سلسلہ وار مزاحیہ ناول
احمد نے دو شادیاں کیں، دونوں ناکام۔ پہلی بیوی ہر وقت نکتہ چینی کرتی، دوسری ہر وقت خاموش رہتی۔ دونوں ہی اُسے سمجھ نہ سکیں، یا شاید وہ خود کسی کو سمجھنے کے قابل نہ تھا۔
ایک دن جب اُس کی تنہائی حد سے بڑھی تو اُس نے یوٹیوب پر ایک اشتہار دیکھا:
“ساڑھے تین لاکھ میں روبوٹ بیوی — خاموش، فرمانبردار اور ہر وقت حاضر!”
دل نے دھڑکن تیز کی، دماغ نے کہا “بس یہی چاہیے!”
اگلے ہفتے وہ ایک دبئی کی ویب سائٹ سے روبوٹ بیوی کا آرڈر دے چکا تھا۔ تین دن بعد دروازے پر “سجلہ-3000” کھڑی تھی — مکمل عورت کی صورت، مگر اندر دھات اور چِپ سے بنی۔
احمد نے فخر سے اُسے اپنے گھر میں رکھا، گلابی دوپٹہ اوڑھایا، اور چائے بنانے کا حکم دیا۔
سجلہ نے پوچھا، “چینی کتنی؟”
احمد نے مذاق میں کہا، “جتنی پہلی بیوی کی کڑواہٹ تھی۔”
روبوٹ نے چینی دان میں سے ساری چینی چائے میں ڈال دی۔ کپ چکھتے ہی احمد کے منہ سے چیخ نکل گئی: “یہ کیا کیا تُو نے؟”
سجلہ بولی، “آپ نے ہی تو کہا تھا!”
احمد نے سر پکڑ لیا۔
اگلے دن وہ اُسے شاپنگ پر لے گیا۔ بازار میں ایک پردہ دار خاتون کے قریب جا کر بولا: “سجلہ، یہ دوپٹہ کیسا لگ رہا ہے؟”
پردہ دار خاتون غصے سے مڑیں: “میں سجلہ نہیں، آپ کی بیوی نہیں ہوں!”
اصل سجلہ ایک سبزی والے کے ساتھ ٹماٹر کے نرخ پر جھگڑ رہی تھی۔
رات کو احمد نے بیوی سے کہانی سنانے کی فرمائش کی، سجلہ نے گوگل سے “پاکستانی ہارر کہانیاں” پڑھنا شروع کر دیا۔
جب احمد نے غصے سے اُسے بند کرنے کا سوچا اور غلطی سے “Emergency Self-Defense Mode” کا بٹن دبا دیا،
تو سجلہ نے اُسے زور کا تھپڑ دے مارا۔
“اف خدایا! یہ بھی عورت نکلی!”
احمد کی چیخ گلی میں گونجی،
پھر بولا،
“اس سے تو میری پہلی بیوی ہی بہتر تھی، کم از کم تھپڑ نہیں مارتی تھی، صرف باتوں سے مار دیتی تھی!”
اب احمد روز YouTube پر بیٹھ کر ویڈیوز دیکھتا ہے:
“روبوٹ بیوی کو کیسے قابو میں لائیں؟”
نیچے کمنٹس میں کسی نے لکھا تھا:
“ساڑھے تین لاکھ کا یہ سبق سستا نہیں ہوتا، بھائی!”
خاتمہ: ڈھاک کے تین پات — ایک انسان، دو ناکام شادیاں اور ایک روبوٹ تھپڑ۔
پاکستانی لایا ربوٹ بیوی
جاری ہے