537

تحفہ کیسے دیا جائے؟

تحریر شئیر کریں

تحفہ کیسے دیا جائے؟ جانیے قلم کتاب پر

“تحفہ دیا کرو اس سے محبت بڑھتی ھے۔”(المفہوم الحدیث)
تحفہ دینا سنت ھے۔لیکن کیا اپکو نھیں لگتا ھے کہ اجکل اس سنت پہ عمل کم ھوتا جا رہا ھے۔وجہ ہمارا بڑھتا ہوا معیار زندگی ھے۔
تحفہ تو چھوٹا بھی ہو سکتا ھے جیسے کوئی pen ،سکارف،حتی کہ کوئی خوبصورت پودا بھی
تحفے کے بارے میں ہمارے دو الگ رویے ہیں۔تحفہ دیتے ہوئے ہم وہ چیز دیتے ہیں جو ھمیں پسند نہیں ہوتی یا وہ جو out of fashion ہو جاتی ھے۔لیکن جب ھمیں کوئی تحفہ دیتا ھے تو ہم اس میں خلوص نہیں قیمت یا برینڈ کو دیکھتے ھیں۔خلوص کی قیمت نہیں ہوتی۔اور کچھ لوگ تو منہ پہ ہی نا پسندیدگی کا اظہار کر دیتے ھیں بہت ہی غلط رویہ ہیں دینے والے کی بھی توہین کر دیتے نہیں۔

جب میں نے مورنگا استعمال کیا


نتیجہ محبت بڑھنے کی بجائے دل مزید دور ہو جاتے ھیں۔دونوں رویوں میں تبدیلی
کی ضرورت ھے۔جدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ بہترین اسلام یہ کہ۔ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرو جو خود کرتے ہو، نمودونمائش اور دکھاوا ریاکاری میں آتا ہے جو بذات خود ایک بڑے گناہ۔ کا۔ دروازہ کھولتا ہے۔
بنیادی مقصد محبت اور دوریوں کو مٹانا ھے۔
تحفہ چاہیے بڑا نہ ھو لیکن خلوص ہو۔خلوص اور دیانت داری سے بنائے گئے رشتے ہی۔ پروان۔ چڑھتے ہیں۔
ایسے رشتوں میں اسکی ضرورت اور بھی زیادہ ہوتی ھے جہاں غلط فہمیاں جلدی پیدا ہونے کا ڈر ھوتا ھے۔
تحفہ دیا کریں تاکہ یہ خوبصورت سنت ژندہ رہے۔ا

کچھ نا بھی ہو تو مسکراہٹ بھی ایک تحفہ ہے۔ مسکراتے چہرے خوشی اور امید پیدا کرتے ہیں۔ یورپ آج اسی حدیث پہ عمل پیرا ہو۔ کر بزنس کی دنیا میں لیڈ کر رہا ہے۔ لہذا تحفہ جو بھی خلوص شرط ہے

تحفہ کیسے دیا جائے؟یہ آرٹ ہے جسے سییکھے پائیدار تعلق نہیں بنا۔سکتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں