ناول نگار: روبینہ شاہین
—
پہلا منظر: لاہور کی مسجد میں ایک سجدے کی کہانی
اذانِ مغرب سے پہلے کا وہ مقدس لمحہ جب آسمان سرخ چادر اوڑھے خون کے آنسو بہاتا ہے۔ ندا مسجد کے صحن میں کھڑی تھی، اس کے ہونٹوں پر خاموش دعا، مگر آنکھوں میں وہ آگ جو ابتہال ابی سعد کی پوسٹ نے بھڑکائی تھی۔
“امی، میں آج عصر کی نماز مسجد میں پڑھوں گی۔”
یہ جملہ کہنے میں اسے سات دن لگے۔ امی نے حیرت سے دیکھا، جیسے وقت کے پرانے اوراق پلٹ رہے ہوں۔
ندا کا سجدہ صرف عبادت نہیں تھا۔ یہ ایک خاموش بغاوت تھی، خود سے، نظام سے، دنیا کی بےحسی سے۔ سجدے کی خاک میں اس کی پیشانی نے جو راز لکھا، وہ صرف زمین جانتی تھی۔
قرآن کھولا تو سورۃ محمد کی آیت نے اسے جکڑ لیا:
“فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ…”
(پھر جب تم کافروں سے ملو تو گردنیں اڑا دو…)
ندا کے ہونٹ کانپے، کیا یہ آیت اس کے اندر کی بےبسی کو چیلنج کر رہی ہے؟
مسجد سے باہر نکلے تو اندھیرا چھا رہا تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی، لیکن اس کے دل میں غزہ کے بچوں کے لیے ایک طوفان اٹھ رہا تھا۔
—
دوسرا منظر: غزہ کی سرنگوں میں ایک استاد
13 سالہ زکریا، جس کے ہاتھ میں کتابوں کی جگہ پتھر تھے، اور بلیک بورڈ کی جگہ ریت، وہ آج بچوں کو حروف سکھا رہا تھا۔ اس کے والد کی شہادت کے بعد، علم ہی اس کا ہتھیار تھا۔
“ابو کہتے تھے: دشمن ہمارے میزائل سے نہیں، ہمارے الفاظ سے ڈرتے ہے۔”
زکریا نے ریت پر “قلم” لکھا۔ پھر ایک پتھر اٹھایا اور اس لفظ کو کندہ کر دیا، جیسے تاریخ کو چیلنج کر رہا ہو۔
اس کی ماں، فاطمہ، جو خود بھوکی رہ کر بچوں کو کھانا کھلاتی تھی، آج قنوتِ نازلہ پڑھ رہی تھی۔ اس کی دعاؤں میں ندا کا نام بھی تھا، وہ ندا جسے وہ کبھی ملی نہیں تھی۔
—
تیسرا منظر: لاہور میں ایک انقلاب کی تخلیق
ندا نے زکریا کی ویڈیو دیکھی، وہ لمحہ جب اس کے آنسووں نے کی بورڈ کو تر کر دیا۔
“امی… کیا ہم صرف لکھ سکتے ہیں؟”
“بیٹا، جب تلواروں کے سامنے قلم ہتھیار بن جائے تو وہ زخم دیتا ہے جو کبھی مندمل نہیں ہوتا۔”
ندا نے Notion پر “ZAKARIA FILES” بنایا۔ پہلی لائن لکھی:
“جب ایک بچہ پتھر پر حروف کندہ کرتا ہے، تو وہ زمانے کی دیواروں پر چٹان پھینک رہا ہوتا ہے!”
—
چوتھا منظر: زوم میٹنگ میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
ندا کے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر ابتہال ابی سعد کی تصویر تھی، وہ Google چھوڑنے والی لڑکی جس کے ہاتھ میں اب Linux کی چابیاں تھیں۔ وہ ایک زوم میٹنگ میں تھے، پردے کے پیچھے نہیں، بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔
“تمہاری پوسٹ نے مجھے بدل دیا،” ندا نے کہا، اس کی آواز میں وہ لرزش تھی جو صرف سچے جذبات میں ہوتی ہے۔
ابتہال نے مسکرا کر جواب دیا: “ہر انقلاب کی شروعات ایک پوسٹ سے ہوتی ہے، ندا۔ لیکن اس کا اختتام ایک قوم کی جاگتی ہوئی آنکھوں پر ہوتا ہے۔”
ان کی بات چیت کے دوران، ندا نے اپنے نوٹس میں لکھا: “ہم اپنا براؤزر بنائیں گے، ایسا جو ہمارے خوابوں کو فلٹر نہ کرے۔”
—
میٹنگ ختم ہوئی تو ندا نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، لیکن اب اسے ایک نئی صبح کی کرن نظر آ رہی تھی۔
اس نے اپنے کمپیوٹر پر ایک نیا ٹیب کھولا اور سرچ کیا: “کیسے اپنا براؤزر بنایا جائے؟”
جاری ہے…
—
پہلی اُڑان – قسط43