742

سورہ رحمن اور ہمارے رویے

تحریر شئیر کریں

سورہ رحمن اور ہمارے رویے

سورہ رحمن سکھاتی ہے زندگی میں ویلیو کیسے شامل کی جاے؟

ناشکری کا سدباب
سورہ رحمن میں ایک ہی آیت کی تکرار بار بار ہوتی ہے۔فبای آلاء ربکماتکذبان”پس تم دونوں اپنے رب کی کونسی کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے”
یہ آیت رحمن کی طرف سے جس نے قرآن کو بطور تحفہ انسان کو عنایت کیا اور پھر اسی قرآن کی سورہ رحمن میں فر ما رہا ہے کہ نعمتوں کی ناقدری نا کرو۔۔۔اگر ناقدری کرو گے تو جو ہے وہ بھی چھن جاۓ گا۔قرآن میں ایک اور جگہ اس حقیقت کو بیان کیا ہے۔”اگر شکر کرو گےتو میں اور دوں گا ، ناشکری کرو گے تو میر عذاب بھی سخت ہے “

ناشکری کیا ہے؟ناشکری ناشکرے انسانوں کا وہ رویہ ہے جو انھیں اللہ سے دور ب کرتا ہے۔قرآن نے ناشکری کو کفر کے معنوں میں بھی استعمال کیا ہے۔کیونکہ یہ ایسی بلا ہے جو انسان کو کفر تک لے جاتی ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے انسان نے قدر ہی نہیں کی اس ذات کی جیسا کہ کرنے کا حق تھا”
اللہ کی قدر کرنا شکر ہے اور ناقدری کرنا ناشکری ہے۔جب انسان ناشکری چھوڑتا ہے تو وہ اللہ کی قدر اور پہچان کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔اللہ کی جتنی قدر ہوتی جاۓ گی اتنا ہی شکر انسان کی زندگی میں شامل ہوتا جاۓ گا۔زیادہ شکر زیادہ نعمتیں۔۔۔نتیجہ خوش حالی ، برکت اور اطمینان کی صورت میں ملے گا۔

شکوے سے شکر کا سفر
سورہ رحمن درآصل انسان کا شکوے سے شکر تک کا سفر ہے۔شکر وہ رویہ ہے جو انسانوں سے مطلوب ہے۔شکر وہ رویہ ہے جو رحمن سے قریب کرتا ہے۔شکر وہ سیڑھی ہے جو عروج کا پہلا سٹیپ بھی ہے۔الغرض شکر خیر ہی خیر ہے۔

شکر کیا ہے ؟
پروفیسر رف رف پاکستان کی علمی ادبی شخصیت ہے۔سیلف ہیلپ کوچ بھی ہیں اور اسلامک سکالر بھی۔قرآن کی آیات کی ایسی ایسی تفاسیر بیان کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ان کا سورہ رحمن پہ لیکچر سننے کے قابل ہیے۔اس میں دو کہانیاں انھوں نے بیان
کیں ہیں جو آج میں آپ کو سناؤ ں گی۔۔۔۔۔
آپ بھی کہہ رہے ہوں گے کہ رویوں پہ آرٹیکل اور بیچ میں کہانی تو جناب ، جدید ریسرچ کہتی ہے کہ بہترین لرننگ کہانی کی صورت میں ہوتی ہے۔جب کہانی ایڈ ہوتی تو ویلیو ایڈ ہوتی ہے۔اور اس کےدماغ پہ دورس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایک شخص سفر پہ نکلتا ہے اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے۔وہ پیدل چلا جا رہا ہوتا ہے کہ راستے میں بیٹھ کر سستانے لگتا ہے ایک اور آدمی اسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔وہ پوچھتا ہے میاں اتنی گرمی میں کہاں کی تیاری ہے۔وہ کہتا ہے اپنی بیٹی سے ملنے جا رہا ہوں۔شکر ہے کرایہ نہیں مگر پاؤں تو ہیں اسی کے سہارے منزل پہ پہنچ جاؤں گا۔وہ آدمی بڑا حیران ہوتا ہے۔جب وہ پانی کے ساتھ سوکھی روٹی کے نوالے نگل رہا ہوتا ہے۔وہ اس پہ بھی شکر کرتا ہے کہ چلو میسر تو ہے سوکھی روٹی ہی سہی۔۔۔۔وہ بندہ اس شکرگزار بندے کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ سچ ہے جنہوں نے شکر کرنا ہوتا وہ ہر حال میں کرتے ہیں۔

دوسری کہانی۔۔
ایک شخص پیر صاحب کے پاس آکر اپنی تنگدستی اور چھوٹے گھر کی شکایت کرتا ہے۔گھر چھوٹا ہے دو بچوں کا ساتھ ہے اور ساتھ میں مویشی بھی۔۔۔۔۔اسی طرح کی کہانی سناتا ہے۔پیر صاحب اسے کہتے ہیں کہ تم اپنے بیوی بچوں کو لے کر ایک کمرے تک محدود ہو جاؤ۔۔۔وہ پھر آتا ہے اور شکایت کرتا ہے۔اب کی دفعہ پیر صاحب کہتے ہیں مویسشی بھی اپنے اور بیوی بچوں کے ساتھ کمرے میں باندھ لو۔۔۔وہ کچھ دن بعد پھر آتا ہے اور کہتا ہے کہ اب تو جینا محال ہو گیا ہے کہ وہی جانور اور وہی خود۔۔۔اس سے اچھا تو پہلے ہی تھا۔یہی وہ نکتہ تھا جو پیر صاحب اسے سمجھانا چاہ رہے تھے کہ اللہ جس حال۔میں بھی رکھے وہی اچھا ہوتا۔انسان کو اس پہ اعتراض اٹھانے کا کوئی حق نہیں۔اس واقعے کا اس شخص پہ بہت اثر ہوتا اور وہ شکوے سے شکر کی طرف رواں دواں ہو جاتا ہے۔
دو کہانیاں اصل میں دو رویے ہیں۔ایک شکر اور دوسرا ناشکری پہ مبنی ہے۔یہ دونوں رویے اپ کے سامنے ہیں اور یہ دونوں ہی سورہ رحمن کے بڑے موضوعات ہیں۔سورہ رحمن سکھاتی ہے کہ شکر کرو ۔۔۔۔جس حال۔میں بھی ہو ، خوش اور مطمن رہو۔اللہ تمھیں وہاں سے نوازے گا جہاں سے تمھیں یقین بھی نا ہو۔ہاں اگر ناشکری کرو گے۔۔۔۔چخ پخ کرتے رہو گے تو بدلے گا کچھ نہیں ہاں جو ہے وہ بھی چھن جاۓ گا۔

زندگی بہت مختصر ہے اسے اللہ کی مرضی سے گزار لو اللہ آگلی زندگی میں سب کچھ تمہاری مرضی کا نواز دےگا۔۔وہ تو خود کہتا تو میرے تھوڑے رزق پہ راضی ہو جا میں تیرے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاؤں گا”
مگر ہمارا طرزعمل الٹ ہے ہم عمل تھوڑا کرتے اور مانگتے زیادہ ہیں۔اسی بات کا شکوہ اللہ نے خو د اپنی کتاب میں کیا و قلیل من عبادی الشکور

ایکٹیویٹی”
سورہ رحمن کو سمجھ کر پڑھیں۔تو کب کر رہے ہیں س نیک کام کا آغاز؟

سورہ رحمن اور ہمارے رویے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں