231

“پہلی اڑان”6 ناول

تحریر شئیر کریں

—

نداء اپنے کمرے میں ، کمپیوٹر اسکرین کے سامنے سر جھکائے بیٹھی تھی۔ تین ماہ ہو چکے تھے، اور وہ ٹورنٹو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کمپیوٹر سائنس کے پروگرام میں پورے جوش و جذبے کے ساتھ مصروف تھی۔ لیکن ابھی تک، ایک چیز اس کے ذہن میں تھی جو اسے چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی تھی—کیا وہ اس مشکل پروگرام میں اپنے قدموں کو ثابت قدمی سے آگے بڑھا سکے گی؟کیا وہ اس فیلڈ میں کچھ نیا کچھ مبفرد کارنامہ۔سرانجام دے پائے گی۔نداء پڑھنے نہیں آئی تھی وہ کچھ کرنا چاہتی تھی دنیا کو کچھ دینا چاہتی تھی۔

“اب تم اس مرحلے سے آگے جا سکتی ہو، نداء!” خود کو حوصلہ دیتے ہوئے اس نے ایک اور کوڈ کا پیس جاری کیا، لیکن پھر یک دم اس کے دماغ میں ایک سوال آیا: “اگر یہ ناکام ہو گیا تو؟”

حراء، جو ہمیشہ کی طرح نداء کے قریب ہی تھی، اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی، “پہلے ہی تین مہینے گزار چکی ہو، نداء، اب تو تم اپنے آپ کو بے حد مضبوط سمجھو۔ تم نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کتنی مشکلات کا سامنا کیا ہے، اس کے بعد یہ چھوٹے مسائل تمہیں کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟”

“ہاں، لیکن جب کمپیوٹر سائنس کے اساتذہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آ رہا ہوتا، تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔” نداء نے مسکرا کر کہا، اور پھر اس کی ہنسی میں ایک بونگی شامل ہو گئی۔ “اچھا، تم ہی بتاؤ! جب پروفیسر کے سوالات اتنے پیچیدہ ہوں، تو کبھی کبھی ایسے لگتا ہے جیسے کوئی خلائی جہاز بھی ان سے جڑا ہو!”

حراء نے ہنستے ہوئے کہا، “تمہیں تو چاند پر جانے کا خیال بھی آ چکا ہے! لیکن فکر نہ کرو، نداء! تمہاری بونگیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ کبھی کبھی سب سے بہترین حل بے وقوفانہ سوالوں میں چھپے ہوتے ہیں۔”

—

نداء کی زندگی میں ابھی تک کئی اتار چڑھاؤ آ چکے تھے، لیکن اس دن جو اسے ایک نیا چیلنج پیش آیا، وہ اس کے لیے سب سے اہم تھا۔ ٹورنٹو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے پروگرام میں داخلہ لینے کے بعد، نداء اپنے تعلیمی سفر میں سب کچھ درست چلتا دیکھ رہی تھی، لیکن اب اسے جاب کی تلاش کا ایک نیا مسئلہ درپیش تھا۔

اُسے پورے ہفتے میں مختلف کمپنیوں کی جاب اپلیکیشنز بھیجنے کے باوجود، کوئی جواب نہیں آ رہا تھا۔ اس کی دلی خواہش تھی کہ وہ اپنی تحقیق کو ایک نئی سمت دے، اور کسی اچھی جگہ جاب مل جائے تاکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکے۔

—

ایک دن کلاس میں، نداء اور اس کے دوستوں کے لیے ایک نیا چیلنج سامنے آیا۔ کلاس کے دوران، کچھ لڑکوں نے استاد سے بدتمیزی شروع کر دی۔ یہ بدتمیزی اس وقت بڑھ گئی جب استاد نے کلاس کے دوران انہیں ڈسپلن کی یاد دہانی کرائی۔ لڑکوں کی بے ادبی اور بے باکی پر نداء کو سخت غصہ آیا، اور اُس نے استاد کے دفاع میں آواز اٹھا لی۔

“یہ آپ کا حق نہیں ہے کہ آپ کسی استاد کے ساتھ اس طرح کی بدتمیزی کریں۔ ہم سب کو ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا، اور آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں، نہ کہ لڑائی کے لیے!” نداء نے غصے میں کہا۔

یہ بات کلاس میں کچھ شور شرابہ پیدا کر گئی، اور لڑکوں سے نداء کا پنگا بڑھتا گیا جو آخر تک چلتا رہا۔

—

کینٹین میں نداء اور حراء، اس واقعہ پر تبصرہ کر رہی تھیں۔ حراء نے کہا، “تمہاری باتوں نے تو لڑکوں کی بولتی بند کر دی تھی۔ مجھے لگتا ہے، وہ تم سے کچھ سبق سیکھنے کے بعد ہی اپنے رویے کو بہتر کریں گے۔”

نداء مسکرا کر بولی، “شاید۔ لیکن کبھی کبھی ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ احترام کا رشتہ استاد اور شاگرد کے درمیان صرف اخلاقی نہیں، بلکہ معاشرتی بھی ہے۔”

اسی دوران نداء نے حراء سے کہا، “یار، مجھے پی ایچ ڈی کمپیوٹر سائنس کے بارے میں بہت کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اتنی زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ کیا تم نے کبھی سوچا تھا کہ اس میں اتنی مشکلات آئیں گی؟”

حراء ہنستے ہوئے بولی، “اب تم مجھے بتا رہی ہو، نداء! تم تو ہمیشہ کہتی تھیں کہ تمہیں یہ سب کچھ بہت آسان لگتا ہے۔”

نداء نے اپنے ہاتھوں سے سر رگڑتے ہوئے کہا، “اب یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ سب کچھ مشکل لگ رہا ہے۔ کچھ نہ کچھ بونگی ہو ہی جاتی ہے!”

حراء ہنسی اور کہا، “ارے نداء! تم تو کسی بھی صورتحال میں مزے کی بات نکال لیتی ہو۔”

—

اسی دوران نداء کو پاکستان سے اپنے والد کی طبیعت کی خبر آئی۔ اس کے والد کو دل کا دورہ پڑا تھا، اور اس خبر نے نداء کے دل کو چھلنی کر دیا۔ وہ اپنے والد کے لیے بے حد فکرمند تھی، اور اس کی حالت کو سنبھالنا نداء کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔

پاکستان سے ملنے والی خبریں نداء کو بے چین کرتی رہیں۔ “میرے والد نے ہمیشہ میری تعلیم کے لیے قربانیاں دی ہیں، اب میں اُن کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی ہوں!” نداء نے خود سے کہا۔

—

نداء نے اپنے دل کی ساری باتیں اپنی ڈائری میں لکھنی شروع کر دیں۔ اس نے پانچوں نمازیں باقاعدگی سے پڑھنے کی کوشش کی اور شکر گزار ہوئی کہ اللہ نے اسے اتنی طاقت دی کہ وہ ان مشکلات کا سامنا کر سکے۔ اس دن نداء نے قرآن میں سے ایک آیت اپنی جرنلنگ میں لکھی:

> “وَإِذَا مَسَّ الإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَسَّهُ”
> (سورۃ یونس 10:12)
> “اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو وہ ہمیں اپنی پوزیشن سے، یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر پکارتا ہے، پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ ایسے ہی برتاؤ کرتا ہے جیسے کبھی تکلیف آئی ہی نہ تھی۔”

“شکرگزار ہوں کہ اللہ نے مجھے اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے کا موقع دیا، اور میں ہر حال میں اس کے راستے پر چلنے کا عہد کرتی ہوں۔”
—

یونیورسٹی میں فلسطین کے مسئلے پر ایک بڑی ریلی نکالی گئی تھی، جس میں نداء اور اس کی دوستوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ نداء نے فلسطین کے لوگوں کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا:
“ہم سب کا فرض ہے کہ ہم فلسطین کے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کریں۔ اگر ہم خاموش رہے تو ہم بھی ان کے ظلم میں شریک ہیں۔”

ریلی میں شامل ہو کر نداء نے ایک مرتبہ پھر اپنی آواز بلند کی، تاکہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کی جا سکے۔
—

حراء نے نداء سے کہا، “یاد رکھو، نداء، فلسطین کی آزادی کی لڑائی ہماری بھی لڑائی ہے۔ ہم سب کو ایک ہو کر ان کی حمایت کرنی ہوگی۔” نداء نے کہا، “ہم سب کا فرض ہے کہ ہم ان کے لیے دعا کریں اور جہاں تک ممکن ہو، ان کی مدد کریں۔”

نداء نے فیصلہ کیا کہ وہ فلسطین کے عوام کے حق میں اپنے آواز اٹھاتی رہے گی، چاہے اس کے لیے اسے اور کینیڈا کے کلچر کے مطابق چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے۔

—

اس وقت نداء نے خود سے عہد کیا کہ وہ نہ صرف اپنے والد کی صحت کی بہتری کے لیے دعا کرے گی، بلکہ فلسطین کے عوام کے لیے بھی اپنے فرض کا تاثر چھوڑے گی۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی کے ہر قدم پر اللہ کی مدد اور صبر ضروری ہے، اور اسی جذبے سے اس کا سفر جاری رہے گا۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں