روبینہ شاہین
رات کے گہرے سائے شہر پر چھا چکے تھے۔ رنگ برنگی روشنیوں میں نہایا ہوا بازار، دلکش سجاوٹ، اور ہر طرف محبت کے نعروں کی گونج۔ آج ویلنٹائن ڈے تھا۔ زارا اپنی دوست کے ہمراہ ایک کیفے میں بیٹھی ہوئی تھی، جہاں جوڑے ایک دوسرے کو تحائف دے رہے تھے۔
زارا ایک عام سی لڑکی تھی، مگر اس کا دل آج بےچین تھا۔ وہ اپنے اطراف کی دنیا کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ کیا محبت کا یہی معیار ہے؟ کیا محبت صرف عارضی خوشیوں اور لمحاتی جذبات کا نام ہے؟ اس کی امی نے ہمیشہ اسے سکھایا تھا کہ سچی محبت وہی ہوتی ہے جو حیا کے دائرے میں ہو، جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔
اسی دوران، کیفے میں اس کی نظر چند نوجوانوں پر پڑی جو بے باکی سے ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔ زارا کو قرآن کی وہ آیت یاد آگئی:
**”ایمان والوں میں جو چاہتے ہیں کہ بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔“** (النور:19)
اس کا دل کانپ گیا۔ اگرچہ وہ خود بھی جدید دور میں پلی بڑھی تھی، مگر اس آیت کے الفاظ نے اس کے اندر ایک تلاطم برپا کردیا۔ وہ اپنے اطراف دیکھنے لگی۔ سچی محبت، جو نکاح کی بنیاد پر ہونی چاہیے، وہ یہاں مفقود تھی۔ جوڑے ایک دوسرے کے لیے جذباتی الفاظ کہہ رہے تھے، مگر کیا یہ محبت دائمی تھی؟ کیا یہ محبت وہ تھی جس کا انجام جنت تھا؟
اچانک اس کی دوست نے اس کا دھیان توڑا۔ “زارا، تم اتنی خاموش کیوں ہو؟ آج تو خوش ہونے کا دن ہے! دیکھو، ہر طرف محبت ہے۔”
یہ بھی پڑھیے
ویلینٹائن کا رد عمل مگر اعتدال سے
زارا نے ایک گہری سانس لی اور دھیرے سے بولی، “محبت بےشک خوبصورت چیز ہے، مگر یہ اللہ کی رضا کے مطابق ہو تو ہی اس کی برکت ہے۔ اگر محبت ہمیں بےحیائی کی طرف لے جائے، تو یہ محبت نہیں بلکہ ایک آزمائش ہے۔”
اس کی دوست ہنسی، “تم بہت پرانی سوچ رکھتی ہو، آج کل یہ سب عام ہے۔”
زارا نے نرمی سے کہا، “عام ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صحیح بھی ہو۔ اللہ نے ہمیں پردے اور پاکدامنی کا حکم دیا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔”
اس کی دوست نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ شاید وہ پہلی بار اس پہلو پر غور کر رہی تھی۔ زارا نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور دل میں عزم کرلیا کہ وہ خود کو اس فتنہ سے بچائے گی اور دوسروں کو بھی اس کی حقیقت دکھائے گی۔
رات کے اندھیرے میں، زارا کے دل میں ایک روشنی جاگ اٹھی تھی، جو اسے ایمان کی راہ پر چلنے کے لیے ہمت دے رہی تھی۔
کیا والدین، جن کی عزت داؤ پر لگ رہی ہے، ہماری پہلی محبت نہیں؟ اور خود اللہ رب العزت، جو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے، اس کھلی بےحیائی پر کس منہ سے اس کا سامنا کریں گے؟
پہلی محبت