گھر تو اخر اپنا ہے
عائشہ بی
—————————
ندا: بھابھی باجی ماما جلدی جائیں! ندا اپنی بھابھی باجی اور ماما کو آواز لگا رہی تھی۔۔ امی: کیا ہوا بچوں، کیوں شور مچا رہے ہو؟ شروع ہوگیا کیا؟ بس آ رہی ہوں۔
بھابھی اورمریم جلدی جلدی کچن سمیٹ کر، ٹی وی لاؤنج میں آگئیں۔
بھابھی: ڈرامہ تو اتنی اچھا ہے کہ مجھے اس کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے۔ ندا: ہاں بھابھی میرا بھی یہی حال ہے۔ بھابھی: اچھا ہوا کہ بچے باہر کرکٹ کھیلنے گئے ہیں ورنہ شور میں مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔ مریم : سب کو ڈرامے دیکھنے کا اتنا شوق ہے اور بھئی ساتھ میں موم پھلی کھانے کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے۔۔
امی جان، پان میں چونا لگا رہی تھیں۔ ندا : امی! آپ کیوں نہیں آرہی ہیں؟ بہت ہی مزیدار ڈرامہ ہے۔
امی : ارے میں نہیں دیکھنا چاہتی یہ بے ہودہ ڈرامے۔ ان ڈراموں میں جو دکھایا جاتا ہے، وہی معاشرے میں بھی نظر آتا ہے۔ ارے بچوں ہمارے وقتوں میں ایسے بہترین اور سادہ پروگرام ہوتے تھے کہ سارے گھر والے مل کر ان کو دیکھنے میں بھی عار نہیں سمجھتے تھے۔ جن میں کوئز پروگرام، تقریری مقابلے، حسن قرآت اور نعت وغیرہ کے مقابلوں کے پروگرامات، اس کے علاوہ معلوماتی پروگرام بھی ٹی وی پر نشر کیے جاتے تھے۔ لیکن آجکل کے پروگرامز۔۔۔ ساتھ بیٹھ کر دیکھنا بہت دور کی بات ہے ۔ شرم و حیا ختم ہوگئی ہے ۔ دوپٹہ غائب ۔۔۔آستین غائب ۔۔۔فٹ قمیضیں ۔۔۔ تخنوں کے اوپر پاجامے ۔۔۔ ماں ، باپ، بھائی وغیرہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔
آجکل کے مسلمان لڑکے لڑکیوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ۔ لڑکیاں تو لڑکیاں ۔۔۔ لڑکے بھی فیشن میں خوب آگے آگے ہیں ۔۔۔ غیر مسلموں کی نکل کرتے پھرتے ہیں ۔ سر پر پونی، ہار بندے اور پینٹ پھاڑ کر پہنتے پھر تے ہیں ۔ خدارا ۔۔۔ پہچان میں مشکل ہو گیا ہے کہ ” یہ لڑکا ہے یا لڑکی “۔۔۔۔۔۔
میڈیا بھی ایسے ہی بےہودا ڈرامے اور اشتہارات دکھائےجارہے ہیں کہ شرم سے انسان پانی پانی جائے۔۔۔۔۔۔” امی جان آپ نے کان پکڑ کر توبہ کرنے لگیں۔ مریم اور ندا ڈرامہ دیکھنے میں مگن تھیں۔
بھابھی: جی ہاں امی! “ہمارا معاشرہ، اسلامی معاشرہ تھا۔ لوگ چین اور سکون سے زندگی گزارتے تھے۔ اب ہمارے معاشرے میں اتنی بے حیائی پھیلا دی گئی ہے کہ کسی کو بھی اچھے برے کی تمیز باقی نہیں رہی۔ آج ہمارے مسلمان معاشرے میں کیا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ معصوم بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جارہا ہے”۔
مریم اور ندا ڈراما دیکھتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہی تھیں اور خوشی سے زور زور سے ہنس رہی تھیں کہ اس دوران ابو جان گھر میں داخل ہوگئے اور دیکھ کر بہت ہی غصے سے کہنے لگے: “ارے اپنے بچوں کو کچھ ادب، تمیز سکھادو۔ بچوں کو اسلام کی باتیں سکھانے کے بجائے ان فضول ڈراموں میں لگایا ہوا ہے۔ ہمارے بچے برباد ہو جائیں گے”۔۔
امی: بچوں سنا نہیں! ابو جان کیا کہہ رہے ہیں۔۔ میں بھی کب سے سمجھا رہی تھی، میں زیادہ ٹوکنا نہیں چاہتی تھی کہ مصروفیت میں تھوڑی تفریح بھی ہونی چاہیے لیکن ایسے ڈرامے دیکھنے میں کچھ نہیں رکھا۔ ان ڈراموں میں خاندان کے رشتوں کی تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔۔”
ابو جان: “بچو یہ سب خرافات اور فضولیات ہیں۔ اس میں نہ دین ہے، نہ دنیا۔۔ شاید ہماری حکومت نہیں چاہتی کہ یہ معاشرہ ٹھیک ہو، اسی لئے ہمارا میڈیا ایسا کردار ادا کر ر ہا ہے۔۔ اس لیے فی الحال، ہمیں خود ایسے پروگرام دیکھنے سے بچنا ہو گا اور ان میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے قرآن و سنت کا کوئی سبق حاصل کر لو تو بہت بہتر ہے۔۔ پاکستان بنانے کے لیے کئی نسلوں کی قربانیاں شامل ہیں اور آج ہمارے نوجوان بچے برباد ہو رہے ہیں حالانکہ ہماری نسل کو دراصل پروان چڑھنا ہے”۔۔۔
ندا : جی ہاں، ابو! آپ نے درست فرمایا، اب ہم کوئی بھی بے مقصد اور فضول پروگرام اور ڈرامے نہیں دیکھیں گے۔۔
مریم : ابو جان! ہم سب قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انشاءاللہ ۔۔
ابو جان : شاباش بچوں! اب ساتھ میں دعا کرو کہ ہمارے ملک میں دین دار اور انصاف پسند لوگ حکمرانی کریں تاکہ ہمارا میڈیا بھی اسلامی نفاذ اور اقدار کے حق میں بہترین کردار ادا کر سکے”۔۔ آمین
* *عائشہ بی* *
گلشن اقبال