ا
تحریر:✒️ ڈاکٹر زاھدہ المسلمہ
نا للہ وانا الیہ راجعون
اللھم اغفر لہ و ارحمہ وعافہ واعف عنہ وادخلہ الجنۃ الفردوس
سمجھ نہیں آ رہی….. یہ لاک ڈاؤن کھلے گا تو علمی یتیمی کہاں تک سائے گہرے کر چکی ہوگی….!!!
آج صبح سے غم و اندوہ کی عجیب کیفیت ہے.
یقینا مفسر قرآن اپنے دور کے اہل قلم علماء کی شان تھے
اہل حدیث علماء میں علم و فتوی میں اسلاف کے منہج، معتدل فکر مگر مسلکی حمیت کے حامل عالم دین تھے.
آپ نے باطل افکار کو دین کے نام پر اسلام میں داخل کرنے والوں کو نہایت علمی اسلوب میں بر وقت جواب دیا.
اپنے قلم کو مثبت رکھتے ہوئے بھی باطل نظریوں کو زبردست انداز میں آڑے ہاتھوں لیا.
آپ بلاشبہ بیدار مغز مفکر اسلام تھے. جن کی تفسیر احسن البیان اور ترجمہ معانی القرآن کو اللہ تعالیٰ نے تلقی بالقبول عطا کیا. اور آپ کی قرآنی اور دیگر قلمی خدمات سے بلا تفریقِ مسلک عوام و خواص نے فائدہ اٹھایا.
مدرسہ تدریس القرآن والحديث وسن پورہ کے اکثر قومی سطح کے بڑے پروگراموں میں آپ کو کسی اہم موضوع پر دعوت خطاب دی جاتی، جسے آپ ہمیشہ شفقت کے ساتھ قبول فرما لیتے، ان کے لیے موضوعات میں سے خاص موضوع چنا جاتا. میں خود اس کو کئی پہلوؤں سے جانچتی کہ اس پر حضرت حافظ صاحب سب سے بہتر بیان کریں گے، اپ موضوع عمومی طور پر بہت خوشی سے لیتے، اور واقعی حق ادا کرتے.
حقیقت یہ ہے کہ وہ موضوع کو انہی خطوط پر بیان کرتے جو سوچے ہوتے تھے.
ختم نبوت پر نہایت شان دار تین روزہ پروگرام میں جن مقاصد کے پیش نظر محاضرات کا اہتمام کیا گیا تھا، حضرت حافظ صاحب نے انہی کا احاطہ کیا، دل خوش ہوگیا، ورنہ بعض خطابات کے بعد موضوع پر دوبارہ لیکچر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے.
ایک مرتبہ یونیورسٹی میں ایم ایس کی تحقیق کے لیے حدیث کا ایک موضوع دیا جو عربی ادب سے تعلق رکھتا تھا، بڑی مشکل سے بی او ایس سے منظور کروایا. بہر حال اللہ کی توفیق سے منظور ہوگیا. لیکن بعض شرکاء اجلاس کی شدید مخالفت کی بنا پر اہل علم سے رائے لینے کا سوچا. اگرچہ مجھے مکمل شرح صدر تھی، سو باہر سے دو جید اہل علم نے اس پر خوشی کا اظہار کیا، اور تائید کی، ان میں ایک ڈاکٹر ظہور احمد اظہر اور دوسرے محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب رحمہ اللہ تھے، گھر میں والد محترم الشیخ محمد عبد اللہ امجد چھتوی رحمۃاللہ علیہ اور بھائی ڈاکٹر عتیق امجد کی علمی توثیق پہلے ہی سےحاصل تھی،
اس لیے چار اہل علم کی موافقت کے بعد میرے اعتماد میں اضافہ ہوا.
اللہ تعالیٰ محترم مفسر قرآن کی دینی خدمات اور. شیطانی قوتوں کے خلاف ہمہ وقت اپنے قلم کو حرکت میں رکھنے پر انہیں اپنے. نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کی مصاحبت عطا فرمائے، خطائیں اور نسیان معاف فرمائے آمین. اور اپنی خاص رحمت سے ملت اسلامیہ کو ایسے یگانہ علماء کا نعم البدل عطا فرمائے، آمین