(مردوں کے لیے ایک آئینہ)
گاؤں کے باہر ایک پرانی پہاڑی تھی، جس پر اکثر گدھ منڈلاتے رہتے۔ کہتے تھے کہ جو زندگی سے ہار جاتا ہے، وہ اسی پہاڑی کا رخ کرتا ہے — اور پھر لوٹ کر کبھی نہیں آتا۔
رمیز، کبھی شہر کا ایک باوقار درزی تھا۔ اس کے ہاتھ میں کمال کا ہنر تھا، سوئی چلاتا تو کپڑا سانس لینے لگتا۔ مگر وقت کی آندھیوں نے اس کی دکان چھین لی، حالات نے کمر توڑی، اور آخرکار اُس نے سلائی مشین بیچ دی — اور خود کو بھی۔
کبھی لوگوں کے کپڑے سیتا تھا، اب امیروں کے جوتے پالش کرتا تھا۔ عزت دار کام میں حرج نہیں، مگر رمیز نے وہ بھی چھوڑ دیا، کیونکہ وہ کہتا تھا:
> “کیا فائدہ محنت کا؟ سب پیسہ، سفارش اور چمک دمک کا زمانہ ہے۔”
اور پھر ایک دن، وہ شہر کی گلیوں میں کچرے سے بچا کھچا کھانے لگا۔ کبھی شادی ہالوں کے باہر جھوٹی پلیٹیں تلاش کرتا، کبھی کسی کے پھینکے ہوئے نان میں اپنا حصہ ڈھونڈتا۔
لوگ کہتے:
> “رمیز! کام کیوں نہیں کرتے؟ ہاتھ سلامت ہیں، ہنر زندہ ہے!”
مگر وہ ہنستا:
“گدھ بھی تو پیٹ بھرتا ہے، کیا ہوا اگر وہ مردار کھاتا ہے؟”
ایک دن وہ پہاڑی کی طرف نکل گیا۔ دھوپ سخت تھی، مگر رمیز کی پیٹھ پر سایہ تھا — گدھ کے پروں کا سایہ۔
پہاڑی پر ایک بوڑھا مرد بیٹھا تھا۔ سفید داڑھی، کاندھوں پر پرانے کپڑے، مگر آنکھوں میں چمک۔ رمیز نے پوچھا:
> “بابا، آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟”
بابا نے مسکرا کر کہا:
> “میں یہاں ان کا انتظار کرتا ہوں، جو خود کو ہار چکے ہوں۔”
“پھر کیا کرتے ہیں آپ؟” رمیز نے پوچھا۔
“ان سے صرف ایک سوال کرتا ہوں:
محنت مشکل ہے، یا مردار کھانا؟”
رمیز چونک گیا۔
بابا نے زمین سے ایک بیج اٹھایا اور اسے تھمایا:
> “یہ لو، یہ تمھارا ہنر ہے۔ زمین میں گاڑ دو، پانی دو، دھوپ سہو، انتظار کرو۔ درخت بنے گا، پھل دے گا، عزت دے گا۔
ورنہ گدھ کے ساتھ رہنا سیکھ لو — جو مردار پر زندہ ہیں، مگر زندگی سے مردہ۔”
رمیز دیر تک خاموش رہا۔ پھر اس نے وہ بیج مٹھی میں بند کیا، اور پہاڑی سے اتر آیا۔
اگلے دن شہر کی ایک سڑک پر، ایک پرانی سلائی مشین دوبارہ چرخا چلانے لگی۔
کہتے ہیں اب وہ رمیز، شام کو اپنے شاگردوں کو سکھاتا ہے:
> “بیٹا! اگر پیٹ پالنے کے لیے غیرت چھوڑ دی جائے،
تو گدھ اور انسان میں فرق ختم ہو جاتا ہے۔”
—
“محنت کر، کیونکہ رزق تو اللہ دیتا ہے — مگر عزت، وہ صرف اُن کو دیتا ہے جو ہاتھ پھیلانے کے بجائے، مٹی میں بیج بوتے ہیں۔”
“گدھ کے سائے تلے”