بچے اور شکرگزاری
سورت العادہات میں اللہ تعالی نے انسان کو واضح طور پر ناشکرا کہا ہے یاد رکھیں ناشکری چھوٹا گناہ نہیں ہے یہ بڑے گناہوں میں سے ہے کوئی اللہ تعالی کے بے پایاں احسانات سے فائدہ تواٹھائے مگر اسے تسلیم نا کرے زندگی میں ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں جو احسان فراموش ہوتے ہیں قدردان نہیں ہوتے ایسے لوگوں سے دنیا والے جلدی بیزار ہوجاتے ہیں حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے جو اللہ کا شکرگزار نہیں ہوتا وہ بندوں کا بھی نہیں ہوتا۔شکرگزاری ایک باقاعدہ مضمون بن چکا ہے جسے سمجھا اور پڑھایا جا رہا ہے اس کے بے پناہ فوائد ہیں
بطور ماں بطورطاستاد آپ کا فرض ہے کہ
بچوں کے اندر شکر جیسی خوبی پیدا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں یہ کمی ہے بچوں سکولوں میں اس طرح کی تعلیم نہیں دی جاتی
جبکہ ویسٹ میں بچوں کو روزانہ سکول میں کہا جاتاہے کہ روزانہ پانچ چیزوں کا شکر ادا کریں اس سے نا صرف ان کے اندر شکر کی قابلیت پیدا ہوگی بلکہ حسد جیسی نگیٹو عادات کا بھی خاتمہ ہوتا ہے
بچوں سےکہیں کہ آپ کے پاس کتنی نعمتیں ہیں ان کو گنیں جیسا کہ
اللہ جی آپ کا شکریہ آپ نے مجھے والدین دیے
آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے مجھے بہن بھائی دیے
آپ کا بہت شکریہ آپ نے مجھے رہنے کے لیے گھر دیا
اور آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ مجھے کھانے کی اتنی ورائٹی دی
اسی طرح ایک جاربنائیں اور ہر روز جتنی چیزوں کے لیے شکر گزار ہوں ان کو لکھ کر جار میں ڈالتے جائیں پھر تمام فیملی کسی وقت اکٹھے ہوکر مل کر پڑھیں بچوں کو اس طرح کے خوبصورت سے جار بنا کر دیں یا ان سے بنوائیں اوپر Grattitude Jarلکھیں۔
تحقیقات سے پتہ چلتا ہے شکرگزار بچے بڑے ہوکر زیادہ ترقی کرتے زیادہ خوش رہتے زیادہ امیر ہوتے اور زیادہ سوشل ہوتے ہیں۔