بیماری اللہ کی نعمت
حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ہمارے جد امجد اور تمام سامی مذاہب کے پیروکار اپنی۔نسبت ان کی طرف کرتے اور مانتے ہیں۔قرآن مجید میں ان کی دعا کا ذکر ہے جس کے الفاظ یہ ہیں
واذا مرضت فھو یشفین
“جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے”مطلب بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس کے اندر بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔جدید سائنس اس پہ کافی ریسرچ کر چکی ہے کہ کونسی بیماری کتنی مفید ہے۔
بخار ہی کی مثال لے لیں بظاہر یہ بیماری ہے مگر اس بات کی نشاندہی۔ فروری 2004 جرنل آف الرجی اینڈ کلینیکل امیونولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو بچے اپنے پہلے سال کے دوران بخار میں مبتلا رہتے تھے ان میں بچپن میں الرجی پیدا ہونے کا امکان ان بچوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے جنہیں بخار نہیں ہوتا تھا۔اسی طرح نزلہ زکام کا ہونا بھی باعث نعمت ہے ۔یہی معاملہ دیگر بیماریوں کا یے۔
سيدنا أبو هريرة رضي الله عنه کہتے ہیں کہ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا :
“مسلمان جب بھی کسی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو ﷲ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے!”
امام ابن تيمية رحمه الله فرماتے ہیں :
“بہت سے مریض بغیر دوا کے ہی شفایاب ہو جاتے ہیں ؛ محض دعا قبول ہو جانے سے یا نفع مند دم کی بدولت یا دل مضبوط رکھنے اور ﷲ پر کمال توکل کرنے سے.”
امام ابن القیم رحمه الله فرماتے ہیں :
“ﷲ کا ذکر، ﷲ کی طرف پلٹ جانا، لوٹ جانا، آزمائش آتے ہی نماز کی طرف لپکنا ؛ کتنے ہی بیمار محض اسی سے شفایاب ہو جاتے ہیں اور کتنے ہی مریضوں کو اسی سے عافیت نصیب ہو جاتی ہے.”
حافظ ابن رجب رحمه الله فرماتے ہیں :
“آسانی کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے ؛ کیونکہ آزمائش ہمیشہ نہیں رہتی !”
حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں :
“ﷲ تعالی اپنے دوستوں کیلیے از خود ہی آزمائشوں سے نجات کے اسباب مہیا فرما دیتا ہے. بعض دفعہ آزمائش لمبی اس لیے ہو جاتی ہے کہ ﷲ اپنے بندوں کی تربیت اور ان کے ثواب میں اضافہ کرنا چاہتا ہے.”
بیماری اللہ کی نعمت ہے۔شکر کریں اور اجر کمائیں۔