493

نرم لہجہ کیوں اور کیسے؟

تحریر شئیر کریں

نرم لہجہ کیوں اور کیسے؟جانیے قلم کتاب پر

مثل مشہور ہے کہ میٹھے بول میں جادو ہے۔آج مائنڈ سائنس اس بات کی تائید کرتی دکھائی دیتی ہے جو نکتہ قرآن مجید میں چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا ہے۔حضرت موسی ؑ کو حکم ہو اکہ آپ فرعون کے دربار میں جائیں اللہ کا پیغام لے کر،اب حضرت موسی ؑ پر بھاری ذمہ داری آن ٹھہری تھی۔سمجھانا وہ بھی فرعون وقت کو۔وقت کے پیغمبر تھے۔اللہ کے آگے ہاتھ اٹھائیں ۔یہ نہیں کہا کہ اے اللہ فرعون کو یدایت دے۔بلکہ اس سے پہلے اپنی کمزوری کو دیکھا کہ میرے اندر کیا کیا کمزوریاں ہیں۔اس کو دور کرنے کی سعی کی۔فرمایا
رب الشرح لی صدری ویسر لی امری واحلل عقدتہ من لسانی یفقھوا قولی۔
ترجمہ”اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔میرے لیےمیرا معاملہ آسان کر دیجیے۔اور میری زبان کی گرہ کھول دیجیے۔تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔
قرآن میں موجود یہ دعا بہترین کمیونیکیشن سکل کی طرف رہنمائی کرتی دکھائی دیتی ہے۔حضرت موسی ؑ نے اللہ سے اپنی کمیونکیشن سکل بہتر کرنے کی دعا مانگی۔جو بارگاہ الہی میں قبول ہوئی۔

یی بھی پڑھیے

باتھ روم استعمال کی حفاظتی تدابیر

ایک اور مقام پہ اللہ نے موسی ؑ کو یہی حکم دیا مگر ساتھ ایک بہترین ٹپ بھی دی۔جو بہترہن کمیونیکیشن کی بنیاد ہے۔فرمایا موسی جاو فرعون کے پاس مگر نرمی سے بات کرنا۔حالانکہ رب العزت خالق دو جہاں وقت کے پیغمبر کو یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ جاو فرعون کے پاس اور اسے کھری کھری سناو۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔دیکھتا ہوں تمہادا کیا بگاڑ لیتا۔مگر نہیں یہ سب حکمت دانائی کے دائرے سے باہر کی باتیں ہیں۔اور اللہ حکیم و دانا ہے۔وہی کہا جو اس کے شایان شان ہے۔جہاں تک نرمی کی بات ہے حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے “جو نرمی سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا”

پاکستانی قوم کا المیہ ہے کہ اپنی اولاد تک سے نرمی سے بات کرنا توہین سمجھا جاتا ہے اور تو اور والدین جن کے آگے اف تک کہنے کی ممانعت ہے ان سے بھی نرمی سے بات نہیں کی جاتی۔اس کی ایک بڑی وجہ ہر دوسرا بندہ یہ سمجھتا نرمی سے لوگ بگڑ جاتے جبکہ سختی سے ہی دوسروں پہ قابو پایا جا سکتا۔ممکن ہے کبھی یہ ٹپ کام کر جاۓ مگر دلوں تک رسائی نرم زبان سے ہی ہو اکرتی ہے۔آپ ﷺ کے بارے میں قرآن فرماتا ہے کہ اگر آپ سخت ہوتے تو یہ لوگ آپ سے دور بھاگتے۔سخت مزاج اور بداخلاق لوگوں سے ہر کوئی کنی کتراتا ہے لہذا پائیدار تعلقات کے لیے نرم گفتاری بہترین ہے۔بچوں کو نرمی سے بات کرنا سکھائیں۔صرف کہنا نہیں بلکہ عمل بھی کرنا ہے۔کمیونکیشن کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے الفاظ کی بجاۓ لہجہ ہی درست کر لیں تو اس سے بھی بہت سے مسائل حل ہو سکتے۔کیونکہ لہجے کی اثرپزیری 38 فیصد ہے۔
نرم لہجہ کیوں اور کیسے وہ موضوع ہے جو آپ کو بہترین کمیونکیشن کی طرف لے جاۓ گا۔اور بہترین کمکونکیشن سے آپ زندگی میں کامیاب تعلقات ہی کامیاب کیریر کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں