گرمی والاکوٹ
افسانہ
ٹھنڈ تھی کہ کہیں ٹکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ریڑھی والے نے ریڑھی روک کر اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کر حرارت پہنچائی تھی۔کچھ سکون کے لمحے آۓ ضرور مگر روئی کے گالوں کی طرح گرتی برف نے ہر شے منجمد کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔ڈرائی فروٹ کی ریڑھی پہ آج معمول کے مطابق رش نا تھا۔موسم کے تیور بتا رہے تھے کہ اگلے کئ روز تک سفید برف کے گالوں نے دھرتی پہ راج کرنا تھا۔جبھی لوگ اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے اور دور سے آنے والے سیاح ہی دکھ رہے تھے ورنہ تو وادی میں مکمل سناٹا تھا۔
اللہ جی آج کا دن تو کرم کر دے۔اتنے پیسے مل جائیں کہ میں اپنی لخت جگر کے لیے “گرمی والا کوٹ” خرید سکوں۔۔گرمی والا کوٹ “نام زیرلب بڑبڑاتے ہی اسی گڑیا کے دیے ہوۓ اس نام پہ بے ساختہ ہنسی آئی تھی۔۔۔کتنی پیاری من موہنی ہے نا میری گڑیا جس کے آنے سے گھر کلکاریوں سے ہمہ وقت گونجتا رہتا تھا۔مونگ پھلی تولتے ہوۓ بھی اسے گڑیا اور اس کی باتیں یاد آرہیں تھیں۔بھائی یہ پچاس روپے کے چلغوزے تو دینا۔۔۔پچاس کے چلغوزے گڑیا جتنی لڑکی پچاس کا نوٹ پکڑے چلغوزے مانگ رہی تھی۔اس نے دیکھا تو گڑیا کا خیال آیا اور پھر انکار نا کر سکا کہ چلغوزے اب پچاس کے کہاں سے ملتے۔۔۔بچی چلغوزے لے کر خوشی خوشی چلی گی۔۔وہ جاتی بچی کو دور تک دیکھتا رہا۔۔۔۔نا جانے کیوں؟آج اسکی گڑیا رہ رہ کر یاد آ رہی تھی۔۔اوہ گرمی والا کوٹ۔۔۔یاد اتے ہی اس نے جیب سے پیسے نکال کر گننا شروع کر دیے ۔۔۔
یہ بھی پڑھیتے
۔ایک ہزار سے اوپر ہوگۓ تھے۔ابھی دن باقی تھا۔مطلب تھوڑے اور جمع کر لیتا۔دو گھنٹے بعد اس کی جیب میں پندرہ سو تھے۔مگر برفانی طوفان نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔وہ جلدی جلدی گرم کپڑوں کی دوکان پر آیا جہاں بالآخر اسے بارہ سو کا ہڈ والا گرم کوٹ مل ہی گیا۔وہ خوشی خوشی ریڑھی کو گھر والے راستے پہ ڈال کر گرم کوٹ سر پہ ٹکا لیا تھا۔روئی کے گالے جتنا پرکشش لگ رہے تھے سردی کی شدت اتنی جان لیو اتھی۔یہ کوئی پہاڑی علاقوں کے رہنے والوں سے پوچھتا۔۔میدانی علاقوں والے کہاں جانتے ہمارے دکھ۔۔۔۔اپنے دل میں پہاڑی اور میدانی علاقوں کا موازنہ کرتا ایک باپ چلا جا رہا تھا۔بس دس منٹ کا راستہ تھا۔ریڑھی کو دھکا لگانا بھی دو بھر ہو رہا تھا۔اچانک موڑ کاٹتے ہوۓ ایک برفانی تودا تھا جس نے راستے میں آنے والے ہر چیز کو اچک لیا تھا۔اور ریڑھی والا بھی عین اسی لمحے جب اس کے گھر کا پردہ اسے دکھائی دیا تھا موڑ کاٹتے ہوۓ تقدیر کا بے رحم لمحہ آن پہنچا تھا۔ اور پھر دس منٹ کی جدائی صدیوں پہ محیط ہوگئ تھی۔ایک باپ سرخ رنگ کا کوٹ اوڑھے ابدی نیند سو گیا تھا۔برف ہٹانے پر ریڑھی والے کی لاش کے اوپر اب بھی کوٹ براجمان تھا۔پوری شان سے پوری آب وتاب سے۔۔۔ اک باپ کی سارے دن کی کمائی جس نے بند ہوتی آنکھوں سے جو آخری منظر دیکھا تھا وہ یہ کہ اس کی گڑیا سرخ گرم کوٹ پہنے دونوں بانہیں پھیلاۓ اسکی طرف بھاگے چلی آ رہی ہے۔۔۔۔اس نے بڑے اطمینان سے آنکھیں موندھ لیں تھیں۔