249

کربلا کی شیر دل خاتون حضرت زینب رضی اللہ عنھا

تحریر شئیر کریں

جب تاریخ کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو کچھ شخصیات ایسی نظر آتی ہیں جنہوں نے صرف اپنی زندگی نہیں، بلکہ آنے والے زمانوں کے شعور کی بنیاد رکھی۔ حضرت زینب بنت علیؓ انہی ہستیوں میں سے ہیں۔

حضرت زینب کا پس منظر

حضرت زینبؓ کی پیدائش 5 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کا نام نبی کریم ﷺ نے “زینب” رکھا۔ آپ کے والد حضرت علیؓ اور والدہ حضرت فاطمہؓ تھیں۔ بچپن میں آپ نے نبی ﷺ کی محبت، حضرت علیؓ کی حکمت، اور حضرت فاطمہؓ کی پارسائی کا ماحول پایا۔
آپ قرآن کی حافظہ تھیں، فصاحت و بلاغت میں بے مثال اور دینی مسائل کی ماہر تھیں۔ تاریخ میں آپ کو “عقیلۂ بنی ہاشم” کے لقب سے یاد کیا گیا۔

کربلا: وفا، صبر اور ایمان کا مظہر

61 ہجری میں کربلا کا واقعہ اسلام کی تاریخ کا اہم باب ہے۔ حضرت زینبؓ، امام حسینؓ کے ساتھ تھیں۔ آپ نے اپنے دو بیٹے “عون” اور “محمد” کو قربان کیا۔ ان کی شہادت پر آپ نے شکوہ نہ کیا بلکہ کہا: “الحمدللہ، اللہ نے قربانی قبول کی۔”
عاشورا کے دن امام حسینؓ سے آخری بار ملاقات کے وقت آپ نے صبر کا عظیم مظاہرہ کیا۔ جب امام حسینؓ شہید ہو گئے تو آپ نے ثابت قدمی سے خیموں کی نگرانی کی اور قافلے کی قیادت سنبھالی۔
دربارِ کوفہ اور شام: حق گوئی کی مثال
ابن زیاد نے طعنہ دیا: “دیکھا اللہ نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟”
حضرت زینبؓ نے فرمایا:
“میں نے سوائے اللہ کی رحمت کے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ شہادتیں اللہ کی طرف سے امتحان ہیں، اور ہم ان پر صابر ہیں۔”
یزید کے دربار میں حضرت زینبؓ نے ایسا خطبہ دیا جس نے ظلم کے ایوانوں کو ہلا دیا:
“اے یزید! کیا تُو یہ سمجھتا ہے کہ تُو نے زمین کو ہم پر تنگ کر دیا؟ کیا تُو یہ سمجھتا ہے کہ ہم رسوا ہو گئے؟ ہرگز نہیں۔ رسوائی تجھ پر ہے۔”

عورت کے لیے زینبؓ کا تاریخی پیغام

1. بیٹی کے روپ میں: حضرت علیؓ کی فرماں بردار، علم و عقل کی وارث
2. بیوی کے روپ میں: حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کی زوجہ، پرامن اور باکردار زندگی
3. ماں کے روپ میں: دو بیٹوں کی قربانی، اور صبر و رضا کی تصویر

4. معلمہ و خطیبہ کے طور پر: مدینہ، کوفہ اور شام میں عورتوں کی دینی تربیت
5. انقلابی قیادت: قید کے باوجود قافلے کی رہنما، اور اسلام کی سچی نمائندہ
حضرت زینبؓ صرف مظلوم کربلا کی بہن نہیں، وہ اسلامی انقلاب کی خاموش علمبردار ہیں۔ آج جب عورت بے سکونی، الجھن اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہے، تو حضرت زینبؓ کا کردار ایک روشنی ہے۔
“کربلا نے مردوں کو جینا سکھایا، اور حضرت زینبؓ نے عورتوں کو بولنا، کھڑا ہونا، اور صبر کے ساتھ حق پر جمنا سکھایا۔”

مستند حوالہ جات
تاریخ طبری
الکامل فی التاریخ، ابن اثیر
سیر اعلام النبلاء
بلاغۃ النساء
الاحتجاج، الطبرسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں