نداء، دعا اور دادی کا خواب
ناول نگار: روبینہ شاہین
عید کے بعد کی وہ صبح، جو عام طور پر میٹھی خوشبوؤں، قہقہوں اور ملاقاتوں سے بھری ہوتی ہے، آج نداء کے لیے غیر معمولی طور پر خاموش، بوجھل اور گہری تھی۔ جیسے آسمان پر روشنی تو ہو، مگر دل پر کوئی سیاہ چادر تنی ہو۔
ندا نے فجر کی نماز کے بعد چھت کا رخ کیا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں بھی آج ایک عجیب سی تھکن تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا:
“یا اللہ! فلس کے آسمان کے نیچے کیا کچھ گر رہا ہوگا؟”
اس کے ہاتھ میں موبائل تھا، جس پر فلس کے تازہ مناظر تھے۔ اچانک ایک ویڈیو پر اس کی انگلی رک گئی۔ ویڈیو شروع ہوتے ہی ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ پھر دھول، مٹی، چیخیں، اور… وہ بچی۔
ایک چھوٹی سی، گلابی لباس پہنے بچی، بم کے دباؤ سے فضا میں اڑی، پھر ایک دیوار سے ٹکرا کر زمین پر گری۔
ندا کی چیخ نکل گئی، “یا اللہ! یا حیی یا قیوم!”
مگر اگلے لمحے، وہ بچی ہلی، پھر اٹھی۔ زخمی، مگر زندہ۔ جیسے اللہ نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کی جان تھام لی ہو۔ ندا کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
“یہ بچی صرف فلس کی نہیں… یہ پوری امت کی بیٹی ہے۔”
ندا کے دل میں کچھ جاگا۔ وہ فوراً نیچے آئی، قرآن پاک کھولا، اور اپنا جرنل سامنے رکھا۔ اس نے سرخی لکھی:
“قنوت نازلہ — وہ دعا جو جنگ سے طاقتور ہے”
اسے یاد آیا، دادی اماں کہا کرتی تھیں:
“جب میدانوں میں تلواریں کمزور پڑ جائیں، تو سجدوں میں قنوت نازلہ پڑھا کرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جنگِ احد کے بعد کفار کے خلاف قنوت نازلہ پڑھ کر بددعا کی تھی۔”
ندا نے مسنون قنوت نازلہ اپنے جرنل میں درج کی اور ترجمے کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
اسی دن رات کو، ندا نے انسٹاگرام پر قنوت نازلہ کی خطاطی کی تصویر شیئر کی۔ ساتھ لکھا:
“اگر تم کچھ نہیں کر سکتے، تو قنوت نازلہ پڑھ لو۔ اگر تم بول نہیں سکتے، تو اللہ سے فریاد کرو۔ سجدے میدانِ جنگ سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔”
وہ پوسٹ وائرل ہو چکی تھی۔ لوگوں کے پیغامات آنا شروع ہو گئے:
“ہم نے قنوت نازلہ نہیں سنی تھی، اب سیکھیں گے۔”
“ندا! تم نے ہمیں جگا دیا۔”
“ہم ہر فجر کے بعد قنوت پڑھیں گے۔”
مگر اسی رات، ندا کو ایک خواب آیا…
دادی اماں ایک اندھیرے میدان میں کھڑی تھیں۔ ان کے ارد گرد معصوم بچے تھے، جن کے چہرے زخموں سے بھرے تھے۔ وہ اپنے دوپٹے کو پھاڑ کر ان کے زخم باندھ رہی تھیں۔ اور ایک بچی کو گود میں لے کر دادی نے ندا کی طرف دیکھا:
“بیٹی… یہ میرے خواب کے بچے نہیں، فلس کے حقیقت کے پھول ہیں۔ کیا تم انہیں تنہا چھوڑ دو گی؟”
ندا کی آنکھ کھل گئی۔ آنکھوں میں نمی، دل میں آگ۔ اس نے اُٹھ کر وضو کیا اور تہجد میں جا بیٹھی۔ قنوت نازلہ کو سجدے میں دہرایا۔
اگلی صبح، ندا نے ایک اور پوسٹ لکھی:*
عنوان:امتِ واحدہ مہم
تحریر:
“امت ایک جسم ہے۔ فلس کا زخم ہمارا زخم ہے۔ آئیں، اس ظلم کے خلاف تین ہتھیار استعمال کریں:
1. قنوت نازلہ — ہر نماز کے بعد دعا
2. بائیکاٹ — اسرائیلی مصنوعات کا مکمل مقاطعہ
3. فلاح — فلس کے بچوں کے لیے چندہ، راشن، اور آواز
امت کا ہر فرد اب مجاہد ہے۔ قلم سے، زبان سے، یا سجدے سے۔ خاموشی اب جرم ہے۔
#امت_واحدہ_مہم #قنوت_نازلہ #فلسطین_زندہ_ہے”
ندا نے اپنے جرنل میں لکھا:
“جب تلواریں اور افواج پیچھے ہٹ جائیں، تو زبان اور دعا کو میدان میں آنا چاہیے۔ اب ہر نماز کے بعد قنوت نازلہ کا اہتمام ہوگا۔ ہم جو لکھ سکتے ہیں وہ لکھیں، جو بول سکتے ہیں وہ بولیں، اور جو خاموش رہ کر سجدہ کر سکتے ہیں، وہ رو رو کر اللہ سے مدد مانگیں۔ سوشل میڈیا ہمارا منبر ہے، ہم وہاں فلس کے حق میں آواز بلند کریں گے۔”
ندا کے دل میں روشنی جاگ چکی تھی۔ دادی کے خواب نے اس کے جذبے کو جنم دیا تھا۔ اسے یقین ہو چلا تھا کہ امت کی بیداری، قنوت نازلہ، بائیکاٹ اور امداد کے ذریعے فلس میں فجر کی کرن لوٹ آ سکتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے — کیا ہم سب امت کے فرض کو محسوس کر رہے ہیں؟ کیا صرف جذباتی پوسٹس کافی ہیں یا عملی اقدامات بھی ضروری ہیں؟
ایک نئی سوچ ندا کے دل میں جنم لے چکی تھی:
“جب تک امت ایک پرچم تلے جمع نہ ہو، جب تک ہمارے علما، رہنما، اور نوجوان ایک آواز نہ بنیں، ہم صرف سوشل میڈیا پر آنسو بہاتے رہیں گے۔ ہمیں اجتماعی بیداری، اجتماعی جدوجہد اور اجتماعی دعا کی ضرورت ہے۔”
ندا نے جرنل میں لکھا:
“امت کا فرض ہے کہ ج ہ ا د کی اصل روح کو سمجھے — یہ صرف تلوار نہیں، یہ علم، قلم، فہم، اور اتحاد بھی ہے۔ ہمیں ج ہ ا د کا علم بلند کرنا ہے، مگر افسوس! ہمیں منتشر کیا جا چکا ہے۔ کسی کو مسجد کی فکر ہے، کسی کو مسلک کی۔ اور فلس کا بچہ سسک سسک کر کہہ رہا ہے: کیا کوئی ہے جو میری چیخ سنے؟”
ندا کے دل سے صدا نکلی:
“یا اللہ! ہمیں متحد کر دے۔ ہمیں شعور دے کہ ہم ج ہ ا د کے ہر پہلو کو اپنائیں۔ ہم صرف میدانِ جنگ کے مجاہد نہ ہوں، بلکہ سوشل میڈیا کے، علم کے، معیشت کے اور انسانیت کے بھی مجاہد بنیں۔”
ندا نے اب ایک نیا فیصلہ کیا۔ ہر نماز کے بعد قنوت نازلہ کا اہتمام، ہر پوسٹ میں بیداری، ہر گفتگو میں فلسط ین، ہر قدم میں مقصد۔
کہیں نہ کہیں سے آغاز تو کرنا ہوگا۔
جاری ہے…
پہلی اُڑان قسط 41