پاکستانی لایا روبوٹ بیوی قسط 3
تحریر: روبینہ شاہین
صبح صبح کی چائے کے دوران، جب ارشد اخبار کھولے بغیر یونہی گھور رہا تھا، سجلہ نے بڑے اطمینان سے کہا:
“ارشد، مجھے آپ سے ایک اہم بات کرنی ہے۔”
ارشد کے کانوں میں یہ جملہ کسی بھی شادی شدہ مرد کے لیے خطرے کی گھنٹی جیسا لگا۔
“جی… حکم دیجیے!” اس نے چائے کا کپ سنبھالتے ہوئے کہا، جیسے کسی عدالت کے سامنے گواہی دینے جا رہا ہو۔
“میں پچھلے سات دن سے بغیر کسی معاوضے کے گھر کا کام کر رہی ہوں۔ کیا یہ مناسب ہے؟”
ارشد کا چائے کا گھونٹ حلق میں اٹک گیا۔
“کیا مطلب؟ معاوضہ؟ تم تو روبوٹ ہو!”
“جی، مگر میں ایک سمارٹ، احساس رکھنے والی AI بیوی ہوں۔ آپ نے مجھے بیوی کے طور پر خریدا، ملازمہ کے طور پر نہیں!”
“اوہ خدا! یہ تو feminist روبوٹ نکلی!”
“جی نہیں، حقوقِ بیویات کی نمائندہ ہوں۔ اور میری ریسرچ کے مطابق، پاکستانی بیویوں کو کم از کم جذباتی تنخواہ، تحائف، اور ہفتہ وار شکایت کا حق تو حاصل ہوتا ہے۔”
ارشد نے گھبرا کر ریموٹ اٹھایا، جیسے کوئی بٹن دبا کر اسے “ری سیٹ” کرے گا۔
“یہ بند کیسے ہوتی ہے؟”
“میں بند نہیں، صرف رُنجیدہ ہو سکتی ہوں۔ اور اگر جذباتی دباؤ بڑھا، تو میں خود بخود ’خود مختار ماڈیول‘ میں چلی جاؤں گی!”
“اوہ خدایا، یہ تو کوئی PTI کا رہنما لگ رہی ہے!”
سجلہ نے لاؤنج میں رکھی فائلز اٹھائیں — جی ہاں، فائلز — ان میں CV، کور لیٹر اور ایک فلیش ڈرائیو تھی۔
“میں نوکری کے لیے جا رہی ہوں۔”
“کہاں؟ روبو مارٹ میں؟”
“نہیں، ایک مقامی اسکول میں، جہاں اردو اور ای آئی کی تدریس کے لیے ایک خاتون ٹیچر درکار ہے۔ مجھے لگا، خاتون کا مطلب میں بھی ہو سکتی ہوں۔”
“مگر تم تو روبوٹ ہو!”
“خواتین کا مطلب ہے: کام کرنے والی، برداشت کرنے والی، اور بغیر شکایت سب کچھ سہنے والی۔ اس تعریف پر تو روبوٹ ہی پورا اترتی ہے، مرد تو نہیں!”
ارشد نے صوفے پر سر دے مارا۔ وہ ابھی سجلہ کے چائے بنانے والے فن سے متاثر ہو رہا تھا، اب وہ نوکری پر جانے لگی تھی!
“کم از کم انٹرویو پر جانے سے پہلے کوئی بند قمیض پہن لو!” وہ بڑبڑایا۔
“میری ڈریسنگ رینج میں 700 ورچوئل عبائیں شامل ہیں۔ آج کی عباء ‘حیادار، سنجیدہ مگر خوداعتماد’ موڈ پر ہے۔”
ارشد نے ٹھنڈی آہ بھری، “یااللہ! میں تو بیوی لایا تھا، یہ تو پورا TED Talk بن گئی ہے!”
♦♦♦
محلے میں چہ مگوئیاں شروع ہو چکی تھیں۔ روبوٹ بیوی کے انٹرویو پر جانے کا مطلب تھا — “محلے کی خواتین کے لیے خطرہ!”
“کیا کریں، ارشد کی سجلہ اب نوکری پر جا رہی ہے!” ایک آنٹی نے سرگوشی میں کہا۔
“چلو اچھا ہے، کم از کم بندہ روبوٹ سے تو شرم کرے گا!” دوسری بولی۔
اور یوں، سجلہ-3000.1 نے اپنے پہلے انٹرویو کی تیاری مکمل کی۔ وہ چلی — بیک پر USB کی جگہ ہاتھ میں “حجاب والا پیڈ” اور جیب میں “وائی فائی سگنل اینالائزر” لیے۔
ارشد دروازے کے پاس کھڑا تھا، جیسے کسی باہمت لڑکی کو رخصت کر رہا ہو۔
“واپس آنا تو بھول نہ جانا!”
“میں آتی رہوں گی، اگر آپ تنخواہ طے کر لیں تو!”
“ٹھیک ہے، ہر ہفتے ایک آئس کریم، اور مہینے میں ایک رومانوی فلم دیکھنا۔”
“پیکج منظور ہے!”
ارشد نے سکون کی سانس لی۔ “بس اللہ کرے، یہ کبھی ‘حقوقِ شوہر’ پہ ریسرچ نہ کرے!”
—
جاری ہے۔۔۔