225

نیک بکری اور ناخدا بھیڑیا

تحریر شئیر کریں

—
اے بادشاہِ فرزانہ!
زمانہ وہ آئینہ ہے جس میں وقت اپنے چہرے کو ہر روز نئے خدوخال کے ساتھ دکھاتا ہے۔ عقل مند وہی ہے جو آئینے میں دھند نہ دیکھے، بلکہ حقیقت پہچانے۔ ظلم جب تاج پہن لیتا ہے، اور عدل رسوا ہوتا ہے، تب قدرت ایک کمزور سی زبان کو سچ کی گونج عطا کرتی ہے۔ آج میں تمہیں ایک ایسی حکایت سناتا ہوں جو اگرچہ جانوروں کی بولی میں ہے، مگر اس کے ہر حرف میں انسانیت کی صدا ہے۔
—
کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں، جب جنگلوں پر سکوت طاری تھا اور ندیوں میں بہتا پانی امن کا نغمہ سناتا تھا، ایک اچانک ہنگامہ اٹھا۔ نہ زلزلہ آیا، نہ وبا پھیلی، نہ تختہ اُلٹا، مگر پھر بھی جنگل میں ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ سب حیوانات حیرت زدہ تھے، کہ ماجرا کیا ہے؟
بزرگ الو نے آنکھیں موند کر کہا:
“جنگل کے جنوب مغربی کنارے پر اک خطہ ہے – غزہ وادی – جہاں ہر روز خون کی بارش ہوتی ہے، جہاں ہرنی اپنے بچے کو پہلے لاش کی پہچان سکھاتی ہے، پھر زبان۔”
بادشاہ شیر نے تیوری چڑھائی، گدھوں نے کھسر پھسر کی، اور مچھلیاں خاموش ہو گئیں۔ اس وادی پر قبضہ تھا ایک درندے کا، جسے ناخدا بھیڑیا کہتے تھے۔ وہ پہلے صرف ساحلوں پر گشت کرتا، مگر اب خود کو سمندر کا مالک کہتا تھا۔ اس نے ہاتھ میں انصاف کا جھنڈا تھام رکھا تھا، اور پنجوں میں معصوموں کا خون۔
اس کے ساتھ کچھ چالاک الو، گدھ، اور سیاہ بلیاں تھیں، جو اپنے آپ کو امن پسند اور خدا والے کہتے تھے، مگر دراصل اس درندے کے خزانچی اور مشیر تھے۔
اے بادشاہ! ایسے میں ایک نیک بکری اٹھ کھڑی ہوئیسفید، سادہ، مگر دل میں وہ آہن رکھتی تھی جو بعض وقت نر شیر میں بھی نہ ہو۔ اس کا نام تھا مدلن آلمبرٹ۔ وہ نہ کسی سلطنت کی شہزادی تھی، نہ کسی شاہی خاندان کی وارث، مگر اس کے دل میں امّت کی ماں جیسا درد تھا۔
اس نے کچھ اور نیک جانوروں کو اکٹھا کیامراکش کا شیر، جنوبی افریقہ کا کبوتر، ترکی کا خرگوش، اور تیونس کا اونٹ۔ سب مل کر ایک کشتی تیار کی، جس کا نام تھا:
فریڈم فلوٹیلا – “آزادی کی ناؤ”
مڈلٹن کہا کرتی تھی:
“اگر سمندر ظلم کا گواہ بن چکا ہے، تو ہم اسے سچائی کی گواہی کا منبر بنائیں گے۔”
یہ کشتی چل پڑی۔ ہوا ہمقدم، پانی تابع، دلوں میں یقین کی بادبانی۔
مگر اے بادشاہ! جیسے ہی وہ کشتی اس پانی میں پہنچی جسے ناخدا بھیڑیا اپنی ملکیت سمجھتا تھا، ظلم کا پانی ہلنے لگا۔
بھیڑیے نے دھاڑ کر کہا:
“یہ قانون کی خلاف ورزی ہے! میں حفاظت کے نام پر ہر چیز روند ڈالوں گا!”
اور پھر… رات کے سناٹے میں سمندر پر ظلم کا حملہ ہوا۔
کشتی توڑی گئی، جانور قید ہوئے، اور بکری کو تنہا زندان میں ڈال دیا گیا۔
مگر اے بادشاہ! قید میں بھی اس بکری کی زبان بند نہ ہوئی۔ وہ زندان کی سلاخوں سے پکار اٹھی:
“تم میری زنجیروں سے میرے جسم کو قید کر سکتے ہو، میری روح کو نہیں۔”
یہ سنتے ہی بھیڑیے کا چہرہ بگڑا۔
وہ جانتا تھا، طاقت جسم دبا سکتی ہے، مگر آوازیں نہیں۔
—
اے بادشاہِ وقت! دنیا کے جنگلوں میں ردعمل آیا۔
چالاک الو نے اپنی دانائی کا خول اوڑھ کر کہا:
“یہ بکری دراصل امن کو چیلنج کر رہی تھی۔”
گدھ نے ناک سکیڑ کر کہا:
“بھیڑیے کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔”
اور آپ جانتے ہیں؟ وہ جنگل کا شیرجو اپنے آپ کو بادشاہ کہتا تھاچپ رہا۔ کیونکہ وہ بھیڑیے سے اسلحہ خریدتا تھا۔
مگر… جو بات بھیڑیا نہ جانتا تھا، وہ یہ تھی کہ:
جنگل کے بچوں نے اس بکری کی کہانی سنی۔
انہوں نے اپنی ماؤں سے پوچھا:
“اگر ایک بکری ظلم کے سامنے کھڑی ہو سکتی ہے، تو ہم کیوں نہیں؟”
اور تب… درختوں کے پتے، دیواروں کے سائے، اور ہواؤں کی سرگوشیاں، سب بکری کا نام لینے لگے۔
ایک نرگس کی آنکھ کھلی، ایک شاہین نے پر تولے، اور ایک نئی نسل نے کہنا شروع کیا:
“ہم بکری کی اولاد ہیں، بھیڑیوں کے سامنے نہ جھکیں گے، نہ بکیں گے۔”

نتیجہ:

اے بادشاہ! اس دنیا کے سمندروں پر کئی ناخدا بھیڑیے قابض ہیں طاقتور بھی ہیں، چالاک بھی۔
مگر اگر ایک نیک دل بکری بھی کھڑی ہو جائے، تو وہ پوری درندگی کو بےنقاب کر سکتی ہے۔بکری کبھی کبھی بھیڑیے سے زیادہ عظیم ہوتی ہےکیونکہ وہ صرف جان کا خطرہ نہیں لیتی، بلکہ دوسروں کو جینا سکھاتی ہے۔
“وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ”
(ابراہیم: 42)
ترجمہ:
“اور ہرگز نہ سمجھو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے۔”

نیک بکری اور ناخدا بھیڑیا

پہلی قسط کے لیے کلک کریں

قلیلہ و دمنہ جدید حکایات

دوسری قسط 

انصاف کی تلاش

تیسری قسط

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی پاکستان آمد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں