463

تاریخ میں پہلی باراسرائیلی پروازیں عربوں کی سرزمین پر

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔۔
اسرائیل کی پہلی پرواز تل ابیب سے ابوظہیبی پہنچ گئی ہے۔ اس پرواز میں پچاس کے قریب لوگ سوار تھے۔جہاز پر اسرائیل امریکہ اور یو اے ای کے پرچم لہرا رہے تھے۔جس پر امن کے لفاظ کندہ تھے۔
عربوں کی حدود میں اسرائیلی پرواز کا آغاز تاریخ کا ایک نیا موڑ ہے۔جو درحقیقت عربوں کی تباہی کا نقط آغاز ہے۔نبی کریم ﷺ کی پشین گوئی پوری ہونے جا رہی جو آپ ﷺ نے عربوں کے بارے میں ہے۔
’’ وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرِّ قَدِاقْتَرَبَ
“عربوں کے لیے تباہی ہےاس شر سے جو قریب آن پہنچا ہے۔”(بخاری کتاب الیقین)
جو جس کا مستحق ہوتا ہے وہ اس کو مل کر رہتا ہے۔عربوں نے گزشتہ نصف صدی سے جو روش اپنائی ہے۔وہ اب اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ملوکیت انکا جرم تھا ہی اب اپنے ازلی دشمن اسرائیل کو تسلیم کر کے خود اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کی دعوت دے رہے ہیں۔کون نہیں جانتا کہ یہودیوں کی مسلم دشمنی کتنی پرانی اور واضح ہے۔یہ ایسی کینہ پرور قوم ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔شاہ فیصل ہوں یا شاہ فہد سبھی اسرائیل کو ناجائز ریاست سمجھتے اور مانتے آۓ ہیں۔شاہ کے مشہور الفاظ اپنے بچوں کو تعلیم دو کہ مسجد اقصی قبضے میں ہیں۔اور یاد رکھو اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہیں۔
اسرائیل کو تسلیم کرنا لاکھوں فلسطینیوں کے خون میں اپنے ہاتھ رنگنا ہے۔اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطینیوں کا انکار کرنا ہے۔طیاروں پہ امن لکھنے سے امن نہیں ہو جایا کرتا۔امن کے لیے کرتوت بدلنا پڑتے ہیں۔اور یہودیوں کے منصوبے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں انکی پارلیمینٹ کے باہر لکھی تحریر سب پر عیاں ہے کہ وہ گریٹر اسرائیل کے لیے پوری دنیا کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔انکا ترانہ تک انکی جھوٹی اور نام نہاد امن کی قلعی کھولتا دکھائی دیتا ہے۔اس کے بعد بھی اگر کوئی عقل کا اندھا اسکی جارحیت پہ چپ رہ کر اسکو تسلیم کرتا ہے تو وہ پرلے درجے کا احمق ہے۔فلسطینی شاعر کی مشہور نظم” لاتصالح” چیخ چیخ کر کہہ رہی کہ قاتلوں سے صلح نہیں ہوا کرتی ۔یقین نہیں آتا تو ہٹلر کے الفاظ یاد کریں اس نے کہا تھا جو یہودی میں نے چھوڑ دیے ہیں وہ بتادیں گے کہ میں نے ان کا قتل عام کیوں کیا تھا۔
۔۔۔۔۔
مسلم ممالک اور خصوصا پاکستان جیسے ملک کے کو چاہیے کہ اس سلسلے میں ا پنا
کردار ادا کرے۔
ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں