اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آج کے دور میں سب سے زیادہ پریشان کن اور اذیت ناک چیز عموما ہمارے لیے کیا ہے؟ تو میرا جواب دو ٹوک اور واضح ہوگا , اور وہ ہے :
انسانی رویے ایک جامع اصطلاح ہے ، اس میں مائنڈ سیٹ،
سوچنے کا انداز،
نفسیات ،
گفتگو،
انداز گفتگو ،
الفاظ کا چناؤ،
لہجہ،
باڈی لینگویج
اور
معاملہ کرنا ۔۔
سب کچھ شامل ہے۔
یہ کوئی آج کی بات نہیں، کئی برس بیت گئے اس معاملے کو دیکھتے اور پر رکھتے ہوئے ، تجزیہ کرتے اور گتھیاں سلجھاتے کہ آخر مسئلہ کہاں ہوتا ہے ؟ تو میں یہ سمجھ پائی کے انسانی رویے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
ایک اور حقیقت جو معلوم ہویئ وہ یہ کہ دنیا میں کوئی۔حیران کن حد تک بدلتی دکھاِئی دینے والی چیز ہے تو وہ بھی انسانی رویے ہی ہیں۔میں نے اس سے زیادہ حیران کن چیز اس دنیا میں کوئی اور نہیں دیکھی۔
حقوق و فرائض کی جنگ اور ہمارے رویے
میں نے دیکھا کہ وہ مصائب جو سراسر من جانب اللہ ہوتے ہیں، وہ اتنے اذیت ناک اور جذبات کو یوں اندر تک گھائل کر دینے والے نہیں ہوتے۔ خواہ وہ بہت بھاری آزمائشیں ہی کیوں نہ ہوں۔۔
جیسے
کوئی جان لیوا بیماری کا لاحق ہو جانا
کسی محبوب ہستی کا عدم راہی ہونا
کوئی معذوری ہونا
مال میں نقصان ہو جانا
اولاد کا نہ ہونا
وغیرہ
میں نے محسوس کیا کہ حیرت انگیز طور پر ان حادثات کو برداشت کرنے اور سہہ جانے کی ایک عجیب صلاحیت رکھی ہے ہم انسانوں میں ہمارے مہربان رب نے۔
لیکن ۔۔
یہ روئیے مار دیتے ہیں ۔
سچ کہتی ہوں
مار ہی دیتے ہیں ۔۔
ہم غربت بھی سہہ جائیں ۔۔
ہم محرومی بھی برداشت کر لیں۔۔
ہم نقصان بھی سہار لیں۔۔
ہم معذوری میں بھی مسکرائیں۔۔
ہم بیماری سے بھی لڑ جائیں۔۔
اگر
رویے مثبت ہوں تو۔۔
چاہے وہ اپنے رویے ہوں
یا
دوسروں کے
تحریر ام سلیمان