459

انسانی رویے

تحریر شئیر کریں

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آج کے دور میں سب سے زیادہ پریشان کن اور اذیت ناک چیز عموما ہمارے لیے کیا ہے؟ تو میرا جواب دو ٹوک اور واضح ہوگا , اور وہ ہے :

انسانی رویے ایک جامع اصطلاح ہے ، اس میں مائنڈ سیٹ،
سوچنے کا انداز،
نفسیات ،
گفتگو،
انداز گفتگو ،
الفاظ کا چناؤ،
لہجہ،
باڈی لینگویج
اور
معاملہ کرنا ۔۔
سب کچھ شامل ہے۔

یہ کوئی آج کی بات نہیں، کئی برس بیت گئے اس معاملے کو دیکھتے اور پر رکھتے ہوئے ، تجزیہ کرتے اور گتھیاں سلجھاتے کہ آخر مسئلہ کہاں ہوتا ہے ؟ تو میں یہ سمجھ پائی کے انسانی رویے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ایک اور حقیقت جو معلوم ہویئ وہ یہ کہ دنیا میں کوئی۔حیران کن حد تک بدلتی دکھاِئی دینے والی چیز ہے تو وہ بھی انسانی رویے ہی ہیں۔میں نے اس سے زیادہ حیران کن چیز اس دنیا میں کوئی اور نہیں دیکھی۔

سورہ رحمن اور ہمارے رویے

حقوق و فرائض کی جنگ اور ہمارے رویے

میں نے دیکھا کہ وہ مصائب جو سراسر من جانب اللہ ہوتے ہیں، وہ اتنے اذیت ناک اور جذبات کو یوں اندر تک گھائل کر دینے والے نہیں ہوتے۔ خواہ وہ بہت بھاری آزمائشیں ہی کیوں نہ ہوں۔۔
جیسے
کوئی جان لیوا بیماری کا لاحق ہو جانا
کسی محبوب ہستی کا عدم راہی ہونا
کوئی معذوری ہونا
مال میں نقصان ہو جانا
اولاد کا نہ ہونا
وغیرہ

میں نے محسوس کیا کہ حیرت انگیز طور پر ان حادثات کو برداشت کرنے اور سہہ جانے کی ایک عجیب صلاحیت رکھی ہے ہم انسانوں میں ہمارے مہربان رب نے۔

لیکن ۔۔
یہ روئیے مار دیتے ہیں ۔
سچ کہتی ہوں
مار ہی دیتے ہیں ۔۔

ہم غربت بھی سہہ جائیں ۔۔

ہم محرومی بھی برداشت کر لیں۔۔
ہم نقصان بھی سہار لیں۔۔

ہم معذوری میں بھی مسکرائیں۔۔

ہم بیماری سے بھی لڑ جائیں۔۔

اگر

رویے مثبت ہوں تو۔۔

چاہے وہ اپنے رویے ہوں
یا
دوسروں کے

تحریر ام سلیمان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں