نبوی دسترخوان: سحرو افطار کی برکتیں اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ 122

نبوی دسترخوان: سحرو افطار کی برکتیں اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ

تحریر شئیر کریں

نبوی دسترخوان: سحرو افطار کی برکتیں اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ

تحقیقی و معلوماتی کتاب

نبوی دسترخوان: سحرو افطار کی برکتیں اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ

پیش لفظ

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے، جو نے اپنے حبیب ﷺ کی صورت میں ہمارے لیے نمونۂ حیات عطا فرمایا۔ درود و سلام ہو اس ہستیٔ گرامی پر جن کا ایک ایک عمل امت کے لیے مشعل راہ ہے۔

زیر نظر کتاب “نبوی دسترخوان” دراصل رسول اللہ ﷺ کی سحری و افطاری کی غذاوں کا تحقیقی جائزہ ہے، جسے جدید سائنس کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کا دور ہے کہ جہاں “انٹرمٹینٹ فاسٹنگ” اور “سپر فوڈز” کے نام سے دنیا بھر میں نئے نئے ڈائٹ پلان متعارف کرائے جا رہے ہیں، وہیں ہمارے نبی کریم ﷺ نے چودہ سو سال قبل ہمیں ایک مکمل ضابطۂ غذا عطا فرما دیا تھا۔

اس کتاب کا مقصد محض تاریخی معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ قارئین کو یہ باور کرانا ہے کہ سنت نبوی کی پیروی نہ صرف آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ دنیاوی صحت اور تندرستی کی بھی کنجی ہے۔ کتاب میں ہر غذا کے طبی فوائد کو جدید تحقیق کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے روحانی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

امید ہے کہ یہ کتاب علماء، محققین، طلباء اور عام قارئین سب کے لیے یکساں مفید ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسے قبولیت سے نوازے اور اسے ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔

– احمد بن عبداللہ (مرتب)

مقدمہ

Ramadan المبارک کا مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں روزہ رکھنا ہر صاحب ایمان پر فرض ہے۔ روزہ نہ صرف روحانی تربیت کا ذریعہ ہے بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ مگر اس کے فوائد تبھی حاصل ہو سکتے ہیں جب سحری اور افطاری میں رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی غذاوں پر عمل کیا جائے۔

آج کل مادی ترقی کی دوڑ میں انسان نے اپنی غذا کو بھی ترقی یافتہ بنا لیا ہے مگر اس ترقی نے صحت کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ فاسٹ فوڈز، پراسیسڈ فوڈز اور کیمیائی اجزاء سے بھرپور غذائیں بیماریوں کی وجہ بن رہی ہیں۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ ہم اپنی غذا کو سادہ اور سنت کے مطابق بنائیں۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں روزے کا ایک خاص مقام تھا۔ آپ ﷺ خود بھی روزے رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی ترغیب دیتے۔ آپ ﷺ کی سحری اور افطاری سادہ مگر مکمل غذا پر مشتمل ہوتی تھی۔ کھجور، جو، دودھ، پانی، ککڑی جیسی سادہ غذائیں آپ ﷺ کے دسترخوان کی زینت تھیں۔

اس کتاب میں ہم انہی غذاؤں کا جائزہ لیں گے، ان کے طبی فوائد کو جدید سائنس کی روشنی میں سمجھیں گے، اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھیں گے کہ ان پر عمل کر کے ہم کس طرح دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے:

باب اول: سحری کی نبوی غذا (توانائی و استقامت کے لیے)
باب دوم: افطاری کی نبوی غذا (شفا اور بحالی کے لیے)
باب سوم: نبوی اصول اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ
باب چہارم: کامیابیِ آخرت اور نبوی دسترخوان

ہر باب میں متعلقہ احادیث، ان کی تخریج، طبی حکمت اور جدید تحقیقات شامل کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی مستند کتب کے اقتباسات سے کتاب کو مزید تقویت بخشی گئی ہے۔

باب اول: سحری کی نبوی غذا (برائے توانائی و استقامت)

تعارف

سحری روزہ دار کے لیے انتہائی اہم کھانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سحری کو برکت قرار دیا ہے اور اس پر اہتمام کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً”
“سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔” (صحیح البخاری، حدیث: 1923، صحیح مسلم، حدیث: 1095)

اس باب میں ہم ان غذاؤں کا جائزہ لیں گے جو رسول اللہ ﷺ سحری میں استعمال فرمایا کرتے تھے، اور دیکھیں گے کہ کس طرح یہ غذائیں دن بھر کی عبادت اور مشقت کے لیے توانائی فراہم کرتی ہیں۔

کھجور (The Superfood of Prophets)

کھجور کو عربی میں “تمر” اور “رطب” کہا جاتا ہے۔ یہ نہایت بابرکت پھل ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم میں حضرت مریم علیہا السلام کو کھجور کھانے کا حکم دیا:

“وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا”
“اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تازہ پکی ہوئی کھجوریں تجھ پر گرا دے گا۔” (سورۃ مریم: 25)

رسول اللہ ﷺ نے سحری میں کھجور کھانے کی خصوصی ترغیب دی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ”
“مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔” (سنن ابو داؤد، حدیث: 2345، سنن ابن ماجہ، حدیث: 1693)

کھجور میں موجود قدرتی شکر (فرکٹوز، گلوکوز) خون میں بتدریج جذب ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دن بھر توانائی برقرار رہتی ہے۔ اس میں فائبر، پوٹاشیم، میگنیشیم، آئرن اور وٹامن بی کمپلیکس شامل ہیں جو نظام ہاضمہ، پٹھوں، اعصاب، خون اور میٹابولزم کے لیے فائدہ مند ہیں۔

جو کا دلیہ اور ستو (Complex Carbohydrates for Sustained Energy)

جو (Barley) ایک قدیم غلہ ہے جو انتہائی غذائیت سے بھرپور ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام اکثر جو کا ستو (Sawiq) استعمال فرماتے تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَصُومَ، تَسَحَّرَ بِالسَّوِيقِ”
“رسول اللہ ﷺ جب روزہ رکھنے کا ارادہ فرماتے تو ستو سے سحری کرتے۔” (مسند احمد، حدیث: 24937)

جو کا گلائیسیمک انڈیکس (GI) بہت کم ہوتا ہے، یعنی یہ خون میں شکر کی سطح کو آہستہ آہستہ بڑھاتا ہے۔ اس میں بیٹا گلوکن اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہیں جو توانائی دیرپا رکھتی ہیں اور معدے کو بوجھل نہیں کرتے۔

دودھ اور دودھ کی مصنوعات (Healthy Fats & Proteins)

دودھ ایک مکمل غذا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں “لبناً خالصاً” (خالص دودھ) کہہ کر اس کی پاکیزگی کو بیان کیا۔ رسول اللہ ﷺ کو دودھ بہت پسند تھا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
“مَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ”
“جسے اللہ دودھ پلائے تو وہ کہے: اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے مزید عطا فرما۔” (سنن الترمذی، حدیث: 3455)

دودھ اور اس کی مصنوعات میں موجود پروٹین اور صحت مند چکنائی دن بھر جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط کرتے ہیں اور مدافعتی نظام کو بہتر بناتے ہیں۔

پانی اور نبیز (Hydration)

پانی زندگی کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ” (سورۃ الانبیاء: 30)

رسول اللہ ﷺ سحری میں پانی ضرور پیتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
“لاَ تَدَعُوا السَّحُورَ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ” (مسند احمد، حدیث: 11973)

نبیز سے مراد رات بھر بھگوئی ہوئی کھجوروں کا پانی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
“كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَنْقَعُ لَهُ تَمْرٌ فِي مَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ” (صحیح مسلم، حدیث: 3766)

سحری کے نبوی اصول

رسول اللہ ﷺ نے سحری کے حوالے سے چند اصول بیان فرمائے جو آج جدید ڈائٹ سائنس سے ہم آہنگ ہیں۔

تاخیر سے سحری کرنا، کم کھانا اور سادہ غذا کھانا ان اصولوں میں شامل ہیں، جو توانائی برقرار رکھنے اور نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہیں۔

سحری کے جدید ڈائٹ اصول اور نبوی تعلیمات

جدید ڈائٹ سائنس میں بیان کیے جانے والے اصول صدیوں پہلے نبوی تعلیمات کا حصہ تھے، جیسے Low Glycemic Index Foods، High Protein Breakfast، Healthy Fats، Hydration، Portion Control اور Late Breakfast۔

خلاصہ باب

اس باب میں ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی سحری سادہ مگر مکمل غذا پر مشتمل تھی۔ کھجور، جو کا ستو، دودھ اور پانی جیسی غذائیں نہ صرف سنت نبوی کا حصہ ہیں بلکہ جدید سائنس بھی ان کی افادیت کی تصدیق کرتی ہے۔

سحری میں ان غذاؤں کے استعمال سے جسم کو دیرپا توانائی ملتی، نظام ہاضمہ درست رہتا، پیاس کی شدت کم ہوتی اور دن بھر عبادت میں آسانی رہتی ہے۔

اب اگلے باب میں ہم افطاری کی نبوی غذا کا جائزہ لیں گے، جو روزہ کھولنے کے بعد جسم کی بحالی کا ذریعہ ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم
صحیح البخاری
صحیح مسلم
سنن ابو داؤد
سنن الترمذی
سنن ابن ماجہ
مسند احمد
ابن قیم، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد
جلال الدین سیوطی، الرحمة فی الطب والحکمة
ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید، الطب النبوی بین العلم والإیمان
ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم، الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب
ڈاکٹر محمد علی البار، الطب النبوی
ڈاکٹر محمد خیر الشعال، الصیام والصحۃ

جاری ہے… باب دوم: افطاری کی نبوی غذا (برائے شفا اور بحالی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں