ٍاتباف ابرکؔ کے شعری مجموعہ" آفتاب ہوں میں" کا تنقیدی جائزہ“ 306

ٍاتباف ابرکؔ کے شعری مجموعہ” آفتاب ہوں میں” کا تنقیدی جائزہ“

تحریر شئیر کریں

الزبہ مقرب خان

بی ایس سکالرز ،شعبہ اُردو،گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تخت بھائی مردان ،الحاق شدہ وویمن یونیورسٹی مردان
مسِ روبینہ
ایسوسی ایٹ پروفیسر ،شعبہ اُردو،گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تخت بھائی مردان
Abstract:
The history of Urdu literature is rich with many poets, but few earn a distinguished place like ‘Atbaf Abrak’, also known as Aftab Akbar. Bron in Lahore in 1967, he is the son of the renowned late journalist Ghulam Akbar. While initially involved in real estate and advertising, he later turned to writing dramas for television. He is a dramatist as well as director. Despite some struggles in novel writing, he found success in poetry, publishing his first collection, ‘Aftaab Hoo Mai’, in 2020. This collection showcases his mastery of poetic elements like symbolism, imagery, and emotional depth, reflecting contemporary societal attitudes. In addition to his poetry, he is also a columnist.His column entitled’Jo Daiktha Hoo’ is published in ‘Roz-Nama Al Akhbaar ‘and he is currently working in the same newspaper as a publisher and columnist.

Key words:
Atbaf Abrak, Aftab Akbar, Urdu literature, Television dramas, Anthology, Aftaab Hoo Mai, Symbolism, Imagery, Contemporary Society ,Columnist, Roz-Nama Al Akhbaar:
کلیدی الفاظ:
اتباف ابرکؔ، آفتاب اکبر، اُردو ادب ، ٹیلی ویژن ڈرامے،منتخب کلام ،آفتاب ہوں میں، علامت نگاری ،منظر نگاری ،معاصر معاشرہ،کالم نگار،روزنامہ الاخبار۔
دور جدید کے منفرد شاعراتباف ابرکؔ 2 جولائی 1967 ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اتباف ابرکؔ پاکستان کے شہر لاہور سے تعلق رکھتا ہے۔ان کا اصل نام ” آفتاب اکبر “ہے۔انہی ہجوں کو ادھر اُدھر کر کے اتباف ابرکؔ بنالیا اور اسی نام سے احباب ادب اور لوگوں میں مشہور ہیں ۔آفتاب اکبر اس وقت روزنامہ الاخبار میں بطور پبلشر اور کالم نگار کام کررہے ہیں ۔اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اُردو ادب نے جنوبی ایشیاء کی ثقافتی دولت میں بے پناہ حصہ ڈالا ہے ۔اتباف ابرکؔ ادبی دنیا میں ایک جانا پہچانا نام ہے ،جو اپنی بہترین ادبی تخلیقات کے لئے جانا جاتا ہے ۔اتباف ابرکؔ کا ایک خوب صورت شعر ملاحظہ ہو:
؎ اپنا لکھا مجھے معیوب لگے
وقت لکھے گا تعارف میرا
اتباف ابرکؔ کا شمارجدید ترین شعراء میں ہوتا ہے۔لکھنے کا شوق انہیں بچپن ہی سے تھا ۔انہوں نے ایک ادبی و صحافتی ماحول میں پرورش پائی ۔انہوں نےاپنے ادبی سفر کا آغاز مختصر کہانیوں سے کیا جو میڑک تک مختلف ڈائجسٹوں میں شائع ہوتی رہی۔باقاعدہ ادبی سفر کا آغاز ڈرامہ نگاری سے کیا۔ان کےمتعدد ڈرامے مختلف ٹی وی چینلز (پی ٹی وی ،اے آر وائی ،جیو ،ہم ،این ڈی ایم ۔۔۔)پر نشر ہوئے۔آپ ڈرامہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاریکٹر بھی رہے۔
اگراُردو ادب میں شاعری کے صنف پر ایک سرسری سی نگاہ غزل کی تاریخ پرڈالی جائے، تو آج تک کی تاریخ میں ایک لمبی فہرست دیکھنے کو ملتی ہے۔فارسی شاعری کے زیرِ اثر اُردو شاعری میں غزل گوئی کی ابتداء ہوئی ہے۔امیر خسرو کو اُردو کا پہلا غزل گو شاعر قرار دیا گیا ہے ۔ان کی غزل کی بدولت اُردو شاعری میں غزل کا یہ سلسلہ چل پڑا ۔ولی دکنی اُردو کا پہلا باقاعدہ غزل گو شاعر ہے جن کے کلام کو بنیاد بناء کر دکنی شعراء نے غزل گوئی کی ۔اس کے بعد دبستان دہلی اور لکھنو کے شعراء (میرؔ،غالبؔ ،مومنؔ ۔۔۔ )نے اُردو غزل کی روایت کو آگے بڑھایا ۔ دبستان لکھنو کےاُردو غزل کا جدید دور(حسرتؔ ،فانی ؔ ،یگانہؔ ۔۔۔)شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد کا دور “اُردو غزل کا پاکستانی دور” کہلاتا ہے ۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی اُردو ادب اور بالخصوص اُردو غزل کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ۔شعراء کے ہاں پہلے شاعری فقط گل و بلبل ، مافوق الفطرت عناصر ،تصوراتی دنیا اور شراب و میخانے کی موضوعات تک محدود تھی ۔ بعد میں شاعری بھی نئے دور کےنئے تقاضوں کو قبول کرنے لگی اور حقیقی دنیا کو شاعری کا میدان بنایا گیا۔ شاعری میں معاشرے کو براہ راست موضوع بنا کراوراس میں نئےموضوعات کوشامل کر کے غزل کی صنف میں جگہ دی گئ۔غزل میں خارجی دنیا کے ساتھ ساتھ داخلی کیفیات کو بھی بیان کیا جانے لگا ۔
جدید غزل گو شعراء (قتیلؔ شفائی ،ناصرؔ کاظمی ،احمدفرازؔ،شکیبؔ جلالی۔۔۔)نے غزل کے دامن کو وسیع کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد جدید ترین غزل گو شعراء میں جمالؔ احسانی، شہزادؔ احمد،جون ایلیاء ؔاور عباس تابشؔ وغیرہ شامل ہیں۔
غزل امیر خسرو کے عہد سے لے کریعنی آج اکیسویں صدی کےاحتتام پر بھی اپنے باطنی اظہار کی بیش بہا صلاحیتیں رکھتی ہے ۔اس میں جدید اور قدیم مزاجوں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے ۔یہ اپنےاندرآج بھی وہی توانائی رکھتی ہے جو کسی اور صنف سخن کوآج تک نصیب نہیں ہوئی ۔نظیر صدیقی کی یہ رائے یہاں صادق آتی ہے کہ” غزل اُردو شاعری کی صرف صنف ہی نہیں بلکہ اُردو والوں کےمزاج کا حصہ بن چکی ہے۔”غزل کی یہ کہانی جاری و ساری ہے اور اس میں مزیدشعراء اپنا کردار نبھائیں گے۔غزل محبتوں کی کہانی ہے جو فنا کے نظریئے پر نہیں ہمیشہ بقا کے نظریئے پر چلے گی۔
بقول عباس تابشؔ:
؎ یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی تابشؔ
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مرجاتے ہیں
غزل کی اس کہانی میں عباس تابشؔ کے ساتھ ایک کردار اتباف ابرکؔ بھی نبھا رہے ہیں ۔جواسی نظریئے کواپنے فکر اور فن
کے ذریعے آگے بڑھا رہے ہیں ۔
اتباف ابرکؔ اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے جدید ترین غزل گو شعراء میں اپنا ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں ۔ان کی غزلوں میں ایک نئی آن بان ،نیا آہنگ اور نئی لفظیات کا خوش آئندہ رجحان دیکھنے کو ملتی ہے اور یہ رجحان ان کے غزلوں میں بدلتے ہوئے معاشرے کے عکس میں در آیا ہے ۔اس لئے انہوں نے اپنی غزلوں میں دل کی ہر کیفیت ، موجود وقت کے حالات کی ہر گردش کو شامل کیا ہے۔
شاعری میں اتباف ابرکؔ کو ہر موضوع پر دسترس حاصل ہے ۔”آفتاب ہوں میں“ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔اس میں ان کی ایک حمد،ایک نعت اور پچانوے غزلیں شامل ہیں۔شاعری میں ان کا پسندیدہ صنف غزل ہے۔اس مجموعے میں ان کی بہترین غزلیں ہیں ،جو زندگی کے ہر زاویئے کی عکاسی کرتے ہیں ۔جس کے ذریعے اتباف ابرکؔ کی فکری جہات اور فنکارانہ صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
آفتاب اکبر کے شعری مجموعہ کے بارے میں مختلف ادیب و شعراء کی آراء:
بقول غلام اکبر:
”ایک باپ کی حیثیت سے یہ حقیقت میرے لئے سکون قلب کا باعث ہے کہ میرا یہ ہونہار اور صاحب کلام بیٹا اب صاحب کتاب بیٹا بن رہا ہے ۔لفظ کتاب بڑا متبرک ہے ۔اللہ تعالیٰ بار بار یہ بات شان کے ساتھ کہتا ہے کہ اے رسول میں نے تم پر یہ کتاب اُتاری ۔۔۔۔کتاب انسانی تہذیب کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔“۱؎

بقول خلیل الرحمن قمر :

”واہ ! اتباف ابرکؔ تم نے اللہ کی قسم مجھے چونکا دیا ۔تمہاری شاعری میں موسیقیت بدرجہ اتم موجود ہے۔
؎ ہم جو تیرے بغیر رہتے ہیں
سب دکھاوا ہے دنیاداری ہے“۲؎

بقول عباس تابش:

”اتباف ابرکؔ کے ہاں جو آسانی ہمیں دکھائی دیتی ہے ۔خدا کا کرم ہے ،ان کی نام کی طرح منفرد ہے،انہوں نے جو شاعری کی ہے۔اس میں بے ساختہ پن جو مجھے محسوس ہوا ۔میں سمجھتا ہو کہ وہ بڑی ریاضت کے بعد نصیب ہوا کرتا ہے۔اس مجموعے کی شاعری نے مجھے متاثر کیا ۔اس میں ایک جداگانہ فن اور تازگی ہے۔“۳؎

بقول ڈاکٹر یوسف خشک:

”اتباف ابرکؔ اپنی شاعری کے ذریعے اپنا تجربہ ،مشاہدہ اور سوسائٹی کو کنٹریبیوٹ کرنا چاہتا ہے۔“۴؎

جنید آذر:

”کتاب کے مطالعے سے جو پہلا تاثر سامنے آتا ہے ۔یہی وہ شاعری ہے جو زبان زد عام اور مقبولیت کی اہلیت رکھتی ہے۔ “۵؎

بقول طاہر پرواز:

”اتباف ابرکؔ کے روپ میں آفتاب اکبر نے قاری کا لباس پہنتے ہوئے ہوشیاری سے خود کو چلمن میں چھپائے رکھا اوراتباف ابرکؔ کو لوگوں کے سامنے لے آیا۔“۶؎

بقول محبوب ظفر :

”اتباف ابرکؔ کی فن کی بنیاد گہرے جذبات اور جدید زیست پر استوار ہے۔اس مجموعے کا سب سے خوش آئین پہلو یہ ہے کہ شاعر بہت تازہ دم اور نئے امکانات سے پُر نظر آتا ہے۔“۷؎

بقول اختر عثمان :

” چھوٹی بحر میں جس طرح اتباف ابرکؔ نے شعر نکالے ہیں ۔وہ وقت دور نہیں ، جب شعر سہل ممتنع بن جائیں ۔آفتاب اکبر نے کسی بھی شاعر کا اثر قبول نہیں کیا ۔وہ منزل جہاں اسلوب کے بغیر موت بھی قبول نہیں ہے۔اس راستے پر چلتا ہوایہ شاعر مجھے نظر آیا۔“۸؎

بقول ڈاکٹر انعام الحق جاوید :

”ہماری نئی نسل کہیں آگے کا کلام لکھ رہی ہے۔ہرچند کہ وہ روایت سے جڑی ہوئی ضرور ہے۔“٩؎

بقول ڈاکٹر غافر شہزاد :

”اتباف ابرکؔ کی شاعری کا منبع سچائی سے پھوٹا ہے۔اگر آپ اتباف ابرکؔ کے کتاب سے شروع ہوجائے”آفتاب ہوںمیں” اور پھر اس کے بعد، اس کے ہر شعر کو دیکھے تو ہر دوسرا ،تیسرا شعر جو ہے ۔وہ “میں”کے حوالے سے ہیں۔“۱۰؎

بقول قیصر ریئس :

”اتباف ابرکؔ کی شاعری ہمارے عہد کی رویوں کی تفسیر ہے ۔ان کی شاعری دھوپ کے سفر میں کسی بھی مسافر کے لئے سایہ شجر ہے۔“۱۱؎
اگران کے شعری مجموعے کا جائزہ لیا جائے تو اتباف ابرکؔ نے اپنی شاعری میں عصری ،سماجی ، رومانوی خیالات او ر زندگی کی تلخ حقیقتوں کو شعری قالب میں ڈھالا ہے۔ابرکؔ نے بڑی سادگی کے ساتھ اپنے جذبات ،کیفیات اور خیالات کا اظہار کیا ہے۔اتباف ابرکؔ صرف غم ِجاناں سے شاعری کا دل نہیں بہلاتے بلکہ وہ غم ِدوراں ،انسانی رویوں کی ناہمواریوں اور درد انسانیت سے بھی شاعری کو مُزین کرتے ہیں ۔جیسے مثال کے طور پر:
؎ توبہ کتنا ہے برا نام ابرکؔ

جب وہی نام نہیں لیتے ہیں ۱۲؎
؎ دل کے غربت کا یہ تقاضا ہے
اپنی حالت سے نہیں بنتی ۱۳؎
اتباف ابرکؔ غزل کے مزاج سے بخوبی آگاہ ہیں۔یہی وجہ ہے انہوں نے دیگر اصناف شاعری میں غزل پر خصوصی توجہ دی ہے اُردو غزل گو شاعر کے طور پر اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔اس حوالے سے خلیل الرحمن قمر کہتے ہیں کہ:
”اتباف ابرکؔ ایک ایسا شاعر ہے ۔جس کے ہاں محبت کی واردات ہیں ۔دکھ کو بیان کرنے کا سلیقہ ہے اور لوگوں کو سمجھنے کا ادراک ہے۔وہ جدید شاعر ہے ۔وہ آج کا شاعر ہے یہ جملہ زیادہ موزوں ہے کہ وہ آج کا شاعر ہے۔“ ۱۴؎
اس حوالے سے عباس تابش ؔ کہتے ہیں کہ:
”اتباف ابرکؔ چونکہ غزل کا خمیر اپنی ذات سے اُٹھاتا ہے اپنی محبت سے اُٹھاتا ہے اور اپنے تجربے اور مشاہدے سے اُٹھاتا ہے،تو یہ ساری چیزیں مل کے ایک چھوٹی بحر کی غزل کو ایک جدید دور کی غزل بنادیتے ہیں ۔اسی خصوصیت کی بناء پر میں انہیں جدید دور کا اورجدید غزل کا شاعر مانتا ہوں۔“۱۵؎
غزل کا کینوس کافی وسیع ہے ۔اس میں ہر طرح کے موضوعات سما سکتے ہیں۔اگراتباف ابرکؔ کے اس مجموعے میں غزلیات کو دیکھا جائے تو اس میں یکسانیت نہیں ملتی بلکہ موضوعاتی تنوع اور جدت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔اس حوالے فریحہ نقویؔ کہتی ہے کہ:
”آفتاب اکبر شعراء کی ایک عمومی بھیڑ سے الگ تھلک نظر آتے ہیں۔میں نے آج تک انہیں کسی سینئر شاعر کی چابکدوسیاں کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔میں نے اس شاعر کو ہمیشہ خاموشی سے کائنات کے کینوس پر اپنی شاعری کے رنگ بکھیرتے دیکھا ہےاور ان رنگوں سے پھوٹنے والی روشنی پڑنے والوں کی دلوں تک اُترتی رہی ہے۔یہ روشنی آج “آفتاب ہوں میں”کی شکل میں ہم سب کے سامنے ہیں۔ان کی چند ایک غزل اشعار جو مجھے بہت پسند آئے۔
؎ ڈھونڈتا نہیں میں اُجالوں کو
جب سحر ہوگئی ہر طرف ہوگی
٭
بھلا ہوگا اگر خدا یاد ہوگا
یہاں بھولا وہاں برباد ہوگا
٭
لیپٹاجائے کا جب یہ تماشا
تماشا اصل اس کے بعد ہوگا“۱۶؎
اتباف ابرکؔ غزل کے شاعر ہے ۔ان کے یہاں محبت کی واردات کی رنگا رنگ تصویریں ملتی ہیں ۔جس میں روٹھ جانے کی کیفیت،بچھڑ جانے کی کیفیت ،عہد پیماں کےقصے ،ناصح کی تضحیک ،پاکیزہ جذبات کا بیان کے ساتھ پاکیزہ خیالات الغرض محبت کی شاید ہی کوئی کیفیت ایسی ہو جس کا ذکر اتباف ابرکؔ کی شاعری میں نہ ملے۔محبت کی واردات اور ان کے خیالات و جذبات انسانی نفسیات
سے بھر پور ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں ۔یہی خصوصیت ان کی شاعری میں رنگینی ورعنائی پیدا کرتی ہے۔
؎ یہ بھی لکھا گیا قصور مرا
کہ محبت میں انتہا کی ہے ۱۷؎
اس حوالے سے عباس تابشؔ کہتے ہیں کہ:
” اتباف ابرکؔ بنیادی طور پر محبت کے شاعر ہے۔محبت کا شاعر میں ہر کسی کو نہیں کہتا ۔بہت سے لوگ محبت ،محبت کے راگ آلاپتے ہیں ،لیکن محبت کے شاعر نہیں ہوتے ۔یہ واقعی میں محبت کے شاعر ہے ان کی شاعری میں ہمیں محبت کی مختلف جہتیں دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ شاید محبت کی کوئی کیفیت ایسی نہیں ہوگی جو انہوں نے اپنی شاعری میں بیان نہیں کی ۔اگر وہ کوئی سماجی و سیاسی موضوع کوبھی اپنی شاعری میں لاتے ہیں تو اُس پر بھی محبت کی پرچھائی جوہے وہ مجھے واضح طور پر نظر آتی ہے۔“ ۱۸؎
اتباف ابرکؔ کے ہاں محبت کا ایک جدید انداز پایا جاتا ہے ۔ان کے خیال میں محبت کا کوئی کلیہ نہیں جس کو سمجھا یا سیکھا جاسکے۔ان کی شاعری میں محبت کا رویہ بعض دفعہ جدید انداز اختیار کر لیتا ہے ۔ابرکؔ کی شاعری کا موضوع جو کچھ ہو ،اس پر محبت کی پرچھائی صاف نظر آتی ہے۔روایت وجدت کو اتباف ابرک نے ایک مہارت کے ساتھ یکجا کیا ہے۔ اس حوالے سے اتباف ابرکؔ کے شعری مجموعے سے ایک مثال ملاحظہ ہو:
؎ کوئی کلیہ نہیں محبت میں
جو سمجھتے یا جانتے ہم تم
؎ تیسرے پر ہی منحصر کیوں ہیں
دو مثلث کے زوایے ، ہم تم ۱٩؎
اتباف ابرکؔ ایک حقیقت پسند اورحساس شاعر ہے ۔وہ اپنی غزلوں میں حقیقت پر مبنی ایسے مصرعے تخلیق کرتےہیں کہ وہ اس مجموعے میں صداقت اور سچائی کے جذبے کی تحسین ہے اوریوں قاری کو حقیقت تسلیم کرنے سے گریز نہیں ملتا۔ اتباف ابرکؔ “جو دیکھتا ہوں ” کے عنوان سے کالم لکھتےہیں ۔اس لیے انہوں نےاپنے شعری مجموعے کا عنوان بھی “آفتاب ہوں میں ” رکھا ۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اتباف ابرکؔ نے جو کچھ بھی دیکھا انہیں اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔اپنی ایک غزل میں بڑی سادگی سے اپنوں کی حقیقت بیان کی ہے ۔
؎ پاس آکر بدل ہی جاتا ہے
آدمی بھی سراب ہے یارو ۲۰؎
اتباف ابرکؔ کی شاعری میں ہمیں جذبات کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے ۔جذبات میں موزونیت کی وجہ سے ابرکؔ کے کلام میں ادا کا حسن اور نزاکت خود بخود در آئی ہے ۔ان کا کلام جذبات کے ساتھ فنی باریکیوں سے بھی مالامال ہے۔
؎ میرے شعروں پہ ہے مرتی دنیا
وہی پیغام نہیں لیتے ہیں ۲۱؎
سادہ بحر میں لکھنا اتباف ابرکؔ کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔اتباف ابرکؔ ایک باکمال و منفرد شخصیت کے مالک ہے ۔جسے جدید شاعر کا روح رواں کہا جاسکتا ہے۔
؎ تم پہ گزری ہے تم کہو ابرکؔ
ہم سے آگے بیاں نہیں ہوتا ۲۲؎
اس حوالے سےخلیل الرحمن قمر کہتے ہیں کہ:
”اتباف ابرکؔ کو میں پہلے ایک ڈارمہ رائٹر اور پروڈیوسر کی حیثیت سے جانتا تھا۔بعد میں جب اس کی شاعری کا مجموعہ آیا تو میرے لئے چونکا دینے والا دن تھا ۔میں نے اس کو پڑھا اور بہت خوش ہوا کیونکہ اس کے ہاں تخیل کی پرواز بڑی اعلیٰ اور چھوٹی بحر میں اچھے شعر لکھنے والا ایک بہترین شاعر ہے۔“ ۲۳ ؎
ابرکؔ کی اکثرغزلیں اپنے دور کی سیاسی ،معاشی اور معاشرتی حالات کےآئینہ دار ہیں ۔ابرکؔ نے ایک صاحب ادراک شاعر کی طرح اپنے کلام میں غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ غمِ دوراں کو بھی اپنا ہی دکھ سمجھا ہے ۔ابرکؔ اپنی شاعری میں نا قابل تسخیر سچائیوں کو بیان کرتےہیں۔کیوں کہ زندگی سے متعلق یہ اس کا حقیقت پسندانہ انداز ہے ۔
؎ آج پھرتا ہے جو اس شہر میں ہنستا بستا
کل کے اخبار میں وہ بن کے خبر آتا ہے ۲۴؎
اتباف ابرکؔ کے بعض اشعار صرف فطرت کی منظر کشی ہے ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابرکؔ کو فطرت سے کسی قدر دلچسپی ضرور تھی ۔ان کے یہاں فطرت کی منظر کشی خوبصورت اور واضح ہے ۔وہ فطرت کے حسن سے بے خبر نہیں ہے ۔ابرکؔ کی منظر نگاری کا وہ پہلو بھی اہم ہے جس میں وہ حسن فطرت سے لطف اندوز ہو کر ان کے مزاج میں شگفتگی در آتی ہے ۔اس لئے انہوں نے بڑی خاموشی کے ساتھ حسن فطرت سے لطف و سرور حاصل کیا ۔انہوں نے منظر نگاری میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے ۔اس کے شعری مجموعے سے مثال ملاحظہ ہو:ٍاتباف ابرکؔ کے شعری مجموعہ” آفتاب ہوں میں” کا تنقیدی جائزہ“
؎کٹ رہا ہے شجر شجر یہ چمن
کیسا غافل ہے باغباں اس میں۲۵؎
جدید شاعری میں علامت نگاری کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔جدید غزل میں صنائع وبدائع اور رعایت لفظی کا استعمال کم ملتا ہے۔آج کے شعراء کے ہاں علامتی انداز ملتا ہے۔ابرکؔ کے یہاں دھواں ،سفر،آئینہ و صحرا جیسی مخصوص علامتیں ہیں۔ابرک کے یہاں “صحرا” دنیا کی علامت ہے لیکن کہیں کہیں یہ علامت انہوں نے اُداسی کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔اس کے علاوہ ابرک نے “سایہ ” کو بھی بطور علامت استمال کیا ہے۔
؎ زمیں پہ درد کا سایہ ہوا ہے
ہر ایک چہرہ ہی گہنایا ہوا ہے ۲۶؎
شعراء غزل میں گفتگو کے لئےاستعاراتی زبان کا استعمال کرتے ہیں ۔جس سے بات میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ ایک شعر کے ٍاتباف ابرکؔ کے شعری مجموعہ” آفتاب ہوں میں” کا تنقیدی جائزہ“
ذریعے ہی اتباف ابرک ؔ اپنی بات سمجھا دیتے ہیں ۔ابرکؔ بڑے جاندار طریقے سے نئے اور پرانے استعارات کا استعمال کرتے ہیں۔جو ان کے اشعار میں گہرائی پیدا کرتے ہیں۔ طوفان، زندان ،قفس،آفتاب مثال کے طور پر:
؎ اس طرح آزاد ہیں اب سب فضائیں
قید خود زندان ہوتے جارہے ہیں ۲۷؎
؎ گو سمندر سے نکل آیا ہوں
پھر بھی طوفان سے ڈر لگتا ہے ۲۸؎؎
استعارات و تشبیہات کے ذریعے شاعر پیکر تراشی کرتا ہے ۔پیکر سازی لفظوں کی تصویر کا نام ہے ۔پیکر سازی کو جدید
دور کا امتیاز سمجھا جاتا ہے اور اتباف ابرکؔ نے اپنی غزلوں میں خوب پیکر تراشی سے کام لیا ہے۔
؎ چلو بہار کا اِس بار بیچ یوں بوئیں
کہ دشت دشت ہمیں گلستان بن کے ملے ۲٩؎
اس کے علاوہ ابرکؔ کے اس مجموعے کی غزلوں میں تلمیحات کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ اپنی ایک غزل کے شعر میں “چاہ یوسف “کو بطور تلمیح یوں استعمال کیا ہے ۔
؎ چاہ یوسف میں پھینکنا اُن کا
اس پہ آہ و فغان اپنوں کی ۳۰؎
ابرکؔ کے اس مجموعے میں استفہامیہ انداز جابجا دیکھنے کو ملتی ہے ۔
کیسے ،کب ،کیوں ہوئی قیامت یہ
ان سوالات کو جیا میں نے ۳۱؎
ابرکؔ کی شاعری رشک ، طنز ،درد، آنکھ ،اُمید،دریا،زندان،اخبار،گلاب ،دھواں ،محبت،گماں،مہرباں ، وفا، دیا،خط،سحر،اُجالا، ناز و ادا، وعدہ، اشک اور زمانے کاآئینہ جیسے الفاظ سے عبارت ہیں ۔ان کے شعری مجموعے سے مثالیں ملاحظہ ہو:
؎ جھلسے ہیں اپنے ہاتھ مگر یہ غرور ہے
کوئی دیا ہوا کو بجھانے نہیں دیا ۳۲؎
٭
؎ کون لکھتا ہے ہمیں خط ابرکؔ
خود ہی لکھ لکھ کر جلا دیتے ہیں ۳۳؎
٭
؎ یہ زمانہ ہے آئینہ ،ابرکؔ
دھونڈتا کیا ہے خوبیاں اس میں ۳۴؎
اتباف ابرکؔ کے اس شعری مجموعے کی ابتدائیہ میں آصف نظیرنے ان کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے کہ:
”اتباف ابرکؔ (بحیثیت مجموعی) رشتوں کی گرتی ہوئی اقدار کا ماتم دار،زندگی کی بے ثباتی کا نوحہ گر اور غمِ دنیا و غمِ جاناں کے ہر رمز و کنایے کا جاننے والا ہے جو ایک دیا ہوتے ہوئے بھی سورج کی سوچ رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ بے حسی کی تیرگی میں لپٹا ہوا یہ جہاں پھر سے روشن ہوجائے۔“ ۳۵؎
ٍاتباف ابرکؔ کے شعری مجموعہ” آفتاب ہوں میں” کا تنقیدی جائزہ“
مجموعی طور پراگراتباف ابرکؔ کی شاعری پر مختصرا ً تنقیدی نگاہ ڈالی جائے۔اتباف ابرکؔ کی شاعری زندگی کی تلخیوں اور حقیقتوں سے بھری پڑی ہے ۔ اگرچہ ابرکؔ اپنی زندگی میں آسودہ حال ہے لیکن ابرکؔ نےمعاصر معاشرہ میں ہونے والے حالات و واقعات کا عکس پیش کیا ہے ۔زندگی کے تلخ تجربات ان کی شعری سرمائے کی بنیاد ہیں ۔معاشرے کے تجربات نے ابرکؔ کو تخلیق کا سامان مہیا کیا اور جدید غزل کے سرمائے میں بیش بہا اضافے کا سبب بنا۔
؎ یہی اب آخری خواہش ہے ابرکؔ
کوئی ہماری ہمیں داستان بن کے ملے ۳۶؎
اس مجموعے میں ہمیں ہر موضوع پر بہترین غزلیں ملتی ہیں ۔ان کی غزلیں جدید دور کے سیاسی ،معاشی ،معاشرتی اور سماجی مسائل کے ساتھ پیچیدہ زندگی کے مسائل کی بھی عکاس ہیں۔ان کی غزلوں میں بہترین تشبیہات و استعارات،تلمیحات اور پیکر نظر آتے ہیں۔ اپنی فکر و ہنر سے اتباف ابرکؔ نے جس رفتار سے بہترین غزلیں لکھیں ۔اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ ان کا دوسرا کامیاب شعری مجموعہ بھی جلد ہی منظر عام پر ہوگالیکن شاعری میں ان کی اصل پہچان تو ان کا پہلا شعری مجموعہ “آفتاب ہوں میں” سے ہے اور رہے گا کیوں کہ اسی شعری مجموعے سے ان کو شہرت حاصل ہوئی ۔اس مجموعے کے ذریعے ان کے کلام کا ایک پورا ایک تعارف ہوجاتا ہے اور ان کی شاعری کی ارتقائی منازل کا بھی ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے۔اس حوالے سےآصف نظیرنے ان کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے کہ:
” زیرِ نظر کتاب میں اتباف ابرکؔ نے ورق در ورق زندگی کی قصہ خوانی کی ہےاور اب وہ اس مقام پر ہے کہ کسی لوک داستان کی طرح خود زندگی کا قصہ قرار دیا جاسکتا ہے ، تجربات و مشاہدات کی اس ڈگر پر کبھی وہ خود کو زندگی سے جدا کر کے زندگی کا مشاہدہ کرتا ہے اور کبھی خود کو ہی زندگی سمجھ لیتا ہے اس کی اسی عادت نے اسے زندگی کا خوب جانے والا بنادیا ہے ،یوں لگتا ہے اتباف ابرکؔ اور زندگی کھلی کتاب کی صورت ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں ۔“ ۳۷؎
اتباف ابرکؔ اپنے مضمون “میں کون تھا !” میں اپنی شاعری کے بارے میں یوں رقم طراز ہے کہ:
”اتباف ابرکؔ کی شاعری کے بارے میں بات نہیں کروں گا کہ اگر تنقید کروں گا تو آپ اس کو حسدسمجھیں گےاور اگر تعریف کروں گا تو آپ کہیں گے کہ خود ستائشی کے مرض میں مبتلا ہوں ۔سو میرا خاموش رہنا ہی بہتر ہے ،اتباف ابرکؔ کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا ۔
؎ کون سیکھا ہے صرف باتوں سے
سب کو ایک حادثہ ضروری ہے “ ۳۸؎
اتباف ابرکؔ کا یہ شعری مجموعہ ” آفتاب ہوں میں” ان کا ایک بہترین شعری مجموعہ ہے۔اس شعری مجموعے کے شائع ہونے اور اتنی مقبولیت حاصل کرنے کے بعد اتباف ابرکؔ اعلیٰ شخصیت اور ایک عمدہ شاعر کہلانے کےحق دار ہیں۔

حوالہ جات:
(1 )اتباف ابرکؔ،آفتاب ہوں میں،تعبیر پبلشرز،لاہور،سن اشاعت۲۰۲۰ء،ص۲۰
https://www.facebook.com/100063980411738/videos/app=fbl(2)
https://m.facebook.com/atbaf abrak’s post/29Nov2020(3)
https://m.facebook.com/video.php/?video-id=730316034267875(4)
(5)ایضاً۔۔۔
(6) ایضاً۔۔
https://m.facebook.com/video.php/?video-id=730316034267875(7)
(8) ایضاً۔۔۔
(9) ایضاً۔۔
https://m.facebook.com/video.php/?video-id=730316034267875(10)
(11) https://m.facebook.com/atbaf abrak’s post .video?
(12)اتباف ابرکؔ ، آفتاب ہوں میں،تعبیر پبلشرز ،لاہور ۲۰۲۰ء،ص ۶٩
(13)ایضاً۔۔۔ص ۸۴
(14) ٹیلی فون رابطہ ،خلیل الرحمن قمرؔ ،۳۰ جنوری۲۰۲۴ء
(15) ٹیلی فون رابطہ ، عباس تابشؔ ، ۲٩ فروری ۲۰۲۴ء
https://m.facebook.com/video.php/?video-id=730316034267875 (16)
(17)اتباف ابرکؔ ،آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ،لاہور ۲۰۲۰ء،ص ۵۱
(18) ٹیلی فون رابطہ،عباس تابشؔ ،۲٩ فروری ۲۰۲۴ء
(19)اتباف ابرکؔ ،آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ،لاہور ۲۰۲۰ء،ص ۴۲
(20) ایضاً۔۔۔ ص ۱۰۰
(21) ایضاً۔۔۔ص ۶٩
(22) اتباف ابرکؔ ،آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ،لاہور ۲۰۲۰ء،ص ۵۵
(23) ٹیلی فون رابطہ ،خلیل الرحمن قمرؔ ، ۳۰ جنوری ۲۰۲۴ء
(24)اتباف ابرکؔ ، آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ، لاہور ،۲۰۲۰ء،ص ۳۶
(25) ایضاً۔۔۔ص ۴۸
(26)ایضاً۔۔۔ص ۱۱۰
(27)اتباف ابرکؔ ، آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ، لاہور ،۲۰۲۰ء،ص ۲۸
(28) ایضاً۔۔۔ص ۶۴
(29) اتباف ابرکؔ ، آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ، لاہور ،۲۰۲۰ء،ص ۸۸
(30) ایضاً۔۔۔ص ۱۳۳
(31) ایضاً۔۔۔ص ۱۸۸
(32) اتباف ابرکؔ ، آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ، لاہور ،۲۰۲۰ء،ص ۱۱۳
(33) ایضاً۔۔۔ص ۴۰
(34) ایضاً۔۔۔ص ۴٩
(35) اتباف ابرکؔ ، آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ، لاہور ،۲۰۲۰ء،ص۱۶
(36) ایضاً۔۔۔ص ۸۸
(37) ایضاً۔۔۔ص ۱۵،۱۶
(38) اتباف ابرکؔ ، آفتاب ہوں میں ،تعبیر پبلشرز ، لاہور ،۲۰۲۰ء،ص۲۴
ٍاتباف ابرکؔ کے شعری مجموعہ” آفتاب ہوں میں” کا تنقیدی جائزہ“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں