461

بچے اور شکرگزاری

تحریر شئیر کریں

بچے اور شکرگزاری

سورت العادہات میں اللہ تعالی نے انسان کو واضح طور پر ناشکرا کہا ہے یاد رکھیں ناشکری چھوٹا گناہ نہیں ہے یہ بڑے گناہوں میں سے ہے کوئی اللہ تعالی کے بے پایاں احسانات سے فائدہ تواٹھائے مگر اسے تسلیم نا کرے زندگی میں ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں جو احسان فراموش ہوتے ہیں قدردان نہیں ہوتے ایسے لوگوں سے دنیا والے جلدی بیزار ہوجاتے ہیں حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے جو اللہ کا شکرگزار نہیں ہوتا وہ بندوں کا بھی نہیں ہوتا۔شکرگزاری ایک باقاعدہ مضمون بن چکا ہے جسے سمجھا اور پڑھایا جا رہا ہے اس کے بے پناہ فوائد ہیں

بطور ماں بطورطاستاد آپ کا فرض ہے کہ

بچوں کے اندر شکر جیسی خوبی پیدا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں یہ کمی ہے بچوں سکولوں میں اس طرح کی تعلیم نہیں دی جاتی

شکر کیوں ضروری ہے؟


جبکہ ویسٹ میں بچوں کو روزانہ سکول میں کہا جاتاہے کہ روزانہ پانچ چیزوں کا شکر ادا کریں اس سے نا صرف ان کے اندر شکر کی قابلیت پیدا ہوگی بلکہ حسد جیسی نگیٹو عادات کا بھی خاتمہ ہوتا ہے
بچوں سےکہیں کہ آپ کے پاس کتنی نعمتیں ہیں ان کو گنیں جیسا کہ
اللہ جی آپ کا شکریہ آپ نے مجھے والدین دیے

آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے مجھے بہن بھائی دیے
آپ کا بہت شکریہ آپ نے مجھے رہنے کے لیے گھر دیا

اور آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ مجھے کھانے کی اتنی ورائٹی دی

اسی طرح ایک جاربنائیں اور ہر روز جتنی چیزوں کے لیے شکر گزار ہوں ان کو لکھ کر جار میں ڈالتے جائیں پھر تمام فیملی کسی وقت اکٹھے ہوکر مل کر پڑھیں بچوں کو اس طرح کے خوبصورت سے جار بنا کر دیں یا ان سے بنوائیں اوپر Grattitude Jarلکھیں۔

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے شکرگزار بچے بڑے ہوکر زیادہ ترقی کرتے زیادہ خوش رہتے زیادہ امیر ہوتے اور زیادہ سوشل ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں