پہلی اُڑان – قسط37 252

پہلی اُڑان – قسط37

تحریر شئیر کریں

ناول نگار:روبینہ شاہین

ندا کی آنکھ کھلی تو گھڑی پر نظر پڑی، سہری کا وقت قریب تھا۔ وہ آہستہ سے بستر سے اٹھی اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔ ٹورنٹو میں سردیوں کی راتیں لمبی ہوتی تھیں، اور سہری کے وقت باہر ہر طرف سکون اور خاموشی ہوتی تھی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا، برف کی ہلکی پرت زمین پر بچھی ہوئی تھی۔

ندا کے ذہن میں اچانک لاہور کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ وہاں رمضان کا ماحول بالکل مختلف تھا۔ گھر میں امی کی آواز گونجتی، “ندا بیٹا، اٹھ جاؤ! سہری کا وقت ہو گیا ہے۔” باورچی خانے میں گرما گرم پراٹھوں کی خوشبو ہوتی، ابو قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے، اور بہن بھائی ہنسی مذاق میں سہری کرتے۔ یہاں، ٹورنٹو میں، وہ سب کچھ ایک خواب لگتا تھا۔ اکیلے سہری کرنا، جلدی جلدی کھا کر پانی پینا اور پھر نماز کے لیے تیار ہونا، سب کچھ مختلف تھا۔ لیکن یہ قربانی کا مہینہ تھا، اور ندا نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ صبر اور استقامت سے رمضان گزارے گی

ندا کے لیے یہ وقت کئی چیلنجز سے بھرا ہوا تھا۔ وہ لاہور سے ٹورنٹو تک ایک خواب لے کر آئی تھی کہ وہ کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی مکمل کرے گی اور کچھ ایسا تخلیق کرے گی جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو۔ مگر زندگی کے اپنے امتحانات ہوتے ہیں، اور ندا کے لیے سب سے بڑا امتحان اس کی صحت تھی۔

ندا کا تھیسز “آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے قرآن مجید کی تفہیم میں مدد” پر تھا۔ اس نے ایک ایسا ماڈل ڈیزائن کرنے کا سوچا تھا جو قرآن کے الفاظ کو گہرائی سے سمجھے اور ان کے سیاق و سباق کے مطابق تشریح فراہم کرے۔ یہ ایک جدید تحقیق تھی، مگر اس میں بے شمار چیلنجز تھے۔

ندا کو نہ صرف جدید مشین لرننگ ماڈلز کو سمجھنا تھا بلکہ اسلامی علوم کے محققین سے بھی مدد لینا تھی تاکہ وہ قرآنی تفاسیر کی درستگی کو یقینی بنا سکے۔ ایک طرف اس کا ریسرچ ورک پیچیدہ ہوتا جا رہا تھا، اور دوسری طرف اس کی صحت نے کمزوری ظاہر کرنی شروع کر دی تھی۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا سیٹس کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ تھا، کیونکہ قرآن مجید کے سیاق و سباق کو درست طریقے سے سمجھنے کے لیے بڑے اور مستند ڈیٹا سیٹس کی ضرورت تھی۔

چند مہینے پہلے ندا کو بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس کا علاج جاری تھا، اور کیموتھراپی کے سیشنز اسے مزید کمزور کر رہے تھے۔ وہ اکثر لائبریری میں ریسرچ کرتے ہوئے تھک جاتی، اور اسے رک کر آرام کرنا پڑتا۔ لیکن ندا ہمت نہیں ہار رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ آزمائش اس کے ارادے کو کمزور نہیں کر سکتی۔

اس کا دوست دانیال، جو کہ اسی یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو تھا، اکثر اس کا حوصلہ بڑھاتا۔ “ندا، تم نے اب تک جو کام کیا ہے، وہ بہت زبردست ہے۔ اگر تمہیں آرام کی ضرورت ہے تو لو، مگر ہار مت مانو۔” دانیال کی باتیں ندا کے لیے ایک حوصلہ تھیں۔

کبھی کبھار، وہ خود کو آئینے میں دیکھتی اور سوچتی، “کیا میں واقعی اتنی کمزور ہو گئی ہوں؟” لیکن پھر وہ دل ہی دل میں دعا کرتی، “یا اللہ! مجھے ہمت دے۔” یہ دعا اس کے لیے روشنی بن گئی تھی۔

اب رمضان بھی آ گیا تھا، اور ندا نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ روزے ضرور رکھے گی، چاہے اس کے لیے مشکل ہی کیوں نہ ہو۔ یونیورسٹی کی کینٹین میں جب وہ کھانے کے لیے جاتی، تو وہاں کچھ مسلم طالبات کو دیکھتی جو روزے سے ہوتی تھیں اور مغرب کے وقت سب اکٹھے ہو کر افطار کرتیں۔

“ندا، تم ہمارے ساتھ افطار کیوں نہیں کرتیں؟” مریم، جو کہ مصر سے آئی تھی، نے ندا کو دعوت دی۔

ندا نے مسکرا کر جواب دیا، “ضرور، میں بھی تم لوگوں کے ساتھ آؤں گی۔”

یونیورسٹی کے اندر رمضان کا ماحول بہت خوبصورت تھا۔ اسلامی سوسائٹی کے تحت خاص افطار کا انتظام کیا جاتا، اور روزے دار طلبہ کے لیے نماز تراویح کا اہتمام بھی ہوتا۔ مختلف ممالک سے آئے مسلم طلبہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر افطار کرتے، قرآن کی محافل منعقد ہوتیں اور ایک خاص روحانی فضا قائم ہو جاتی۔ ندا کے لیے یہ سب بہت خوشگوار تھا۔ وہ اپنی تکلیف اور تھیسز کے دباؤ کو بھول کر اس روحانی ماحول میں سکون محسوس کر رہی تھی۔پہلی اُڑان – قسط37

ندا نے رمضان میں ایک اور فیصلہ کیا تھا۔ وہ ایک اسلامی مرکز میں تفسیر کی کلاسز لے رہی تھی تاکہ اپنے تھیسز کے لیے مزید گہرائی میں جا سکے۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ قرآن کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کیسے بہتر طریقے سے سمجھایا جا سکتا ہے۔

“اگر ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو صحیح طور پر استعمال کریں تو یہ ایک بہت بڑی تبدیلی لا سکتی ہے،” ندا نے اپنی استاد سے کہا۔

“بالکل، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود قرآن کو سمجھیں اور پھر ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کریں،” استاد نے جواب دیا۔

ندا کو اس گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس نے اپنے نوٹس لیے اور اپنی تحقیق کو مزید بہتر کرنے کا عزم کیا۔پہلی اُڑان – قسط37

رمضان کے آخری دن قریب آ رہے تھے، اور ندا کی جدوجہد بھی تیز ہو گئی تھی۔ اس کا تھیسز آخری مراحل میں تھا، صحت بھی آہستہ آہستہ بحال ہو رہی تھی، اور اس کے دل میں ایک نیا عزم پیدا ہو چکا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ مشکلات آئیں گی، مگر اگر نیت خالص ہو تو اللہ راستے کھول دیتا ہے۔ افطار کی ایک محفل میں، اس نے خود سے کہا، “یہ سب آزمائشیں میرے لیے ایک سبق ہیں۔ مجھے صرف صبر اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔”

ندا کی ہمت اور اس کی کہانی ان سب لوگوں کے لیے ایک مثال بن گئی تھی جو خواب دیکھتے ہیں اور ان کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔پہلی اُڑان – قسط37

نداء نے صبح الارم بجتے ہی گھبرا کر موبائل اٹھایا، وقت دیکھا اور پریشانی سے بولی، “اوہ نہیں! میں لیٹ ہو گئی!”

پھر چند سیکنڈ بعد یاد آیا کہ آج تو ویک اینڈ ہے… سر پکڑ کر خود سے بولی، “میں اپنی ہی زندگی کے ساتھ ٹینشن فری میں رہنا نہیں سیکھ سکتی!”

رمضان، قرآن کا مہینہ ہے، وہ وقت جب وحی نازل ہونا شروع ہوئی۔ یہ صرف روزوں کا مہینہ نہیں، بلکہ خود کو قرآن سے جوڑنے، اس کے معنی کو سمجھنے، اور اپنی زندگی میں اس کی ہدایت کو اپنانے کا بہترین موقع ہے۔

قرآن جرنلنگ اس کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔ یہ محض تفسیر لکھنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ ایک ذاتی مکالمہ ہے جو انسان اللہ کی کتاب سے کرتا ہے۔ ہر آیت کو پڑھ کر اس پر غور کرنا، اپنی زندگی سے جوڑنا، اور اسے عملی طور پر اپنانے کے لیے نوٹس لینا، یہ سب قرآن جرنلنگ کا حصہ ہے۔

ندا کے لیے بھی یہ عمل خاص تھا۔ وہ ہر دن قرآن کی ایک آیت پر غور کرتی، اس کا ترجمہ اور مفہوم لکھتی، اور اپنے دل کی کیفیات کو جرنل میں اتارتی۔ یہ اس کے لیے ایک روحانی سفر تھا، جو اسے پرسکون بھی کرتا اور اس کے اندر حوصلہ بھی پیدا کرتا۔ رمضان میں، جب ہر عمل کئی گنا بڑھ کر لوٹایا جاتا ہے، قرآن کے ساتھ یہ تعلق ایک ایسی روشنی تھی جو اسے زندگی کی مشکلات میں راستہ دکھا رہی تھی۔پہلی اُڑان – قسط37

نداء نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گہری سانس لی۔ کینیڈا کی پر سکون شام میں اسے دور کہیں غزہ کے سائے دکھائی دے رہے تھے۔ بھوک سے بلکتے بچے، ماؤں کی بے بسی، اور وہ افطار کی دسترخوان جو کھانے کے بغیر ہی لپیٹ دیے جاتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے چیلنجز سے گزر رہی تھی، مگر غزہ کے مظلوموں کی آزمائشیں اس کے ہر درد سے بڑی تھیں۔ اسے لگا جیسے اس کا دل دو حصوں میں بٹ گیا ہو—ایک طرف اس کی اپنی جنگ تھی، اور دوسری طرف وہ ظلم جو دن بہ دن بڑھتا جا رہا تھا۔ کیا دعا کافی تھی؟ کیا لفظوں کا سہارا لینا ہی بس تھا؟ نداء کے دل میں ایک سوال گونجنے لگا: “ہم نہیں کر سکتے، مگر دعا تو کر ہی سکتے ہیں… کیا واقعی بس دعا کافی ہے؟”

یہ سوال صرف نداء کے دل میں نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے دل میں گونج رہا ہے جس کا ضمیر زندہ ہے۔ دعا یقیناً ایک طاقت ہے، مگر کیا ہم بس دعا پر اکتفا کر سکتے ہیں؟ نہیں! دعا کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔ آواز بلند کرنا، مدد کے ذرائع تلاش کرنا، کم از کم شعور اجاگر کرنا—یہ سب وہ کام ہیں جو ہر شخص کر سکتا ہے۔

غزہ کے مظلوموں کی آہ و فغاں کو سن کر خاموش رہ جانا بے حسی کی علامت ہے۔ اگر ہم عملی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کی آواز دنیا تک پہنچانے کا حصہ تو بن سکتے ہیں۔ نداء کا سوال ہمارے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے: کیا واقعی بس دعا کافی ہے، یا ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہوگا؟
پہلی اُڑان – قسط37
جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں