273

“پہلی اڑان”  قسط 7:

تحریر شئیر کریں

“پہلی اڑان”  قسط 7:

روبینہ شاہین

نداء اس دن یونیورسٹی میں اپنے تحقیقی منصوبے پر کام کر رہی تھی کہ اچانک اس کے موبائل کی اسکرین پر ایک میسج کی نوٹیفیکیشن آئی۔ جب اس نے میسج کھولا تو دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اس کے والد کی حالت بگڑ گئی تھی اور ڈاکٹروں نے انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کر دیا تھا۔

“نہیں! یہ کیا ہو رہا ہے؟” نداء نے پریشان ہو کر اپنی کرسی پر سر جھکایا، اور اس کے سامنے پڑی کمپیوٹر کی اسکرین غائب ہوگئی جیسے اس کے دماغ میں صرف اپنے والد کی حالت رہ گئی ہو۔ حراء جو اس کے قریب بیٹھی تھی، فوراً اس کے پاس آئی اور نداء کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “پریشان نہ ہو، نداء! اللہ بہتر کرے گا، تمہاری دعائیں تمہارے والد کے ساتھ ہیں۔”

“میں تو کبھی اپنے والد کے بغیر نہیں رہ سکی، حراء، اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ بھی نہیں بچا!” نداء کی آواز لرز رہی تھی۔

“اللہ تمہیں صبر دے گا، اور تمہیں اپنے والد کی صحت کی بہتری کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ تمہاری محنت اور دعائیں ہی تمہارے والد کے لیے سب سے بڑی قوت بن سکتی ہیں۔” حراء نے اسے تسلی دی۔

—

وہ دونوں یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حراء نے نداء کے ساتھ اپنی پڑھائی کے کچھ نوٹس شیئر کیے، لیکن نداء کی توجہ کہیں اور تھی۔ وہ اپنے والد کی بیماری کے بارے میں سوچ رہی تھی اور ان کے لیے کچھ بہتر کرنے کے طریقے تلاش کر رہی تھی۔ اس کے ذہن میں فلسطین کے مسئلے کے بارے میں اس کی حالیہ ریلی کے الفاظ گونج رہے تھے، لیکن اس وقت اسے اپنے والد کی حالت کی زیادہ فکر تھی۔

“حراء، مجھے واقعی فکر ہو رہی ہے۔ کیا میں ان سب چیزوں کو صحیح طریقے سے نبھا پاوں گی؟ پی ایچ ڈی، والد کی بیماری، اور پھر فلسطین کا مسئلہ، سب کچھ ایک وقت میں؟” نداء نے بے چین ہو کر کہا۔

“تمہارا دل مضبوط ہے، نداء، اور اللہ کے ساتھ تمہارا یقین بہت مضبوط ہے۔ تم ان تمام چیلنجز کو عبور کر سکو گی۔” حراء نے اس کی ہمت بندھائی۔

—

شام کو نداء نے اپنی دوست ثانیہ کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔ ثانیہ نداء کے لیے ہمیشہ ایک سائباں ثابت ہوتی تھی۔ دونوں یونیورسٹی کے کیفے میں بیٹھی، کافی پی رہی تھیں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات کر رہی تھیں۔

“پچھلے کچھ دنوں میں تم بہت پریشان لگ رہی ہو، نداء، سب ٹھیک ہے؟” ثانیہ نے نرمی سے پوچھا۔

“ہاں، بس والد کی طبیعت اور کچھ ذاتی معاملات مجھے الجھائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود میں اپنی محنت کو جاری رکھنا چاہتی ہوں۔” نداء نے کھنکھراتے ہوئے جواب دیا۔

“تمہارا جذبہ ہمیشہ تمہیں راستہ دکھائے گا، نداء! تم اپنی پڑھائی اور اپنے والد کے لیے بہترین کام کر رہی ہو، اور جو لوگ تمہیں جانتے ہیں، وہ تمہاری محنت اور عزم کی قدر کرتے ہیں۔” ثانیہ نے نداء کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

—

گھر واپس آ کر نداء نے اپنی جرنلنگ کا آغاز کیا۔ اس کے ذہن میں تمام گزرے ہوئے لمحے، حالات، اور ان سے جڑی دعائیں اور عزم چھایا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔

“اللہ کا شکر ہے کہ مجھے یہ موقع ملا کہ میں اپنے والد کے لیے دعائیں کر سکوں۔ زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے، میرے دل میں یہی یقین ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ میرے ساتھ ہوگی۔ میں نے آج اپنے دل کی باتوں کو قرآن کی ایک آیت سے جوڑا، جس نے میری ہمت بڑھائی:

> “لَنُحْشِنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۖ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ”
> (سورۃ البقرہ 2:155)
> “ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے، اور خوشخبری دے دو صبر کرنے والوں کو۔”

“اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے کا موقع دیا ہے، اور میں ہر حال میں اس کے راستے پر چلنے کا عہد کرتی ہوں۔”

—

نداء نے بعد ازاں رات کے کھانے کی تیاری کی۔ اس نے اپنے پسندیدہ کھانے پکانے کی کوشش کی تاکہ وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنے خیالات کو الگ کر سکے۔ اس نے اپنے لیے انڈے کا مغز بنایا تھا اور اوپر سے چیز کی کوٹنگ کر کے خود کو بہلانے کی کوشش کی تھی۔

—

اسی دن نداء نے فیصلہ کیا کہ وہ نہ صرف اپنے والد کی صحت کی بہتری کے لیے دعا کرے گی، بلکہ فلسطین کے عوام کے لیے بھی اپنے فرض کا تاثر چھوڑے گی۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی کے ہر قدم پر اللہ کی مدد اور صبر ضروری ہے، اور اسی جذبے سے اس کا سفر جاری رہے گا۔

**
نداء اپنے موبائل میں میسجز دیکھتے ہوئے بے سکونی محسوس کر رہی تھی۔جس میں والد کی صحت کی۔مزید خرابی کی اطلاعات تھیں۔ اس کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا: **والد کی بیماری**، اور اس کا دل مسلسل ٹوٹ رہا تھا۔ حالانکہ، حراء اور ثانیہ کی باتوں سے اسے کچھ سکون مل رہا تھا، لیکن سردی اور برف نے پورے شہر کو گھیر لیا تھا، اور نداء کی زندگی کی یہ مشکل گھڑی اس کا دماغ جکڑے ہوئے تھی۔

حراء اور ثانیہ دسمبر کی چھٹیوں میں سیر کا پروگرام بنا رہی تھیں۔ دونوں بہت خوش اور پرجوش تھیں، لیکن نداء کی حالت کچھ مختلف تھی۔ اس نے اپنی زندگی کے ان دنوں میں کئی امتحانوں کا سامنا کیا تھا اور اس وقت بھی اسے مالی پریشانی کا سامنا تھا۔ برف کی دھیمی پڑتی تہہ شہر میں ہر طرف سفید چادر کی طرح پھیل گئی تھی، اور اس کی سردی میں اضافہ ہو چکا تھا۔ نداء کی آنکھوں میں ایک غیر واضح غم تھا، وہ حالات کی شدت سے نپٹنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن اس کے ذہن میں اللہ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ اپنے مسائل بھی سر اٹھا رہے تھے۔

حراء اور ثانیہ نے سیر کے لیے جگہوں کے بارے میں مختلف تجاویز دیں، لیکن نداء کی نظریں ان کے چہروں پر مسکراہٹوں کے بجائے اپنی مالی حالت کے بارے میں فکرمندی سے بھری ہوئی تھیں۔ اسے پیسوں کی ضرورت تھی تاکہ وہ اپنے والد کے علاج میں مزید مدد کر سکے۔

“تمہیں کبھی نہیں لگتا کہ ہمیں وقت نکال کر کچھ آرام کرنا چاہیے؟” ثانیہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
“بالکل!
۔………..

نداء نے آج ایک خوشی کی خبر سنی۔ وہ جس پروجیکاٹ پہ کام کر رہی تھی، اس کا پھل مل چکا تھا۔ اس کی محنت رنگ لا رہی تھی۔ وہ ایک کمیٹیشن پروگرام میں حصہ لے چکی تھی اور اب اس کی کامیابی پر انعام کا اعلان ہو چکا تھا۔ یہ انعام صرف مالی لحاظ سے نہیں، بلکہ اس کی محنت کے تسلیم ہونے کی ایک علامت تھی۔ نداء کا دل خوشی سے بھر گیا۔

“یہ اللہ کی مہربانی ہے!” نداء نے دل میں شکر گزار ہو کر کہا، اور فوراً اس انعام کی رقم اپنے والد کی علاج کے لیے پاکستان بھیج دی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے والد کی بیماری نے گھر کے مالی حالات کو مشکل میں ڈالا تھا، اور اس رقم سے نہ صرف علاج کی سہولت ملے گی بلکہ گھر کے دیگر اخراجات بھی پورے ہو سکیں گے۔

—

انعام ملنے کے بعد، نداء کو ایک لمبے وقت کے بعد تھوڑی سکون محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ اپنی دوستوں حراء اور ثانیہ کو دعوت دے کر ان کے ساتھ یہ خوشی بانٹے۔ یہ دونوں اس کے لئے ہمیشہ ایک سہارا بنی تھیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔

“آج میں اپنے دوستوں کو دعوت دوں گی۔ ہم سب مل کر کچھ خوشی کے لمحے گزاریں گے۔” نداء نے یہ فیصلہ کیا۔

—

اس نے فوراً کھانے کی تیاری شروع کر دی۔ نداء کو کھانا پکانے کا شوق تھا، اور وہ اپنے ہاتھ سے تیار کردہ پکوانوں میں خاصی مہارت رکھتی تھی۔ اس دن اس نے چکن کڑاہی، چپلی کباب، اور بریانی تیار کی۔ ان پکوانوں کے ذریعے وہ اپنی محبت اور محبت بھرا پیغام اپنے دوستوں تک پہنچانا چاہتی تھی۔

حراء اور ثانیہ دونوں خوشی خوشی نداء کے گھر پہنچیں۔ گھر میں داخل ہوتے ہی خوشبو نے ان کا استقبال کیا۔ “تمہارے ہاتھوں کا کمال ہے، نداء! ہر بار تمھاری کھانے کی خوشبو ہمیں لاہور کی یاد دلاتی ہے!” حراء نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ثانیہ نے ہنستے ہوئے کہا، “آج تم نے ہمیں لاہور کی لذتوں کا مزہ چکھایا ہے۔”

—

کھانے کے دوران، تینوں دوستوں کے درمیان ہنسی مذاق اور باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ نداء نے بتایا کہ اس انعام کے پیسے اس نے اپنے والد کے علاج کے لیے بھیجے ہیں۔ حراء اور ثانیہ دونوں نے اس کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ہمیشہ اس کی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتی ہیں۔

“تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ تمہاری محنت اور لگن کا نتیجہ ہے، نداء۔” ثانیہ نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔ “ہمیشہ یاد رکھو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، تمہاری ہر خوشی میں شریک ہیں۔”

—

کھانے کے بعد، تینوں نے کچھ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارا۔ نداء کو ان کے ساتھ یہ وقت گزار کر دل کی سکون مل رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی کی مشکل راہوں پر چلتے ہوئے، دوستوں کی حمایت اور محبت بہت قیمتی ہوتی ہے۔

“یہ لمحے کبھی نہیں بھولوں گی۔” نداء نے دل میں کہا، اور اس کا دل ایک نیا عزم اور حوصلہ محسوس کر رہا تھا۔

—

اسی لمحے، نداء نے فیصلہ کیا کہ اس کا اگلا مقصد صرف اپنے والد کی صحت کی بحالی نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے مزید محنت کرے گی۔ اس نے اپنے دوستوں سے وعدہ کیا کہ وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گی اور ہمیشہ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی۔

“ہم سب کا وقت آئے گا، ان شاء اللہ۔” نداء نے سوچا، اور ایک نئے جذبے کے ساتھ اس نے زندگی کے اگلے قدم کی طرف بڑھنا شروع کیا۔

—
جاری ہے۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں