444

ولہان جن کی شادی

تحریر شئیر کریں

ولہان جن کی شادی
تحریر : منیبہ مختار اعوان

“مجھے بس کسی طرح یہاں سے نکلنا ہے۔کوئی ہے ۔۔۔۔۔میری مدد کرو۔” اینجل نے ڈرے اور کانپتے بدن کے ساتھ اونچی اونچی مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔
وہ سیاہ گھنے جنگل میں دربدر بھٹک رہی تھی شاید وہ راستہ بھول گئی تھی ہر سو اندھیرا تھا ۔اچانک اسے خوفناک قسم کی آوازیں سنائیں دیں ۔ایسی ڈراؤنی آوازیں اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں وہ سہم کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی اور خاموشی تان لی سردی کی ٹھٹھرتی رات اس کے خوف میں مزید اضافہ کر رہی تھی ۔ اس کٹھن وقت میں وہ بس جنگل سے رہائی کی دعا کرنے لگی۔ اس نے اپنی بانہوں سے ٹانگوں کو ڈھانپ رکھا تھا مگر سردی مزید بپھڑتی جا رہی تھی۔


” یا الله مجھے اس سیاہ جنگل میں کوئی روشنی دکھا تاکہ میں اس جنگل سے نکل سکوں۔” اینجل روتے ہوئے اپنے رب سے فریاد کرنے لگی۔
کچھ دیر بعد اسے جھانجھروں کی آواز سنائی دینے لگی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور سے آگ دیکھائی دی اس سیاہ جنگل میں آگ کی زرا سی روشنی ہی اس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ اس کے دل میں امید کی کرن پیدا ہوئی اس نے سوچا کہ کسی طرح وہ اس آگ تک پہنچ جائے۔ ہو سکتا تھا کہ وہاں سے کوئی راستہ ہی نکل آئے۔ اس نے اس آگ کی جانب قدم بڑھانے شروع کر دیے۔ جیسے جیسے وہ اس آگ کے قریب ہوتی گئی جھانجھروں کی آواز اور تیز ہوتی گئی وہ آگ کے قریب ایک درخت کے پیچھے چھپ کر اس آگ کی جانب دیکھنے لگی اس آواز سے اس کے کان پھٹ رہے تھے۔اس نے دیکھا کہ کچھ عجیب شکل والی مخلوق اس آگ کے اردگرد رقص کر رہی تھی اور ایک انتہائی قد آور جن کی شادی ہو رہی تھی ۔


” جنوں کے سردار ولہان جن کو شادی مبارک ہو۔” آگ کے گرد رقص کرتے ہوئے جن اسہی جملے کا بار بار ورد کر رد ہے تھے۔
اور وہ(ولہان جن) ایک تخت پر انتہائی خوفناک چڑیل کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جس کے ساتھ اس کی شادی ہو رہی تھی۔اس چڑیل کے دانت اتنے لمبے تھے کہ گلے سے لگ رہے تھے ۔ شادی میں اور بھی بہت جن موجود تھے جو شرکت کرنے آئے تھے ایک میز پر جنوں کے کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔جس میں پینے کے لیے خون اور کھانے کے لیے ہڈیاں رکھی گئی تھیں۔


اتنا خوفناک منظر دیکھ کر اینجل کی زوردار چینخ نکل گئی ۔ سب جن اینجل کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اینجل وہاں سے الٹے قدموں بھاگنے لگی ۔ ولہان جن (جنوں کے سردار) نے حکم دیا کہ اس انسان کو پکڑ کر میرے سامنے پیش کرو ۔ایک جن نے حکم سننے کے فوراً بعد اپنا ہاتھ جادو سے لمبا کیا اور اینجل کو پکڑ کر ولہان جن کے آگے پیش کیا ۔ اینجل کی ٹانگیں تھر تھر کانپنے لگیں اور وہ بیہوش ہو کر گر پڑی ۔ایک جن جادو سے اسے ہوش میں لایا ۔وہ دوبارہ خوف سے لرزنے لگی۔


” تم انسان اس جنگل میں کیا کر رہی ہو ۔ اور میری شادی پہ کیا کرنے آئی ہو ۔کیا تمہیں کسی جن نے انوائیٹ کیا ہے؟ کس جن کے ساتھ رابطہ ہے تمہارا؟ ” جنوں کے سردار نے اینجل سے تفتیش کرنا شروع کر دی۔
اینجل مسلسل کانپتی جا رہی۔
اینجل کی لرزہ خیز حالت اور مسلسل خاموشی پر جنوں کا سردار تخت سے کھڑا ہوا
“میں یہ شادی ابھی نہیں کر سکتا جب تک اس لڑکی کی مکمل تفتیش نا کر لوں۔ جنوں تم کھانا کھا کر جا سکتے ہیں ۔ اسے پکڑ کر میرے محل میں لے آؤ۔”
اپنا فیصلہ اور حکم سنا کر جنوں کا سردار وہاں سے غائب ہو گیا۔چڑیل نے بھی غصے والا منہ بنا کر منتر پڑھا اور نظروں سے اوجھل ہو گئی۔


اینجل کو دو جنوں نے اس کی دونوں بازوؤں سے پکڑا اور پھر غائب ہو گئے۔
کچھ سیکنڈز بعد اینجل نے اپنے آپ کو ایک انتہائی خوبصورت کمرے میں پایا گویا کہ وہ کمرہ محل ہو ۔ اس کمرے کی خوبصورتی دیکھ کر اینجل اپنا ماضی تک بھول چکی تھی۔ اس نے اس کمرے کا بھرپور جائزہ لیا کہ اس کی نظر ایک الماری میں رکھی شیشے کی بوتل میں پڑی جس کے اندر ایک خوبصورت لڑکی قید تھی اور بیٹھی رو رہی تھی۔اینجل نے بوتل کو باہر سے کھٹکھٹایا ۔ اس لڑکی کی نظر اینجل پہ پڑی ۔اینجل کو دیکھ کر وہ خوشی سے جھومنے لگی کیونکہ طویل عرصہ بعد اس نے اپنے جیسا انسان دیکھا تھا۔
” تم کون ہو اور یہاں پر کیسے آئی ۔” اینجل نے پوچھا۔


” میرا نام مینا ہے میں سیاہ جنگل میں گم گئی تھی ۔چلتے چلتے مجھے جھانجھروں کی آواز سنائی دی میں نے جب اس آواز کے قریب جا کر دیکھا تو ایک جن کی شادی ہو رہی تھی وہ جن اتنا خوفناک تھا کہ میری چینخ نکل گئی ۔میری چینخ نے سب جنوں کو میری طرف متوجہ کر لیا اور وہ مجھے پکڑ کر یہاں لے ائے۔” مینا نے درد بھرے لہجے میں اپنی ساری کہانی کہہ سنائی ۔
” اوہ یہ تو بہت برا ہوا ۔” اینجل اس کے باتیں سن کر کچھ سوچنے لگی۔
” اب تم بتاؤ تم کون ہو اور یہاں کیسے آئی ہو۔ ” مینا نے پوچھا۔
” میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ “
اینجل نے بتایا


” وہ جنوں کا سردار مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا میں نے انکار کیا تو اس نے مجھے بوتل میں بند کر دیا۔” مینا نے مزید بتایا۔
مینا کی باتیں سن کر اینجل سسکنے لگی کہ ایک دم پورا کمرہ ہلنے لگا ۔ مینا نے اینجل کو بتایا کہ ولہان جن آ رہا ہے جلدی سے مجھ سے دور چلی جاؤ اور جن کو نا بتانا کے میں نے تم سے بات کی ہے۔ اب جاؤ۔
اینجل جلدی سے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئی کہ ولہان جن وہاں حاضر ہوا۔ جنوں کے سردار کے سر پر لمبے لمبے سینگ اور دانت بھی گردن تک لمبے تھے جسے دیکھ کر اینجل ایک مرتبہ پھر لرزنے لگی۔


” تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو !! مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں بس تمہیں اتنا بتانے آیا ہوں کہ مجھے انسان بہت پسند ہیں۔ انسان بہت خوبصورت ہوتے ہیں میں انسانوں میں سے کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ایک عرصے سے کوئی انسان نہیں مل رہا تھا اب تم آگئی ہو تو میں تم سے شادی کروں گا”۔ جن نے اینجل کو کہہ سنایا۔
اینجل کو اسہی بات کا ڈر تھا کہ جن اس سے یہ ہی کہے گا کیونکہ اس نے سارا واقعہ مینا سے سن رکھا تھا۔
” لیکن آپ کی شادی تو چڑیل سے ہو رہی تھی۔ ” اینجل نے لرزتے بدن اور کپکپاتے لبوں کیساتھ بمشکل ہمت کر کہ پوچھا۔
” ہو رہی تھی ہوئی تو نہیں نا۔ اور ویسے بھی میرے پاس کوئی اور آپشن موجود نہیں تھا لیکن اب تو تم آگئی ہو نا ۔ میں کل دوبارہ آؤں گا۔ تمہارے پاس کل تک کا وقت ہے۔ اپنا جواب سوچ لو اور اگر تم نے انکار کیا تو میں تمہیں بوتل میں بند کر دوں گا”۔ یہ کہہ کر جن وہاں سے غائب ہو گیا۔


اینجل نے ایک مرتبہ پھر مینا کی بوتل کو باہر سے کھٹکھٹایا اور اس سے باتیں کرنے لگی۔
اگلے دن اینجل اسہی کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی پریشانی کے عالم میں اپنا جواب سوچنے لگی اس کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو اسے جن سے شادی کرنا تھی یا پھر ساری زندگی کے لیے بوتل میں قید ہو جانا تھا۔جیسے جیسے شام قریب آتی جارہی تھی اینجل کی پریشانی مزید بڑھتی جا رہی تھی۔اینجل نے مینا سے مشورہ کیا۔ مینا نے اینجل کو انتہائی عمدہ مشورہ دیا اور فیصلہ طے پاگیا۔
شام کو جب جن حاضر ہوا تو اینجل گھبراتے ہوئے جن کی طرف دیکھنے لگی۔
” میں تمہارا فیصلہ سننا چاہتا ہوں۔اپنا فیصلہ جلدی سناؤ ۔” جن نے اپنی خوفناک آواز میں پوچھا ۔
” ممم میں شادی کے لیے تیار ہوں۔ ” اینجل نے اپنا فیصلہ سنادیا ۔
جن خوشی کی خبر سن کے پھولے نہیں سما رہا تھا کیونکہ یہ پہلی انسان تھی جس نے شادی کے لیے حامی بھری تھی۔
” مانگو کیا مانگتی ہو مجھ سے ۔” جن نے اس خوشی کے موقع پر اینجل کو منہ مانگے انعام کی پیشکش کر دی ۔


” جب میں سیاہ جنگل میں گم گئی تھی تو وہاں میں نے ایک کالا پتھر دیکھا تھا اس پتھر کے چونے سے میرے بال اور بھی لمبے ہو جائیں گے ۔اس لیے مجھے کالا پتھر لینے کے لیے سیاہ جنگل میں جانا پڑے گا تاکہ میں آپ کو اور بھی خوبصورت نظر آسکوں۔ ” اینجل نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔
“میں وہ کالا پتھر خود تمہارے لیے ڈھونڈ کر لاؤں گا تمہیں جانے کی ضرورت نہیں۔” جن نے کہا۔


” نہیں نہیں ۔۔ وہ پتھر صرف میں نے ہی دیکھا ہوا ہے آپ کو کیسے ڈھونڈے گا وہ انتہائی منفرد پتھر ہے آپ پہچان نہیں پایے گے۔” اینجل نے مزید بتایا۔
” ٹھیک ہے پھر کل صبح تیار رہنا میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا”۔ اتنا کہہ کر جن وہاں سے غائب ہو گیا ۔
ایک مرتبہ پھر اینجل اداس ہو گئی یہ سوچ کر کہ وہ اس پتھر کو تلاش کر بھی پائے گی یا نہیں ۔


اگلی صبح اینجل جن کے ساتھ طے شدہ جگہ پر پہنچی ۔
” یہاں تو کوئی کالا پتھر نہیں ہے تم نے مجھ سے جھوٹ بولا گستاخ لڑکی۔” جن غصے سے بولا
” نہیں نہیں ۔۔۔۔۔میں نے آپ سے کوئی جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔میں نے پتھر یہیں پر دیکھا تھا۔” اینجل نے بوکھلاہٹ میں بتایا۔
اتنے میں ایک شہزادہ اور اس کے پانچ ساتھی گھوڑوں پہ سوار ادھر آنکلے ۔ شہزادے نے دیکھا کہ جن اینجل پر غصہ کر رہا ہے اور اینجل مصیبت میں ہے شہزادے نے فوری طور پر اپنے گلے میں لٹکے سبز پتھر کو اتار کر جن کی دائیں آنکھ میں مارا جس وجہ سے جن فوری طور پر ہلاک ہو گیا۔
ادھر جن ہلاک ہوا ادھر مینا جس بوتل میں قید تھی ٹوٹ گئی اور وہ بوتل سے باہر آگئی۔چڑیل نے مینا کو محل سے آزاد کردیا کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ مینا کے ہوتے ہوئے اس سے کوئی شادی نہیں کرے گا لہزا اس نے مینا کو بوتل سے نکلتے ہی مینا سے جان چھڑائی۔


” آپ ٹھیک ہیں۔ ” شہزادے نے گھوڑے سے اترتے ہوئے اینجل سے پوچھا۔
” جی ۔۔میں ۔۔۔ وہ۔ ” اینجل نے بوکھلائے ہوئے انداز میں جملا ادھورا چھوڑ دیا۔
شہزادے نے گھوڑے کی پشت پہ رکھے ہوئے تھیلے سے پانی کا مشکیزہ نکال کر اینجل کو دیا۔ کچھ دیر ریلیکس کرنے کے بعد !
” آپ کون ہیں اور اس جنگل میں کیا کر رہی ہے “۔ شہزادے نے پوچھا
اینجل نے اپنا سارا واقعہ کہہ سنایا۔
” ہممم سالوں پہلے میری بہن بھی اس جنگل میں کھو گئی تھی اس لیے اس کو ڈھونڈنے ہر سال یہاں آتا ہوں۔” شہزادے نے اینجل کو بتایا۔
” آپ کی بہن نے بتایا تھا مجھے آپ کے بارے میں۔”۔ اینجل نے ہلکی مسکان کے ساتھ شہزادے کو بتایا ۔


” کیا مطلب ۔۔۔ مینا نے ۔۔۔ آپکو بتایا ۔۔۔ وہ آپکو کہاں ملی۔” شہزادے نے حیرانگی اور خوشی کو ملاتے ہوئے اینجل سے سوال پہ سوال کیا۔
” جن نے مینا کو بھی میری طرح قید کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ لیکن فکر نا کریں مینا نے مجھے بتایا تھا کہ جیسے ہی جن مرے گا وہ خود بخود بوتل سے باہر نکل آئے گی لیکن محل سے کیسے نکلے گی یہ معلوم نہیں۔ اس نے کہا تھا کہ سبز پتھر جن کی دائیں آنکھ میں مارنے سے جن مر جائے گا اس لیے میں جن کو کالے پتھر کا بتا کر سبز پتھر ڈھونڈنے آئی تھی ۔


” اینجل ۔۔۔۔۔ اینجل۔۔۔ ” مینا نے دور سے آتے ہوئے اینجل کو پکارا۔
” مینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اینجل نے بھی مینا کو دیکھ کر اسے گلے لگانے کے لیے قدم بڑھائے۔
اینجل اور مینا نے کچھ دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ اظہار تشکر کیا پھر اچانک مینا کی نظر گھوڑے اور شہزادے پر پڑی شہزادے کی آنکھیں بھر آئی اتنے لمبے عرصے بعد مینا کو دیکھ کر۔ مینا پہچان نہیں پائی مگر وہ کچھ شبہات کی کشمکش میں تھی اور آنکھوں سے شہزادے اور گھوڑے کو ٹٹول رہی تھی جیسے کچھ پوچھنا چاہ رہی ہو۔شہزادے نے قدم آگے بڑھائے۔ مینا کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔ مینا نے کہا یہ تو ابا حضور کا گھوڑا ہے۔ شہزادے نے جواب دیا ہاں تم بچپن میں ہم سے بچھڑ گئی تھی ۔کتنی بڑی ہوگئی ہو تم ۔ پھر وہ خوشی کے آنسو روتے ہوئے ایک دوسرے سے گلے ملے۔اور خوب باتیں کیں۔


اینجل دونوں کو خوش دیکھ کر ایک طرف کھڑی مسکرا رہی تھی۔
شہزادے نے قدم اینجل کی طرف بڑھائیں اور اینجل سے اپنی شادی کی خواہش کا اظہار کر ڈالا اینجل بھی خوشی سے مسکرانے لگی۔
تینوں نے کچھ دیر جنگل میں ہی آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔اینجل نے ایک درخت کو ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں کہ اچانک اس کے کانوں میں آواز پڑی۔
” اینجل۔۔۔۔۔۔۔اینجل اٹھووووووو “
یہ آواز اینجل کی والدہ کی تھی۔


“تم خواب میں اتنا مسکرا کیوں رہی تھی۔ اور کسی شہزادے کا بھی ذکر کر رہی تھی ۔ تمہاری چائے بھی ٹھنڈی ہو گئی ہے تم کتاب پڑھتے پڑھتے ہی سو گئی تھی۔مت پڑھا کرو اتنی ڈراؤنی کہانیاں” مینا کی والدہ نے مینا کو خواب سے بیدار کرنے کے لیے مزید کہا۔
” کیا ۔۔ میں خواب دیکھ رہی تھی” مینا نے افسردگی کے عالم میں آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا۔
” جی ہاں ۔۔۔ اور یہ کتاب ادھر دو مجھے ۔کتنی مرتبہ سمجھایا ہے ایسی کتابیں مت پڑھا کرو ۔۔۔ میں چائے گرم کر کے لاتی ہوں” مینا کی امی نے چائے کا کپ اٹھا کر کیچن کا رخ کیا۔
مینا اپنے بستر کے پاس رکھی انگیٹھی کو دیکھتے ہوئے اپنے خواب کے متعلق سوچنے لگی۔ ختم شد

ولہان جن کی شادی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں