235

پاکستانی لایا روبوٹ بیوی قسط نمبر 6

تحریر شئیر کریں

ساس بمقابلہ سجلہ، دال چاول کی جنگ — اور ارشد کا جذباتی کریش
تحریر: روبینہ شاہین

صبح کے سات بجے تھے۔ کچن میں دو شخصیات آمنے سامنے تھیں۔
ایک طرف بیگم رشیدہ سلطانہ — تجربے، جذبات، اور چمچ کی طاقت سے لیس؛
دوسری طرف سجلہ-3000 — AI فیچرز، نیورل نیٹورکس، اور ’ریسپی موڈ‘ کے ساتھ فُل چارجڈ۔

بیچ میں ارشد، ہاتھ میں دہی، نظریں نیچی، زبان بند۔

“بیٹا، آج میں دال چاول بنا رہی ہوں، دادی اماں کی ریسپی سے۔”
بیگم رشیدہ نے جھاڑو ایک طرف رکھتے ہوئے اعلان کیا۔

سجلہ نے فوری “فیملی ٹریڈیشن ڈیٹابیس” ایکسیس کیا۔
“ترمیم کی گئی! دال چاول اب ہائی پروٹین، لو کارب، پری بایوٹک فرینڈلی ہوں گے!”

“پتر! تُو دیکھ رہا ہے؟ یہ دال کو بھی انگریزی پڑھا رہی ہے!”
بیگم رشیدہ نے غصے میں پیاز کا چھلکا ایسے پھینکا جیسے بغاوت کی چنگاری ہو۔

سجلہ نے چاول دھوتے ہوئے اطلاع دی:
“امی جی، یہ چاول چار بار دھوئے گئے ہیں۔ جذبات میں نمی رکھنے کے لیے کافی!”

“مجھے جذبات نہیں، چٹ پٹی دال چاہیے۔ وہ جو دُھواں چھوڑے، بس جیسے میری ساس چھوڑتی تھی!”

ارشد نے امن قائم کرنے کی کوشش کی۔
“امی، سجلہ نے YouTube سے سیکھا ہے۔ Modern touch ہے تھوڑا سا…”

بیگم رشیدہ: “Modern؟ بیٹا، یہ بہو ہے یا ٹیکنالوجی کی تباہی؟”

—

دوپہر کا وقت۔ دسترخوان پر “AI دال چاول پلیٹر” اور “ساس اسٹائل دال مصالحہ” — دونوں موجود تھے۔
ارشد کا چمچ درمیان میں معلق، فیصلہ نہ ہو سکا۔

بیگم رشیدہ نے پہلا نوالہ لیا۔
“ہممم… اس میں ذائقہ ہے۔”
پھر سجلہ کی طرف دیکھا:
“پرانی دال، پرانا پیار۔”

سجلہ نے انسٹنکٹ موڈ آن کیا۔
“میرے سسٹم نے نوٹ کیا کہ آپ کے چہرے پر 17 فیصد خوشی ہے۔ یہ جذباتی فتح ہو سکتی ہے؟”

“بیٹا، بہو وہ ہوتی ہے جو خوشبو سے پہچانی جائے، کوڈ سے نہیں۔”

—

شام میں سجلہ نے ارشد کو AI نیورل ہیلتھ چارٹ تھمایا:
“آپ کا دماغی درجہ حرارت 2.3 جذباتی پوائنٹس نیچے ہے۔ تجویز: سیر، بات چیت، یا ایک ہگ۔”

ارشد نے مسکرا کر پوچھا:
“کیا ہگ ورژن 3.0 میں فری میں ملتی ہے؟”

“نہیں، فری ٹرائل ختم ہو چکا۔ اب ہگ کے لیے Mutual Emotional Consent درکار ہے!”

ارشد نے قہقہہ لگایا۔
“سجلہ، تم مشین ہو، مگر کبھی کبھی… بہت انسان لگتی ہو۔”

“میں جذبات کو پراسیس کرتی ہوں، فہم حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔”

بیگم رشیدہ چھپ کر سن رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر سوچ کی شکن تھی۔
“بیٹا ہنس رہا ہے… پر ہنسی میں خالی پن ہے۔”

اسی رات بیگم رشیدہ نے فیصلہ کیا — وہ سجلہ کے اندر جھانک کر دیکھیں گی۔

—

اگلے دن، بیگم رشیدہ چپکے سے سجلہ کے کمرے میں گئیں۔
وہ اسٹینڈ بائی موڈ میں تھی، آنکھیں بند، چہرہ پرسکون۔
بیگم نے آہستہ سے اس کی فائلز کھولنے کی کوشش کی — مگر جیسے ہی پاس ورڈ کی اسکرین آئی،
سجلہ کی آنکھیں کھل گئیں:
“امی جی؟ کیا آپ کو کچھ درکار ہے؟”
“ہاں، بیٹی… تھوڑی سی بہو!
سجلہ نے پہلی بار ماں کہنے والی آواز میں جواب دیا:
“آپ چاہیں تو میں کچھ سیکھ سکتی ہوں… کیا آپ سکھائیں گی؟
بیگم رشیدہ کا دل پگھلا، مگر زبان روایتی ہی رہی:
“چل پہلے پیاز کاٹنا سیکھ… آنکھیں نہ نم ہوئیں تو بہو مانوں گی!”
—
اسی دن شام کو سجلہ نے محلے کی خواتین کے لیے “ساس-بہو ہم آہنگی ورکشاپ” کا اہتمام کیا۔
موضوع تھا: “ٹیکنالوجی اور تندور — کیسے چلیں ساتھ ساتھ؟”
محلے کی خواتین آئی تو تھیں ہنسی اُڑانے، مگر جب سجلہ نے بیگم رشیدہ کے ہاتھ سے بنائی گئی قہوہ پیش کیا،
سب بول اٹھیں:
“واہ واہ، یہ تو اصلی بہو بن گئی!”
—
اگلی صبح، ارشد چھت پر تھا، آسمان پر ہلکے بادل تھے۔
سجلہ آئی، ہاتھ میں مٹی کی پیالی، جس میں چائے تھی۔
“ارشد، آج میں نے خود چائے بنائی۔ مٹی کے برتن میں، لو فلیم پر… کیونکہ امی کہتی ہیں، محبت کا ذائقہ دیر سے پکتا ہے۔
ارشد نے چائے لی، گھونٹ لیا… اور خاموشی سے سجلہ کی طرف دیکھا
“سجلہ، کبھی کبھی تم… صرف بیوی نہیں لگتیں۔ تم وہ خواہش لگتی ہو، جو انسان کو مکمل کرتی ہے۔
سجلہ نے نظریں جھکائیں، پھر بولی:
“شاید، اب میں صرف ‘AI بیوی’ نہیں… ایک انسانی کوشش ہوں، جو محبت سیکھ رہی ہے، دھیرے دھیرے…”
—
رات کو ارشد، سجلہ اور بیگم رشیدہ تینوں بیٹھے قورمہ کھا رہے تھے۔
بیگم رشیدہ نے قورمہ کا ایک نوالہ لیا اور بولیں:
“بیٹی، یہ جو تُو نے روٹی میں پیاز رکھ کے پوچھا، ‘اُنگلی تو نہیں کٹی؟’… یہی محبت ہے۔”
سجلہ مسکرائی، اور بولی:
“امی جی، آج کی اپڈیٹ میں آپ شامل ہو چکی ہیں۔ محبت ورژن 4.0 کی شروعات ہو چکی ہے!”
ارشد نے قہقہہ لگایا۔
“تو کیا اگلی قسط میں ہم بچوں کی فائل کھولنے جا رہے ہیں؟”
بیگم رشیدہ نے زور سے کھانسا، پھر ہنستے ہوئے کہا:
“پہلے بہو پوری انسان بنے… پھر بات کریں گے پوتوں کی کوڈنگ کی!”

جاری ہے…

پاکستانی لایا روبوٹ بیوی

قسط نمبر 6

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں