ہمارا ووٹ ہماری جنت یا ہماری دوزخ
ڈاکٹر محمد آصف قریشی
ابھی ہمارے وطن عزیز میں مختلف سطح کے الیکشنز آنے والے ہیں۔ ووٹ ڈالنے کے معاملے کو ہم بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے بلکہ بعض لوگوں کے نزدیک تو یہ ایک کھیل تماشہ یا بیکار کا عمل ہے۔ بعض زور دار افراد اور گروپ انتخابات میں منظم دھندلی کرکے اپنے حق میں نتائج حاصل کرکے خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے میدان مار لیا اور دنیا جیت لی۔ انکو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خیال نہیں آتا کہ اس عمل سے انہوں نے اپنی آنے والی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی برباد کرلی۔
دوستو یہ دنیا تو جلد اچھی یا بری گذر ہی جائے گی ۔۔ مگر اس ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت کی زندگی کا کیا بنے گا۔۔۔ آیئے اسی پر قرآن و سنّت کی روشنی میں غور کرتے ہیں۔۔اللّٰه سے دعا ہے کہ ہماری آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی برباد ہونے سے بچ جائے۔ آمین ثم آمین
مَّنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنْ لَّـهٝ نَصِيْبٌ مِّنْـهَا ۖ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنْ لَّـهٝ كِفْلٌ مِّنْـهَا ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ مُّقِيْتًا
(سورۃ النساء: 85)
ترجمہ:جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصّہ پائے گا۔۔اور جو کوئی برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصّہ پائے گا
ووٹ کے ذریعہ ہم الیکشن کمیشن کو یہ سفارش کرتے ہیں کہ فلاں امیدوار اس پوسٹ کا اہل ہے اسطرح ہم اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت اپنے امیدوار کے حق میں شہادت دیتے ہیں کہ یہ سب سے بہتر فرد ہے اور اس سے بہتر کوئی دوسرا فرد نہیں جو ہمار ے حقوق کی پاس داری کر سکتا ہے۔ ہمارا یہ عمل اسکے حق میں شفاعت کا درجہ رکھتا ہے اسطرح وہ ہمارا وکیل بن جاتا ہے یاد رکھیئے چونکہ وہ ہمارے ووٹ سے منتخب ہوا ہے اس لئے اسکے اچھے برے اعمال کے اجر میں ہم بھی شریک ہونگے:
مفتی محمد شفیعؒ (سابق مفتی اعظم پاکستان) کی تفسیر معارف القرآن جلد دوئم صفحہ (71) پر جو کچھ لکھتے ہیں اسکا مفہوم
درج ذیل ہے۔
(1) ووٹ ڈالنا شہادت کے مترادف ہے
لوگ امیدوار کے حق میں گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص قومی نمائندہ بننے کا اہل ہے۔
(2) ووٹ ڈالنا از روئے قرآن شفاعت کا درجہ رکھتا ہے
اصل میں ووٹ ڈالنے کے عمل سے ووٹ ڈالنے والا امیدوار کے حق میں سفارش کرتا ہے اگر تو نمائندہ نیکوکار ہے، ایمان دار ہے اور باقی امیدواروں میں سے زیادہ اہل ہے تو یہ اچھی سفارش ہوگی۔۔منتخب نمائندے کے اچھے اعمال میں سے ووٹر بھی اجر پائے گا اور اگر یہ بری سفارش ہوئی یعنی اہل امیدواروں کو چھوڑ کر آپ نے ایک نااہل اور بدعنوان شخص کے حق میں اپنا ووٹ جانتے بوجھتے استعمال کیا ہوگا تو یہ بری سفارش ہوگی اور اس بری سفارش کا وبال ووٹر پر بھی پڑے گا یعنی جو غلط کام یہ غلط نمائندہ کرے گا اس کے گناہوں میں اسکا ووٹر بھی شریک ہوگا اور عذاب کا مستحق ہوگا۔
(3) ووٹ کی تیسری شرعی حیثیت وکالت کی ہے
یعنی ووٹ دینے والا اپنے امیدوار کو اپنا وکیل نامزد کرتا ہے۔۔بلکہ منتخب ہوکر وہ پوری قوم کا وکیل بن جاتا ہے۔۔اگر کسی نااہل کو وکیل بنایا تو ووٹ دینے کے عمل سے آپ نے پوری قوم کے حقوق کو پامال کیا۔۔اور قوم کو اچھے اور ایماندار وکیل سے محروم کرنے کے عمل میں شامل ہوئے۔
ایک اور قرآنی آیت پر غور کریں؛
اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰٓى اَهْلِهَاۙ وَاِذَا حَكَمْتُـمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ سَـمِيْعًا بَصِيْـرًا(سورۂ النساء: 58)
بے شک اللّٰه تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، بے شک اللّٰه تمہیں نہایت اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللّٰه سننے والا، دیکھنے والا ہے
اس آیت میں امانتوں کا ذکر ہے کہ وہ اہل لوگوں کو پہنچادی جائیں یاد رکھئے کہ سب سے بڑی اور اہم امانیتں حکومت کے مناصب اور عہدے ہوتے ہیں۔
حدیث: [جمع الفوائدصفحہ325۔۔معارف القرآن جلد دوئم صفحہ447]
جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو۔پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی و تعلق کی مد میں بغیر اہلیت معلوم کئے ہوئے دے دیا اس پر اللّٰه کی لعنت۔۔۔نہ اسکا فرض مقبول ہے نہ نفل یہاں تک کہ وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حدیث:[معارف القرآن جلد دوئم ۔صفحہ 447]
جس نے کوئی عہدہ کسی شخص کے سپرد کیا۔حالانکہ اس کے علم میں تھا کہ دوسرا آدمی اس عہدہ کے لئے اس سے زیادہ قابل اور اہل ہے تو اس نے اللّٰه سے خیانت کی، رسول ﷺ سے خیانت کی، سب مسلمانوں سے خیانت کی۔
حدیث (متفق علیہ)[راہ عمل صفحہ249]
مقعل بن یسارؓ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه ﷺ یہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو اور وہ ان کے ساتھ خیانت کرے تو اللّٰه اس پر جنت حرام کر دے گا
حدیث(طبرانی کتاب الخراج):[راہِ عمل صفحہ 249]
(راوی مقعل بن یسارؓ) جس کسی شخص نے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کی ذمہ داری قبول کی پھر اس نے انکے ساتھ خیر خواہی نہیں کی اور انکے کام کی انجام دہی میں اپنے آپ کو اسطرح نہیں تھکایا جس طرح وہ اپنی ذات کے لئے اپنے آپ کو تھکاتا ہے تو اللّٰه اس کو منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا
حضورﷺ جو کہ رحمت العالمین ہیں وہ اپنی امت کے اچھے اور برے ذمہ داروں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؛
حدیث:(رواہ مسلم۔ مشکواۃ ۔ کتاب الامارۃ)[کتاب ۔انتخاب حدیث صفحہ321۔حدیث نمبر 379]
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ اللّٰه کے رسولﷺ نے فرمایا: جو شخص میری امت کے معاملات کا ذمہ دار بنے اور پھر وہ لوگوں کو پریشانیوں اور مشقّتوں میں مبتلا کر دے تو اے خدا! تو بھی اس کی زندگی تنگ کردے، اور جوشخص میری امتّ کے معاملات کا والی بنے اور پھر لوگوں سے محبت و شفقت سے پیش آئے تو اے اللّٰه! تو بھی اس پر رحم فرما
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ🌹