238

وقت کا قیدی

تحریر شئیر کریں

(تحریر: روبینہ شاہین )

کہتے ہیں وقت کسی کے لیے نہیں رُکتا۔
گزر جانے والے لمحے خواہ کتنے ہی قیمتی کیوں نہ ہوں، ہاتھ سے پھسل کر ماضی کے دریچوں میں جا چھپتے ہیں۔
لیکن دل کے کونے میں کوئی آرزو، کوئی حسرت، کبھی کبھار سر اٹھاتی ہے۔
کاش، وقت کو پلٹایا جا سکتا!
کاش، کوئی ایک دن… بس ایک دن، ماضی میں لوٹ کر جیا جا سکتا…
ایسی ہی ایک حسرت برسوں سے میرے دل میں سانس لیتی رہی۔
میں، اریب قریشی، عمر کے اُس حصے میں ہوں جہاں یادیں حال سے زیادہ بوجھل ہونے لگتی ہیں۔
سائنس میرا پیشہ ہے، مگر دل ایک ادھورے خواب کا مسافر۔
یہ پانچواں سال تھا اُس دن کو، جب ماہین — میری ہمسفر، میری زندگی کی سب سے روشن کرن — ایک بےرحم حادثے میں بچھڑ گئی۔
کبھی سوچا نہ تھا کہ زندگی اس قدر بدل جائے گی۔
کتنی بار راتوں کو آنکھ کھلی، کتنی بار دل نے خواہش کی کہ بس ایک بار اُسے دیکھ لوں، سن لوں۔
اپنے علم، تجربے اور دل کے زخموں کے سہارے میں نے برسوں کی محنت سے ایک ایسا آلہ بنایا جو شعور کو ایک مخصوص دن میں لے جا سکتا تھا — “ٹائم اینکر”۔
نہ جسمانی سفر، نہ تاریخ کی مداخلت… صرف ایک خاموش مسافر بن کر ماضی کی گلیوں میں جھانکنے کا موقع۔
اور جب وہ دن آیا، جب مشین مکمل ہوئی — تو میں نے لمحہ بھر کی بھی تاخیر نہ کی۔
تاریخ طے تھی: 16 مئی 2020۔
وہی دن جب زندگی نے ایک پل میں سب کچھ چھین لیا تھا۔
دوستوں نے کہا:
“اریب، یہ خطرناک ہے۔ واپسی کا یقین نہیں۔”
میں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“جب دل برسوں سے قید ہو، تو واپسی کا کیا خوف؟”
ایک ہلکا سا بٹن دبایا، اور نیلا سا ہالہ آنکھوں کے سامنے چھا گیا۔
جب آنکھ کھلی تو میں خود کو لاہور کی اُسی پرانی گلی میں کھڑا پایا۔
جانا پہچانا منظر…
دوپہر کی دھوپ، چھتنار درخت، کھڑکیوں سے جھانکتی روشنی…
وقت واقعی پلٹ چکا تھا۔
اور پھر… ماہین…
وہی چمکتی آنکھیں، ہلکی مسکراہٹ، سفید دوپٹہ…
میرے دل کی دنیا ایک پل میں جگمگا اٹھی۔
کتنے برسوں بعد یہ منظر دیکھا تھا!
میرے قدم بےاختیار اُس کے پیچھے بڑھنے لگے۔
خاموشی سے، جیسے کسی خواب میں۔
بازار کے راستے، کتابوں کی دکان، چائے کے کپ — ہر منظر ایک گمشدہ فلم کے سین کی طرح آنکھوں کے سامنے تھا۔
اور میں… بس دیکھ رہا تھا…
نہ آواز دے سکتا تھا، نہ چھو سکتا تھا…
صرف ایک “وقت کا قیدی”۔
پھر وہی بدنصیب سڑک…
وہی لمحہ…
ایک گاڑی کی تیز آواز…
دل کانپ اٹھا۔
جانتا تھا کیا ہونے والا ہے۔
کتنی بار دل نے چاہا تھا کہ کاش اُس دن کچھ بدل سکتا۔
آج… ایک بار پھر اُسی موڑ پر کھڑا تھا۔
چیخ کر کہنا چاہا…
“ماہین، رُک جاؤ!”
مگر لب ساکت تھے، آواز کہیں گم ہو گئی۔
اور آنکھوں کے سامنے وہی منظر…
گاڑی کی بریک…
اور ماہین زمین پر…
میرے قدم پتھر ہو گئے۔
دل جیسے لرز کر ٹوٹنے لگا۔
اور تب…
ایک ننھا بچہ، شاید چار پانچ برس کا، اُس کے قریب آ گیا۔
ایک ننھا وجود…
جس کا چہرہ دل کے کسی گوشے میں برسوں سے بسا تھا۔
ماہین اکثر کہا کرتی تھی:
“اگر ہمارا بیٹا ہوتا تو آنکھیں بالکل تم جیسی ہوتیں…”
میری آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے۔
وہ بچہ آہستہ آہستہ ماہین کے قریب آیا…
زمین پر گرا دوپٹہ اٹھایا…
اور اُس کے چہرے کو نرمی سے چھوا۔
اُسی پل ماہین کی بند آنکھیں ہلکی سی کھلیں…
ایک ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر نمودار ہوئی…
جیسے برسوں کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔
اور پھر…
وہ خاموشی سے آنکھیں موند گئی۔
اسی لمحے “ٹائم اینکر” کی واپسی کی گھنٹی بجی۔
میری انگلی نے لرزتے ہوئے بٹن کو دبایا۔
جب دوبارہ ہوش آیا تو میں اپنے لیبارٹری کے کمرے میں تھا۔
دل خالی سا تھا…
مگر ایک عجب سا سکون تھا۔
ماہین کی آخری مسکراہٹ دل کے نہاں خانوں میں اُتر چکی تھی۔
ایک بچھڑا لمحہ جس نے برسوں دل کو قید رکھا تھا،
اب آزاد کر گیا تھا۔
کچھ دن بعد میں نے اپنی ڈائری میں لکھا:
“وقت کا قیدی بن کر جانا… دل کے قید خانے کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
کبھی کبھی ماضی کی گلیوں میں لوٹنا ضروری ہوتا ہے…
بس ایک دن… ایک لمحہ… دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے…”

وقت کا قیدی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں