روبینہ شاہین
رات کا وقت تھا، نداء اپنے کمرے میں آرام دہ انداز میں بیٹھی ہوئی تھی، ایک نرم کمبل لپیٹے ہوئے، ہاتھ میں چائے کا کپ لیے۔ باہر برفباری کا منظر دلکش تھا۔ چاند کی ہلکی روشنی برف پر پڑ رہی تھی اور ہر طرف چمک رہی تھی۔ یہ منظر اتنا خوبصورت تھا کہ نداء نے چند لمحے اپنی آنکھیں بند کر کے اس قدرتی منظر میں غرق ہونے کی کوشش کی۔
“یہ منظر واقعی دل کو سکون دیتا ہے،” نداء نے خود سے کہا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی خوشی اور سکون تھا، جیسے برف کی ٹھنڈک اس کے اندر تک پہنچ کر اسے راحت دے رہی ہو۔
اس کے ذہن میں کل کی باتیں چل رہی تھیں۔ تحقیق میں ہونے والی پیشرفت، والد کی حالت میں بہتری، اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد کا سکون۔ سب کچھ بہت خوبصورت لگ رہا تھا، اور نداء کو یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس کی زندگی میں بھی ایک نیا موڑ آ چکا ہے۔
حراء اور ثانیہ کے ساتھ کل کا دن بہت خاص تھا۔ جھیل کے کنارے پر بیٹھ کر، کشتی کی سواری کرتے ہوئے، وہ سب اپنی دنیا کے تمام مسائل کو بھول چکی تھیں۔ اس لمحے میں وہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ تھی، اور اس خوبصورت قدرتی منظر کا حصہ بن چکی تھی۔
چائے کا کپ ختم کر کے نداء نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ برف کی بارش مسلسل جاری تھی، اور اس کی ٹوٹ کر گرتی ہوئی برف نے زمین پر ایک سفید چادر بچھا رکھی تھی۔ دل میں ایک نئی امید اور حوصلہ پیدا ہو رہا تھا، جیسے زندگی میں جتنی بھی مشکلات آئیں، ان سب کو عبور کرنے کی طاقت مل گئی ہو۔
“زندگی میں ہمیشہ ان لمحوں کو یاد رکھنا چاہیے، جب سب کچھ سکون اور امن میں ہوتا ہے،” نداء نے دل میں سوچا، اور پھر ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی۔
۔….
اسی لمحے نداء کے دماغ میں ایک نیا ارادہ آیا۔ اس نے سوچا کہ وہ اپنی زندگی میں مزيد محنت کرے گی، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے۔ وہ جانتی تھی کہ جو بھی مشکلات آئیں، اللہ کی مدد سے وہ ان کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
“آج کا منظر مجھے نئی قوت دے رہا ہے۔” نداء نے دل میں کہا، اور پھر اس نے اپنے تحقیق کے اگلے مرحلے پر کام کرنا شروع کر دیا۔
۔… . . . . . .
صبح کا وقت تھا، نداء کچن میں کھڑی تھی اور ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ آٹے کی نرم گوندھنے کی آواز اور چائے کے کپ کی چمچ کے ساتھ ہلکی سی آواز سے پورا کمرہ گونج رہا تھا۔ جیسے ہی ناشتہ تیار ہوا، نداء نے خود سے کہا، “میں خود پر یقین رکھتی ہوں، اللہ میرے ساتھ ہے، اور ہر کام میں کامیاب ہوں گی۔” اس کی آنکھوں میں چمک تھی، اور دل میں ایک نئی توانائی۔
چائے کا کپ اٹھا کر، اس نے باہر کی طرف ایک نظر ڈالی۔ برفباری دوبارہ شروع ہو چکی تھی اور اس کے سفید دھارے ہوا میں معلق ہو کر زمین پر گر رہے تھے۔ اس خوبصورت منظر نے نداء کے دل میں ایک اور جذباتی تبدیلی پیدا کر دی۔
“زندگی کی تمام مشکلات کو اللہ کی مدد سے آسان بنایا جا سکتا ہے۔” یہ خیال اس کے دل میں مزید پختہ ہو گیا۔
۔……..
لائبریری میں بیٹھے ہوئے، نداء الجزیرہ کا مطالعہ کر رہی تھی، اور اس کے سامنے موجود کتابوں میں غرق ہو گئی تھی۔ اچانک، اس کی نظر ایک جیل کے قیدی کے حوالے پر پڑی جو کچھ سال پہلے ایک سوال کے جواب میں کہہ رہا تھا، “میں چالیس سال پہلے جیل آیا تھا، اور مجھے آج رہائی کے بعد پتہ چلا کہ موبائل ایجاد ہو چکا ہے۔” اس نے یہ جملہ گہری سوچ میں ڈوبا دیا۔
“یہ کتنا عجیب ہے،” نداء نے دل میں کہا، “ایک قیدی جسے دنیا کی ترقی سے آگاہ نہیں تھا، وہ اب رہائی کے بعد ان تبدیلیوں کو دیکھ رہا ہے۔” یہ جملہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے انقلاب کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ ایک انسان کی زندگی سے چالیس سال چھن جانے کی تلخ حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے۔ چالیس سال—ایک نسل کا عرصہ—جس میں دنیا نے بے پناہ ترقی کی، اور یہ قیدی ان تمام تبدیلیوں سے محروم رہا۔
یہ واقعہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جیلوں میں قید افراد کی اذیت ناک زندگی کی جھلک پیش کرتا ہے۔ صیدنایا جیل، جو انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ظلم و جبر کی ایک بدترین مثال ہے، ایسی جگہ ہے جہاں قیدیوں کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اذیتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
۔…..
ایک شام، نداء، حراء، اور ثانیہ کافی پی رہی تھیں۔ نداء چائے کے ایک کپ کے ساتھ ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ ثانیہ نے مذاق کرتے ہوئے کہا، “تم چائے کیوں پیتی ہو؟ میں نے سنا ہے کہ کافی بلی کی پوٹی سے بنتی ہے۔”
یہ سن کر، نداء نے اسے گہری نظر سے دیکھا اور کہا، “کیا تم نے تحقیق کی ہے؟ کیا یہ حقیقت ہے؟”
حراء نے قہقہہ لگایا اور کہا، “اب یہ تحقیق بھی کرنی پڑے گی۔”
“کافی واقعی بلی کی پوٹی سے نہیں بنتی،” نداء نے وضاحت دی، “کافی ایک درخت کے بیج سے بنتی ہے جس کا نام ‘کافی کا درخت’ یا ‘کافی عربیکا’ ہے۔ اس کے بیجوں کو کاٹ کر، سوکھا کر، پھر ان کا پاؤڈر بنا کر گرم پانی میں ڈالا جاتا ہے تاکہ اس کا ذائقہ نکالا جا سکے۔”
“لیکن کیا تم نے کبھی اس درخت کی اصل بات سنی ہے؟” نداء نے کہا، “کافی کا درخت ایک خوبصورت درخت ہوتا ہے جو گرم علاقوں میں اگتا ہے، اور اس کے بیجوں کا استعمال قدیم زمانے سے کیا جا رہا ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔
گھر آ کر، نداء نے مونگ کی دال پکائی، بھگار لگایا اور ایک روٹی کے ساتھ کھانا تیار کیا۔ کھانے کی خوشبو پورے گھر میں پھیل گئی تھی۔ اس کا دل خوش تھا کیونکہ یہ اس کا پسندیدہ کھانا تھا، اور اس نے اس میں اپنی محنت اور محبت ڈالی تھی۔اس کے بعد کافی بنائی اور مسکراتے ہونٹوں کے ساتھ سپ سپ پینے لگی ,کافی کے بارے میں آگاہی اور آج کا واقعہ ساتھ تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ بھی بتاتا کہ سنی سنائی باتوں پہ یقین نہیں کرنا چاہیے۔ نداء نے کافی کا دلچسپ واقعہ پاکستان میں سب کو مزے لے لے جر بتایا،جسے سن کر سب بہت ہنسے نداء کی ایک اور بونگی پر
۔…….
رات عشاء کی نماز کے بعد، نداء قرآن پڑھ رہی تھی اور ایک آیت پر اس کی نظریں رک گئیں۔ “الم یان الذین آمنوا أن تخشع قلوبهم لذکر اللہ…” (کیا ایمان والے لوگوں کے دل اللہ کے ذکر سے نرم نہیں ہو گئے؟)
یہ آیت نداء کے دل میں اتر گئی۔ اس نے سوچا، “کیا وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے دلوں کو نرم کریں؟”
۔…….
جرنلنگ کرتے ہوئے، نداء نے صیدیانہ جیل کے قیدیوں کی رہائی اور اس آیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، مسلم حکمرانوں کے بارے میں سوچا۔ “کیا ہمیں نہیں آنا چاہیے کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کے لیے متحد ہو جائیں؟” یہ سوال اس کے ذہن میں گہرا اثر چھوڑ گیا۔
“ہمیں اپنے معاشرتی اور سیاسی فراِئض کو سمجھنا چاہیے اور یہ سوالات اٹھانے چاہیے،” نداء نے اپنے جرنل میں لکھا، “جیسے کہ اس آیت میں کہا گیا ہے، ہمیں اپنے دلوں کو نرم کرنا ہوگا اور دوسروں کے دکھوں کو سمجھنا ہوگا۔”
—
**جاری ہے…**
—