انسانی جلد والی کتاب
ہارورڈ یونیورسٹی کی لائبریری میں پائی گئ ایسی کتاب جس کی جلد انسانی کھال سے بنائی گئ ہے۔
یہ دنیا عجب پہیلی ہے۔تہہدر تہہ چھپی ہوئی۔ڈارک ویب کا نام جب سے منظر عام پر آیا ہے۔میں حیران و پریشان ہوتی تھی کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو بچیوں کے ریپ اور قتل لائیو دیکھتے اور انجواۓ کرتے ہیں۔پھر سنا انسانی گوشت مرغوبیت سے کھایا جاتا ہے۔اور آج تو حد ہی ہوگئ ۔۔۔ہارورڈ ہونیورسٹی کی لائبریری میں ایسی کتابیں ملیں ہیں جن کی جلدیں انسانی کھال سے بنائی گئیں تھیں۔جس ریسرچر نے یہ انکشاف کیا اس کا نام ڈسی ڈسٹینز دی ہے۔جب اس نے ریسرچ کے دوران انسانی جلد پر مبنی جلد والی کھال دیکھی تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی وہ گئیں تھیں۔مزید تحقیقات کیں گیں تو جو نتیجہ سامنے آیا وہ ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھا کہ ماضی میں یہ طریقہ رائج رہا ہے کہ قیدیوں اور مجرموں کی جلد کی کھا ل کا کچھ حصہ بائنڈنگ میں استعمال کیا گیا تھا۔جو پہلی جلد ہارورڈ یونیورسٹی سے ملی تھی اس کے ڈی این اے سے ثابت ہوا کہ وہ ایک ذہنی مریضہ کی کھال تھی۔اسکی کھال سے ادویات کے ثبوت ملے تھے۔یہ کتاب ڈاکٹر لوڈووک بولینڈ کے پاس 1980ء میں ہونو سیس نے بھجوائی تھی۔ماہرین کے مطابق یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ عین ممکن ہے وہ مریضہ اسی ڈاکٹر کی ہو۔اور مرنے کے بعد اس کی کھال کو جلد بندی میں استعمال کر لیا گیا ہو۔
مزید یہ کہ اس ایک کتاب نے اس غیر انسانی اور سفاکیت کا جو دروازہ کھولا تھا وہ بند نہیں ہوا بلکہ اس پر تحقیقات آگے بڑھیں۔تو بہت سے انکشافات سامنے آۓ۔پندرہ سو ایسی لاشوں کے سودے کیے گۓ تھے۔اسی طرح ایڈمبرا میؔ ایک راابرٹ نامی ریسرچر بھی اس دھندے میں ملوث پایا گیا۔جو انسانی لاشیں بیچا کرتا تھا۔اس کے ساتھ ڈاکٹر ولیم بھی شامل تھا۔جو اس غیر انسانی کاروبار میں اس کا ساتھی تھا۔
واضح رہے کہ بہت سے ایسے مجرم جنہیں سزاۓ موت دی گئ انکی لاشوں کو اسی طرح کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔جیسا کہ بدنام زمانہ مجرم ولیم برکی کی لاش کو سزاۓ موت کے بعد جلد بندی میں استعمال کیا گیا۔اسی طرح ایک رپورٹ لیزا نامی لڑکی کی سامنے آئی جسے انتقاما قتل کرکے بعد ازاں جلد بندی میں اس کی کھال استعمال کی گی تھی۔
افسوس صدافسوس انسانیت جوں جوں اوج ترقی کی طرف جا رہی اتنی ہی ذلالت کی پستیوں میں گھرتی جا رہیں۔کتاب جیسی مقدس چیز کے لیے اتنا گھناونا فعل۔۔سوچ کت رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہلاکو خان نے تو انسانی کھوپڑیوں کی تاریخ رقم کر کے خود کو جابر ظالم انسانوں کی صف میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے رقم کروالیا۔سوال یہ ہے کہ انسانیت کے یہ دشمن مغرب والے کونسی نئ تاریخ رقم کر رہے ہیں؟
انسانی جلد والی کتاب