے دیکھتے ہیں اور کس طرح سے دیکھا جانا چاہیے۔یہی آج کے آرٹیکل کا موضوع ہے۔
ناکامی انسان کے لیے باعث رحمت بھی ہوتی ہے اور زحمت بھی۔ یہ ناکام ہونے والی کی سوچ پہ منحصر ہے۔مگر کچھ باتیں ہمارے معاشرے کی طرف سے رونما ہوتیں ہیں جنہیں رسما ادا کرتے کرتے ہمارا دماغ اس کو قبولنے لگتا ہے۔اتنا کہ بس ۔۔۔۔۔ایسا ہی کچھ ناکامی کے حوالے سے بھی ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے۔اگر کوئی زیادہ پڑھ لکھ نہیں سکا تو وہ ناکام ہے۔اگر کسی کی جاب نہیں لگی تو وہ ناکام ہے۔اگر کسی کی شادی نہیں ہو رہی تو وہ ناکام ہے۔اگر کسی کے اچھے مارکس نہیں آے اور میڈیکل انجینرنگ میں ایڈمشن نہیں ہوا تو وہ ناکام ہے۔اور تو اور اگر کسی کے سو میں سے 33 نمبر نہیں آے اور 32 آ گۓ تب بھی وہ ناکام ہے۔اس کے لیے فیل کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
میں اس حوالے سے اپنا ایک واقعہ شئیر کرنا چاہو گی

یہ بھی پڑھیے

بہانے بنانا چھوڑو اور محنت کرو


میں بہت اچھی سٹوڈنٹ رہی بی اے تک۔۔۔پوزیشن ہولڈر۔۔۔پھر ایسا وقت آیا کہ بی اے میں فیل ہوگئ۔۔۔مجھے بہت ٹینشن ہوئی اتنی کہ ڈپریشن میں چلی گئ۔۔۔ڈپریشن میں اس سبجیکٹ کا داخلہ بھجوایا جس میں فیل ہوئی تھی۔ مگر ڈر سے پییپر نا دے سکی۔۔۔پورا سال ضائع ہوگیا، مزید ڈپریشن بڑھا۔۔۔اتنا کہ میں چیخیں مار مار کر رونے لگتیں۔۔۔۔پھر ایک بھلا مانس ڈاکٹر ملا۔۔۔ کہنے لگااکس بات کی ٹینشن ہے ؟۔۔میں نے کہا بی اے نہیں ہو پا رہا کہتا۔۔۔تو پھر کیا ہوا۔۔دنیا میں بڑے لوگ ہیں جو بغیر بی اے کیے زندہ رہتے۔۔۔آپ بھی جی لو۔۔۔۔میں نے کہا” مجھے فیل ہونے کا دکھ نہیں جاتا”۔۔۔۔کہتا آپ کیوں سوچتی کہ آپ فیل ہوئی ہو ۔۔آپ یہ دیکھو کہ میں کتنے پرسنٹ کامیاب ہوئی ہاں تھوڑی سی کامیابی اور چاہیے وہ اگلی دفعہ سہی۔۔۔بات دل کو لگ گئ۔۔۔پھر بی اے بھی ہوگیا۔مگر اس وقت کی جو ٹینشن لی تھی۔۔اس کے اثرات میری صحت پر ابھی بھی باقی ہے۔جو چیز اس سارے واقعہ میں سیکھنے میں آئی وہ یہ کہ زندگی میں توازن قائم رکھنے کے لیے ناکامی ضرور ہو تی ہے۔جیسا کہ میری کہانی میں ہوا، میرے دماغ نے سوچ لیا تھا کہ میں کبھی ناکام نہیں ہو سکتی ،یہ چیز بذات خود ایک مسئلہ ہے جو سردست ہمارا موضوع نہیں۔اللہ چاہتا ہے میرے بندے میرے در پہ آتے رہیں۔میرے سے مانگتے رہیں۔ایسا تب ہوتا ہے جب انسان ناکام ہوتا ہے۔دھکے کھاتا ہے پھر اسے وہ رب یاد آتا ہے۔کبھی کبھی ناکامی میں گہرے سبق پوشیدہ ہوتے ہیں۔قاسم علی شاہ لکھتے ہیں میں جس سال میں فیل یوا اس سال میری زندگی میں وہ لوگ آۓ جن کی بدولت آج میں یہاں ہوں۔کبھی کبھی قدرت چاہتی ہے ہم اپنی مزید خامیوں پہ قابوپائیں اور مزید محنت کریں تاکہ ہم زیادہ انعام کے حق دار ٹھہر سکیں۔ناکامی میں خیر کے موقع چھپے ہوتے ہیں۔ناکامی ہمارے لیے کامیابیوں کے دروازے کھولتی ہے۔بس اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثبت سوچ کا ہونا ضروری ہے۔ایڈسن نے سو دفعہ بلب بنا نے میں ناکامی کے بعد بھی ہار نہیں مانی۔۔۔اور عزم ویقین سے ڈٹا ریا۔اور بالآخر بلب کا تحفہ دینا کو دینے میں کامیاب ہوگیا۔یہ بلب نہیں تھا بلکہ روشنی اور قمقموں کی دنیا کا پہلا دروازہ تھا جس سے دنیا روشناس ہوئی۔

نائن اٹیلی جینس تھیوری ہارورڈ گارڈننگ نے پیش کی تھی۔اس تھیوری نے تہلکہ مچا دیا تھا۔اس تھیوری میں بتایا گیا تھا کہ ذہانتیں نو قسم کی ہوتیں ہیں۔ان میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ بھی کسی انسان میں موجود ہو سکتیں ہیں۔مثلا زبان دانی کی ذہانت،نمبرنگ کی ذہانت ،میپنگ کی ذہانت وغیره جبکه همارے هاں ایسا نہیں ہوتا ۔۔ہم صرف رٹے کو ذہانت سمجھتے ہیں یہی ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا نقص ہے۔ایک بچہ اگر چیزیں زیادہ اچھی طرح یاد نہیں رکھ سکتا اسے میتھ اچھا آتا ہے۔تو کیا وہ ناکام ہے جی ہاں ہمارا نظام تعلیم اسے ناکام اور فیل کا ٹیگ لگا کر ناکامی کی وادی میں دھکیل دے گا۔رہی سہی کسر گھر اور معاشرہ طعنے مار مار کر پوری کر دیں گے۔
میرے ایک عزیز سرگودھا سے اپنے بچے کی اسیسمینٹ کے لیے لاہور تشریف لاۓ۔۔اس بچے کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ چیزیں بہت جلد بھول جاتا تھا۔باقی سب کچھ نارمل تھا۔ظاہر ہے اس مسلے سے وہ ہر سال فیل ہو رہا تھا۔ہم اسے جس لیڈی ڈاکٹر کے پاس کے کر گۓ۔اس نے اس ایک پیپر دیا اور ایک قینچی۔۔۔اور کہا اس کی کٹنگ کرو۔۔۔بچے نے خود ہی ایک گول دائرہ منتخب کیا اور اس کی کٹنگ کر دی۔۔کٹنگ اتنی خوبصورت اور صاف تھی کہ ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ یہ بچہ زیادہ پڑھے گا نہیں مگر اس کے ہاتھوں میں اللہ نے طاقت رکھی ہے۔یہ بڑا ہوکر کسی فیلڈ میں سائنس دان بھی بن سکتا۔اس بات پر بچے کے باپ نے بتایا کہ آپ ٹھیک کہہ رہیں ہیں اس کا دماغ مکینیکل چیزوں میں بہت چلتا۔ایک دن اس نے سائیکل کھول کر دوبارہ جوڑ دی تھی۔

ہم پڑھے لکھے لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جو لفظ ہم کسی کی کم کاوش کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ کتنا غلط ہے۔اور اس کے دماغ پہ کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔لفظ فیل ہو یا ناکامی دونوں ہی غلط ہیں۔اگر کسی ایورج سے کم مارکس لینے والے طالب علم کی مارک شیٹس پہ لکھ دیا جاۓ کہ ٹرائی اگین۔۔۔یا آپ نے اتنے پرسینٹ کامیابی حاصل کر لی ہے بس تھوڑی سی محنت اور باقی ہے۔خود سوچیے اس سے اگلے کا وزن کتنا ہلکا ہو جاۓ گا۔بالکل ایسے جیسے مجھے ڈاکٹر نے سمجھایا تو مجھے سمجھ آ گئ۔ایسے ہی بہت سے لوگ ناکامی کے اندھیروں میں ہمیشہ کے لیے بھٹکنے سے بچ سکتے ہیں۔صرف ہمارے منتخب کردہ الفاظ کی طاقت سے۔۔۔۔بچ بھی سکتے اور مر بھی سکتے۔۔۔اب یہ آپ کا کام ہے کہ کسی کو زندگی دینی یا پھر۔۔۔۔۔حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے لوگوں کو آسانی دو اور مشکلیں پیدا نا کرو”مزید فرمایا لوگوں کو خوش خبریاں دو اور متنفر نا کرو”
لفظ ایک سائنس ہیں ایک دنیا ہیں۔ان کو کب اور کہاں بولنا ہے اس آرٹ سے واقف ہو کر ہم اپنی ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدل سکتے ہیں۔بہت خوبصورت بات جو ارنسٹ ہیمنگ وے نے کہی انسان کو شکست تو دی جا سکتی ہے مگر اسے تباہ و برباد نہیں کیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں