522

بچوں کو نماز کی طرف کیسے لایا جائے؟

تحریر شئیر کریں

بچوں کو نماز کی طرف کیسے لایا جائے؟جانیے قلم کتاب پر

نماز دین کا ستون ہے نماز کے بغیر انسان مسلمان تو ہو سکتا مسلمان رہ نہیں سکتا،والدین اگر نمازی ہیں تو کچھ شک نہیں بچے کے جینز میں شام ہو گا نماز پڑھنا،بچے بہترین نقال یعنی کاپی کرنے والے ہوتے ہیں جب بچہ دو سال کا ہوتا ہے تو اپنے گھر کے ماحول سے سیکھنا شروع کر دیتا ہے نماز اذان وغیرہ کا تصور اسی عمر سے دماغ میں پنپنا شروع ہو جاتا ہے اور پانچ سال تک پہنچ کر مکمل ہو جاتا ہے۔اس عمر میں بچے کو ماں اپنے ساتھ جائے نماز پہ کھڑا کرنا شروع کر دے کچھ شک نہیں کہ وہ خود ہی کھڑا ہونا شروع ہو جائے گا

،میری بیٹی دو سال کی ہے اور وہ میرے ساتھ بھی اور میرے بغیر بھی نماز کی پریکٹس رکوع و سجود اور دعا کرتی ہے ایک اور مزے کی چیز جو اس نے مشاہدے سے سیکھی ہے وہ یہ کہ جب میں نماز پڑھتی تو نیچے دیکھتی،وہ بہت کوشش کرتی کہ میں اس کی طرف دیکھوں ،کبھی کبھی رونے بھی لگتی کہ مما دیکھ کیوں نہیں رہی؟پھر ایسا ہوا کہ گھر میں مہمان آئے تھے تو اس نے نماز پڑھنی شروع کر دی،مہمان اتنی بچی کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے پھر انھوں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے بلایا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی نا ہی آنکھ اٹھا کر دیکھا،میں یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئی ،اس نے میرے سے یہ بات سیکھ لی تھی کہ نماز پڑھتے کوئی بھی بلائے تو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا۔ماشاء اللہ الحمدللہ
بات ہو رہی تھی کہ بچوں کو نماز کی طرف کیسے لایا جا ئے؟


عملی تربیت

عمل کر کے دکھائیں یہ کسی بھی کام کو سکھانے سے پہلے لازمی کرنا ہوگا،پہلے کر کے دکھائیں پھر نصیحت کریں ،عموما کہا جاتا ہے کہ جب بچہ ون کلاس میں جائے تو ایک آسان نماز جیسا کہ مغرب کی عادت ڈالیں،جب ٹو میں ہو جائے تو دو نمازوں کی اسی طرح کرتے کرتے جب پانچویں میں جائے گا تو پانچوں نمازوں کی عادت ہو جائے گی،

نبی کریمﷺ کی سنت اور فن لینڈ کا نظام تعلیم

نبی کریم ﷺ نے سات سال سے نماز سکھانے کا حکم دیا ہے اور دس سال کے بعد معافی نہیں ہے تو پانچ سے دس سال کا وقت سکھانے کا ہےتعلیمی لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کا بہترین تعلیمی نظام فن لینڈ کا ہے مزے کی بات یہ کہ یہاں سات سال سے بچے کی تعلیم کا آغاز ہوتا ہے اور عملی طریقوں سے بچوں کو سکھایا جاتا ہے،ہو سکے تو سرچ کریں کہ فن لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف اور بہتر کیوں ہے؟

نرم رویہ اختیار کریں


پانچ سے دس سال تک کا عرصہ بچوں کی تربیت سازی کا ہے بچے کو نرمی محبت سے سکھایا جائے،مار پیٹ سے بچہ باغی اور دین سے بیزار ہوسکتا ہے،لحاظ حکمت سے کام لیں،نبی کریم ﷺ کافرمان ہے کہ “جو نرمی سے محروم رہا ہر بھلائی سے محروم رہا”آپ ﷺ کا اپنا طریقہ بھی یہی تھا،آپ ﷺ نے کبھی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے کام نہیں لیا،یہی وجہ ہے کہ قرآن آپ ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر آپ سخت مزاج ہوتے تو یہ لوگ آپ ﷺ کے قریب بھی نا آتے چونکہ آپ نرم خو تھے لحاظ لوگ بہت جلد آپ کے گرویدہ ہو جاتے تھے،ولیتلطف اور چاہیئے کہ نرمی کریں “یہ لفظ قرآن میں بڑا اور بولڈ کر کے لکھا ہوتا ہے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں قرآن آدھا ہوگیا ہے،جہاں تک مطلب کی بات ہے تو اگر آپ نرم خو ہیں تو بہترین کمیونیکیشن سکل کے حامل ہیں،جس کے پاس

کمیونیکیشن سکل ہے سمجھو آدھا کام ہوگیا،فرعون کے پاس جاتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہی نصیحت کی گئی کہ آپ نرمی سے پیش آنا،اگر والدین اور اساتذہ اس بات کو سمجھ لیں تو آدھی کامیابی اسی میں ہے۔ڈاکٹر صداقت پاکستان کے معروف سائیکاوجسٹ ہیں کہتے ہیں کہ اگر آپ نے بچے کو ڈانٹ دیا تو سمجھو تین ہفتے کا بریک آ گیا،اور جب بریک ہوتا ہے تو بات سمجھ آتی بھی ہے مگر الٹ،حکمت یہ ہے کہ گرم نہیں ہونا لہجہ نرم رکھنا ہے۔

بچوں کا قرآن سے تعلق


تعریف کریں


ڈاکٹر غزالہ موسی بھی ماہر نفسیات اور ماہر ایجوکیشن ہیں ان کی کتاب تعلیمی کامیابی کے راز مختلف سکولوں میں پڑھائی جا رہی ہے وہ کہتی ہیں کہ بچوں کو شاباش دیں ،تعریف کریں،تعریف مختصر نہیں بلکہ وضاحت کے ساتھ جیسا کہ بچے نے وضو کیا تو آپ نے صرف یہ نہیں کہنا کہ آپ نے کتنا اچھا وضو کیا ہے بلکہ کہنا ہے کہ آپ نے بہت اچھے طریقے سے وضو کیا ہے کہنیاں سے اوپر تک پانی ڈالا ہے تاکہ کہنیاں خشک نا رہیں اسی طرح ایڑھیوں اور مسح کی الگ الگ الفاظ میں تعریف کریں،جاوید چودھری پاکستان کے بہترین کالم نگار ہیں لکھتے ہیں کہ میں اسلام آباد میں کسی جگہ سے گزرا تو ٹھٹھک کے رک گیا اتنا خوبصورت پھولوں سے لدا ٹیرس میری آنکھوں کو خیرہ کیئے دے رہا تھا،میں نے اتنا خوبصورت ٹیرس نہیں دیکھا تھا سوچا تعریف ہی کردون،بیل دینے پر ملازم باہر آیا اور اس نے بتایا کہ اس کا صاحب گھر پہ نہیں ہے،جاوید چودھری کہتے کہ پھر آوں گا اپنے مالک سے کہنا کہ اتنا خوبصورت پھولوں سے لدا ٹیرس بنانے پہ ملنے آیا ہوں،

جاوید چودھری کوئی ایک ماہ بعد دوبارہ وہاں سے گزرے تو مالک کو منتظر پایا وہ کہتا میں روز آپ کا انتطار کرتا ہوںکیونکہ آپ پہلے شخص ہیں جس نے میری تعریف کی ہے ورنہ سارا محلہ اور گھر والے میرے اس شوق سے عاجز ہیں،اس شخص کی آنکھوں میں اپنے لئے اشتیاق اور محبت دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔تو سمجھ آیا کہ تعریف نا کرنے سے اور کرنے سے لوگوں کی نظروں ہی نہیں خود اپنی نظروں میں بھی ہم بلند ہو جاتے ہیں۔بچوں کو اسی ہتھیار سے زیر کیجئے۔تعریف اور خوش آمد میں فرق ہے تعریف وہ جو سچی ہو مگر جھوٹی اور خوش آمد نا ہو۔

نماز کی یاددہانی کیسے کروائی جائے؟


بچوں کو نماز کی طرف کیسے لایا جائے؟کے سلسلے میں اہم یہ ہے کہ بچے کو جب نماز کے وقت نماز کی یاد دہانی کروانے آئیں تو اکثر وہ چڑ جاتے ہیں کہ بار بار کیوں کہہ رہے تو اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بچوں کے پاس آئیں پوچھیں بیٹا کیا ہو رہا ہے پھر بازو پہ شرارت سے چٹکی کاٹیں اور کہیں نماز ۔۔نو لیٹ نو کمپرومائز۔۔۔۔سخت الفاظ اور سخت لہجہ دونوں سے بچنا ہے چاہے دسویں بار بھی کہنا پڑ جائے ہم عموما دوسری بار کہتے ہوئے چڑجاتےہیں کہ تمہیں سمجھ نہیں آ رہی ۔۔یہ طریقہ یہ الفاظ حکمت کے خلاف ہیں۔

دعا سے مدد

آنسان کے اوپر صرف کوشش ہے پھل لگانا مالک کا کام ہے لحاظ دعا کو وسیلہ بنائیں۔بچوں کے لیے دعا کریں کہ اللہ انھیں پکا نماز بنائے۔رب الجعلنی مقیم الصلاتہ ۔۔والی دعا کثرت سے کریں۔

ایکٹیوٹی


نماز جنت کی کنجی ہے اس طرح کی چھوٹی چھوٹی احادیث بچے کو یاد کروائیں جب وہ پانچ سا ل کا ہو جائے اور جب لکھنا شروع کرے تو خوبصورت کلر مارکرز سے کیلیگرافی کروائیں اور گھر میں آویزاں کریں۔یہ یادہانی بھی ہے تربیت بھی اور پریکٹس بھی۔بچے کو نماز کی طرف کیسے لایا جائے؟اس حوالے سے والدین کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں