565

ایک ہوں مسلم ناموس رسالت کے لیے

تحریر شئیر کریں

ایک ہوں مسلم ناموس رسالت کے لیے
نبی کریم ﷺ کی شان میں ہرزہ رسائیاں ، کبھی خاکے تو کبھی کارٹون کی اشاعت یی سب کیا ہے؟کیا یہ اسرائیل کا ایجنڈا تو نہیں ہے۔اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جاۓ تو جن مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے یہ وہ ہیں جن کو ڈرایا دھمکایا گیا اور بالآخر انھوں نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔مگر جو مسلم ممالک جیساکہ پاکستان ابھی بھی اپنی بات پہ قائم ہے۔ان ممالک میں شر پھیلا کر ان کی حکومتوان کا تختہ الٹنے کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔

ناموس رسالت کے لیے ایک یونا کیوں ضروری ہے؟

فرانس کے خلاف دنیا بھر میں نفرت اور غم و غصے دیکھنے میں آ رہا ہے۔بڑے پیمانے پر ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ فرانس کے صد ر کو کہنا پڑا کہ بائیکاٹ نا کیا جاۓ۔
مسلم ممالک جو کہ 57 ممالک پر مشتمل ہے۔ابھی تک ان کے صرف دو ملکوں کے سربراہان کی طرف سے رد عمل آیا ہے۔جو کہ سخت تکلیف دہ ہے۔حالانکہ اس وقت امت کو ذاتی مفادات بھلا کر ایک ہونا چاہیے۔ناکہ چپ کی مہر لگا کر دشمن کا ساتھ دینا چاہیے۔ظلم کے خلاف چپ رہنے والا بھی اصل میں ظلم کا ساتھ دے رہا ہوتا ہے۔

دوسری طرف فرانس نے اپنے سفارت خانوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔توہین آمیز مواد کی تشہیر سے فرانس کی ذہنی پراگندگی کا اندازہ ہوتا ہے۔لیڈرز کا کام لوگوں کو متحد کرنا ہوتا ہے نا کہ شر پھیلانا۔سوال یہ ہے کہ یہ شر کیوں پھیلایا جا رہا ہے؟صرف اور صرف عوام کو بھڑکانے کے لیے۔دشمن جانتا ہے یہ امت ناموس رسالت ﷺ پہ کٹ مرے گی۔جب انکے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی جاۓ تو یہ چلتے پھرتے آگ کے گولے بن جاتے ہیں۔پھر اس آگ سے انہی کے اندر تباہی مچا کر شور مچاؤ کہ لوجی یہ ہیں مسلمان۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے فرانس کا اگلا قدم عمرا ن خان اور طیب اردگان ہیں۔جب لوگ توڑ پھوڑ کریں گے تو الزام ان دونوں پر ڈال کر پریشرائز کیا جاۓ گا کہ اسرائیل کو تسلیم کرو نہیں تو اپنے گھر کی راہ لو۔
اس کھیل میں بہت حکمت اور دانش کی ضرورت ہے۔صرف ردعمل شو نہیں کرنا۔ایسا ردعمل دکھانا ہے کہ گیم الٹ جاۓ۔عالمی سطح پر ایسی ہی حکمت عملی کی ضرورت یے۔جس نبی کی ناموس پہ حملے ہوں اور بار بار ہوں تو اس کے اوپر فرض عین ہے کہ وہ اس کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑی ہوں۔کیونکہ رسالت کا دفاع ام الحقوق میں سے ہے۔
پہلا کام فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ۔دوسرا سفیر کو باہر نکالنا اور ان دونوں سے بھی پہلا کام تمام عالم اسلام کو متحد ہونا ہے۔
ایک ہوں مسلم ناموس رسالت کے لیے۔یہ نعرہ نہیں مقصد حیات ہونا چاہیے۔ورنہ نہ دین کے رہو گےنہ دنیا کے ۔

ایک ہوں مسلم۔ناموس رسالت کے لیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں